حياة المسلمين وحقوقهم المهضومة تحت قانون دوتيرتي العسكري في مينداناو (مترجم)
حياة المسلمين وحقوقهم المهضومة تحت قانون دوتيرتي العسكري في مينداناو (مترجم)

الخبر: أعرب المحامون في لاناو ديل سور في الفلبين عن "غضبهم الشديد" إزاء انتهاكات القانون العسكري في مدينة ماراوي، في مينداناو ذات الأغلبية المسلمة حيث يبلغ عدد سكانها حوالي 200 ألف شخص. أعلن الرئيس الفلبيني رودريجو دوتيرتي القانون العسكري في المقاطعة بعد يوم واحد من الحصار المميت الذي يفترض أن تنظيم الدولة قد فرضه على ماراوي. فقد "أعرب المحامون في الـ(IBP) - المنظمة الوطنية للمحامين في الفلبين - في مدينة لاناو ديل سو عن غضبهم العارم وإدانتهم الشديدة لعمليات التفتيش والمصادرة غير القانونية التي تجري في ماراوي من قبل عسكريين وأفراد الشرطة وغيرهم من وكالات تنفيذ القانون والتي تؤدي إلى فقدان وحرمان المدنيين الأبرياء من أملاكهم وممتلكاتهم". وفقاً لما ذكره الموقع الإخباري "رابلر" في 10 حزيران/يونيو. ...

0:00 0:00
Speed:
June 19, 2017

حياة المسلمين وحقوقهم المهضومة تحت قانون دوتيرتي العسكري في مينداناو (مترجم)

حياة المسلمين وحقوقهم المهضومة

تحت قانون دوتيرتي العسكري في مينداناو

(مترجم)

الخبر:

أعرب المحامون في لاناو ديل سور في الفلبين عن "غضبهم الشديد" إزاء انتهاكات القانون العسكري في مدينة ماراوي، في مينداناو ذات الأغلبية المسلمة حيث يبلغ عدد سكانها حوالي 200 ألف شخص. أعلن الرئيس الفلبيني رودريجو دوتيرتي القانون العسكري في المقاطعة بعد يوم واحد من الحصار المميت الذي يفترض أن تنظيم الدولة قد فرضه على ماراوي. فقد "أعرب المحامون في الـ(IBP) - المنظمة الوطنية للمحامين في الفلبين - في مدينة لاناو ديل سو عن غضبهم العارم وإدانتهم الشديدة لعمليات التفتيش والمصادرة غير القانونية التي تجري في ماراوي من قبل عسكريين وأفراد الشرطة وغيرهم من وكالات تنفيذ القانون والتي تؤدي إلى فقدان وحرمان المدنيين الأبرياء من أملاكهم وممتلكاتهم". وفقاً لما ذكره الموقع الإخباري "رابلر" في 10 حزيران/يونيو.

وقالوا إن الجيش الفلبيني والشرطة الفلبينية قد ارتكبا "تجاهلاً فاجعاً ووحشياً لحرمة المنازل، والحق في الحرمان من الممتلكات دون اتباع الإجراءات القانونية الواجبة، واستهتاراً بأمن الأشخاص ومنازلهم، وخلفا آثاراً جراء عمليات الدهم والتفتيش غير المبررة وانتهكا خصوصية الاتصالات والمراسلات بين المدنيين الأبرياء". وأضاف المحامون أن شكاواهم هذه استندت إلى "معلومات وبيانات جديدة ومباشرة من ميدان المعركة"، حيث تم تجميع هذه المعلومات منذ بداية تنفيذ القانون العسكري في 23 أيار/مايو.

وأكدت مراسلة الجزيرة جميلة أليندوغان أن السكان الذين فروا في البداية ويريدون العودة إلى المدينة، قد تم إيقافهم من قبل القوات العسكرية. وقالت: "يجري فرض القانون العسكري هنا وعبر جزيرة مينداناو بأكملها، كل الأشخاص يخضعون للتحقيق حتى الأطفال".

التعليق:

من الواضح أن قانون دوتيرتي العسكري العلماني هو جزء من إذعانه للأجندات الأمريكية ضد تنظيم الدولة ويعكس أيضاً موقفه الأخلاقي ضد المسلمين، بما في ذلك النساء المسلمات. حتى إنه سابقاً قد أعطى جنوده تفويضاً مطلقاً من أجل ارتكاب أفظع الجرائم، وهذا سيتحمل مسؤوليته إذا كان جنوده ينتهكون حقوق الناس في مينداناو، بما في ذلك جرائم الاغتصاب. قال دوتيرتي "إذا اغتصبت ثلاث (نساء)، سأكون الشخص الذي يعترف بأنه أنا". هذا هو مثال الحضارة الغربية حيث يتولى رجل دنيء شؤون الناس.

في الوقت الحالي، إذا تم النظر في سياق أوسع، فقد أصبح المسلمون دائماً ضحايا لا تؤخذ بالاعتبار في كل مشاريع مكافحة "الإرهاب" على الصعيد العالمي. فقد قتلت الحروب الغربية أربعة ملايين مسلم منذ عام 1990. ويثبت البحث البارز أن الحرب على الإسلام بقيادة أمريكا قد أسفرت عن مقتل ما يصل إلى مليوني شخص. ولكن هنالك جزءاً من المسؤولية الغربية عن الوفيات في العراق وأفغانستان على مدى العقدين الماضيين. فالمسلمون دائماً ما يكونون ضحايا لا تؤخذ بالاعتبار باسم الحرب على "الإرهاب".

لماذا حياة المسلمين (أمة محمد r) ليس لها قيمة في هذا العصر الحديث؟ بينما قال الرسول r: «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ» رواه النسائي؟!

لا شيء مختلف مع إخوتنا وأخواتنا في مدينة مراوي، وهم معروفون بمسلمي مورو. وباعتبارها محسوبة على البلاد غير الإسلامية التي يكون التمييز فيها ضد المسلمين قوياً جدا، فإن مسلمي مورو في جنوب الفلبين ليسوا استثناء. وبالمقارنة مع الرعايا غير المسلمين فإن الكثير من المسلمين الذين يقطنون جزيرة مينداناو يعيشون تأخرا في حياتهم إذا ما قورنوا بهؤلاء. وذلك لأن الحكومة الفلبينية تعتبرهم متمردين. وعلى الرغم من أن المنطقة هي الأكثر خصوبة وغنى بالموارد الطبيعية في الفلبين إلا أن الحقائق تظهر بأن هذه المنطقة أصبحت الأفقر في البلاد حيث لا تطور فيها، بعد الصراع الذي بدأ قبل أربعة عقود. وقد حظرت الحكومة الفلبينية المسلمين من الحكم على أرضهم أو التحكم في ثرواتها.

في الآونة الأخيرة تحت قيادة دوتيرتي أصبح النظام أكثر وحشية ضد المسلمين تحت ذريعة مكافحة "الإرهاب". وعلى مدى عقود كانوا بمثابة ضحية عاجزة أمام حاكم كافر جشع سُمح له بالوجود من قبل نظام عالمي يمارس التمييز ضد المسلمين. وما دام هذا النظام العالمي قائما على حاله، فإن معاناة أمة محمد rستستمر بلا شك ولن تنتهي أبدا. وذلك لأن المشكلة الجذرية وراء هذه المعاناة ليست إلا غياب الخلافة على منهاج النبوة درع المسلمين التي من شأنها القضاء على هيمنة الكفار على المسلمين وحماية شرف وكرامة النساء المسلمات وأطفال المسلمين في جميع أنحاء العالم الإسلامي. ولنتذكر حديث رسول الله r: «إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ» (رواه مسلم)

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست