حزب العدالة والتنمية الذي حمى علي إرباش، يحمي اتفاقية إسطنبول أيضا!
حزب العدالة والتنمية الذي حمى علي إرباش، يحمي اتفاقية إسطنبول أيضا!

الخبر: خلال أول جمعة من شهر رمضان، قال رئيس الشؤون الدينية علي إرباش إن "الإسلام يقر بكون الزنا واحداً من أعظم الحرمات، ويلعن أهل اللواط، والشذوذ الجنسي، وهذه المحرمات تسبب الأمراض، ومن الضروري أن نقاتل معا لحماية الناس من هذا النوع من الشر".

0:00 0:00
Speed:
May 08, 2020

حزب العدالة والتنمية الذي حمى علي إرباش، يحمي اتفاقية إسطنبول أيضا!

حزب العدالة والتنمية الذي حمى علي إرباش، يحمي اتفاقية إسطنبول أيضا!
(مترجم)


الخبر:


خلال أول جمعة من شهر رمضان، قال رئيس الشؤون الدينية علي إرباش إن "الإسلام يقر بكون الزنا واحداً من أعظم الحرمات، ويلعن أهل اللواط، والشذوذ الجنسي، وهذه المحرمات تسبب الأمراض، ومن الضروري أن نقاتل معا لحماية الناس من هذا النوع من الشر".

التعليق:


أولاً، ردت نقابة حقوق الإنسان ثم نقابات المحامين في أنقرة، وأزمير، وديار بكر، وشانلي أورفا على هذه الكلمات التي استخدمها علي إرباش في الخطبة. كما رد نائب الرئيس العام لحزب الشعب الجمهوري غوكتشي غوكشين. وقد هاجمت هذه المؤسسات الإسلام وقيمه عن طريق علي إرباش في بياناتها الخطية والشفوية. ورد المسلمون على تصريحات هذه المؤسسات العلمانية عبر وسائل التواصل وأيدوا كلمات علي إرباش. كما دعم أردوغان علي إرباش، وقال "على الجميع أن يعرفوا مكانتهم، لأن الهجوم على رئيس الشؤون الدينية هو هجوم على الدولة".


نحن بحاجة هنا إلى معالجة هذه المسألة بعدة أبعاد:


أولاً: المسألة المتعلقة بعلي إرباش، هي أنه أعلن حكم الإسلام في خطبته. فالإسلام حرم الزنا، ولعن وحرم الشذوذ الجنسي، وفرض عقوبة عليهما. ومع ذلك، لم يذكر علي إرباش ذلك؛ لأن الدولة هي التي تفرض العقوبة. الدولة التي ينتمي إليها علي إرباش هي دولة ديمقراطية علمانية. لقد سمح الحكام في الدولة الديمقراطية العلمانية بالزنا وأضفوا الشرعية على الشذوذ الجنسي. وبعبارة أخرى، فإن هذه الدولة لا تعتبر الزنا جريمة ولا تفرض عقوبة عليه. وبالطريقة نفسها، فإنه لا يلعن الشذوذ الجنسي ولا يحظره ولا يعاقب عليه. هذه الأعمال هي في نطاق الحريات الشخصية للناس، ليعيش الجميع كما يشاء، كما تقول هذه الدولة العلمانية. ومع ذلك، فإن الدولة نفسها تسجن أولئك الذين يتزوجون وينشئون عائلة من خلال الزواج المبكر! لذا، كان على علي إرباش أيضاً أن يدعو الدولة والحكام في تلك الخطبة، إذا كان صادقاً في كلامه، أن يدعو الحكام لحظر الزنا والشذوذ الجنسي والقمار والخمور. وعليه أن يقول إن هذه الدولة التي تتجاهل أحكام الإسلام وتتعدى على حدود الله هي دولة كفر. إذا فعل علي إرباش ذلك، فإننا سنشهد أنه مسلم وعالم مخلص، وإذا لم يفعل ذلك، فسيبقى شخصاً يحقق رغبات دولة الكفر العلمانية، وهذا عار عليه في الدنيا وفي الآخرة.


ثانياً: القضية المتعلقة بالرئيس كونه في المقام الأول وجميع الحكام الذين دعموا علي إرباش... إن نفاق الحكام في هذه القضية واضح. لقد أيد العديد من النواب السابقين والجدد والوزراء القدامى والجدد علي إرباش. وكان النواب أنفسهم قد وافقوا على القانون الذي يسمح بالزنا، الذي ذكره علي إرباش. وبالطريقة نفسها، وافقوا على القانون الذي يعترف باتفاقية إسطنبول. ووقع العديد من الوزراء، بمن فيهم وزيرا العدل السابق والجديد، على الممارسات التي تفي بمتطلبات اتفاقية إسطنبول هذه وتولد الضحايا. هؤلاء الحكام، الذين تسببوا في تفكك الأسر، أضفوا الشرعية على أنشطة المنظمات المثلية وسمحوا بتجمعاتهم. ويأتي أردوغان في المرتبة الأولى بين هؤلاء الحكام. إن الدعم الذي قدمه لعلي إرباش مزيف ولا شيء غير سياسة شعبوية ذات اهتمام ذاتي بعيدة كل البعد عن الإخلاص. ما لم يذكره علي إرباش في خطبته، هو أن الدولة التي يحكمها أردوغان اليوم، هي التي تدوس على جميع أحكام الإسلام. إن دعم أردوغان لعلي إرباش الذي يقول "الزنا حرام"، في حين إن الدعارة مسموح بها رسمياً من الدولة، ليست سوى نفاق. إن القول "الهجوم على رئيس شؤؤننا الدينية هو اعتداء على الدولة"، في حين إن اتفاقية إسطنبول لا تزال سارية، فالدولة تحميها كما لو كانت قانوناً مقدساً، وفي حين إنها غير قادرة حتى على لمس فاصلة في هذه الاتفاقية، إلا أنها ليست أكثر من حماية الدولة وتجاهل حكم الإسلام.


ثالثاً: الشعب المسلم الذي يدعم علي إرباش، أيد أحكام الإسلام، وبمواقفهم، أغضبوا أيضاً أعداء الإسلام الكماليين العلمانيين. ومع ذلك، يجب أن يعرف المسلمون أن أحكام الإسلام اليوم لا يتم تنفيذها، والزنا مسموح، والربا ينتشر بأقصى سرعة، والدولة تقر بالربا والمصلحة أمام الديانة وتزيد من كميتها حتى أصبح الحرام واسع الانتشار، وتدعو الدولة الشباب للمقامرة وتضفي الشرعية على ألعاب الرهان... هذا ما يحتاج المسلمون لرؤيته، ولا ينبغي أن يسمحوا للدولة بنشر أحكام الكفر بشكل أكبر. إن العلمانية كفر، والديمقراطية كفر، ولا ينبغي للمسلمين أبداً أن يقتربوا من هذه الأنظمة. يجب على المسلمين العمل من أجل إقامة الدولة التي ستنفذ قواعد وأحكام الإسلام، أي دولة الخلافة الراشدة.


وأخيرا تصف هذه الآية حال العلمانيين الكماليين بشكل جيد: يقول سبحانه وتعالى: ﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاء مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست