حزب العدالة والتنمية الذي خان غزة تكبّد خسارة كبيرة في الانتخابات المحلية
حزب العدالة والتنمية الذي خان غزة تكبّد خسارة كبيرة في الانتخابات المحلية

الخبر: في الانتخابات المحليّة التي أجريت في 31 آذار/مارس، مُني تحالف الشعب، الذي يضمّ حزب العدالة والتنمية وحزب الحركة القومية، بخسارة كبيرة. وفي الانتخابات المحلية التي أجريت في 31 آذار/مارس في ظلّ المذبحة في غزة والأزمة الاقتصادية في تركيا، أصبح حزب الشعب الجمهوري الذي فاز بـ35 بلدية، 14 منها بلدية حضرية، هو الحزب الذي حصل على أكبر عدد من الأصوات في جميع أنحاء تركيا. وبينما تراجع حزب العدالة والتنمية إلى المركز الثاني للمرة الأولى، كان الانخفاض في معدل إقبال الناخبين ملحوظاً أيضاً. (وكالات، 2024/04/03م)

0:00 0:00
Speed:
April 09, 2024

حزب العدالة والتنمية الذي خان غزة تكبّد خسارة كبيرة في الانتخابات المحلية

حزب العدالة والتنمية الذي خان غزة تكبّد خسارة كبيرة في الانتخابات المحلية

(مترجم)

الخبر:

في الانتخابات المحليّة التي أجريت في 31 آذار/مارس، مُني تحالف الشعب، الذي يضمّ حزب العدالة والتنمية وحزب الحركة القومية، بخسارة كبيرة. وفي الانتخابات المحلية التي أجريت في 31 آذار/مارس في ظلّ المذبحة في غزة والأزمة الاقتصادية في تركيا، أصبح حزب الشعب الجمهوري الذي فاز بـ35 بلدية، 14 منها بلدية حضرية، هو الحزب الذي حصل على أكبر عدد من الأصوات في جميع أنحاء تركيا. وبينما تراجع حزب العدالة والتنمية إلى المركز الثاني للمرة الأولى، كان الانخفاض في معدل إقبال الناخبين ملحوظاً أيضاً. (وكالات، 2024/04/03م)

التعليق:

لقد تمّ إجراء عملية انتخابية أخرى، حيث تفوز ديمقراطية الغرب دائماً في النهاية، بغضّ النظر عن مؤهلاتها. ظلّ الشعب التركي منشغلاً منذ أشهر بالانتخابات المحلية المقرر إجراؤها في 31 آذار/مارس. منذ بداية عام 2024 تقريباً، كانت هذه الانتخابات هي الأجندة الرئيسية الوحيدة للجمهور. إنّ التحالفات الانتخابية العلنية والسرية بين الأحزاب السياسية ومفاوضات المساومات والمناقشات والمشاجرات أثناء تسمية المرشّحين والمشاهد المخزية التي ظهرت أثناء العملية الدعائية أظهرت مرةً أخرى الوجه القبيح للانتخابات الديمقراطية التي ترى أنّ كل أسلوب مباح من أجل المصلحة الذاتية.

ومع الانتخابات الرئاسية التي جرت في أيار/مايو من العام الماضي، تمّ إخفاء زلزال 6 شباط/فبراير، والحطام والدّمار والصرخات والمشردين والخسائر. ومن ناحية أخرى، في الانتخابات المحلية التي أجريت في 31 آذار/مارس، حاولوا أن يجعلونا ننسى غزة، وحاولوا التغطية على الأزمة الاقتصادية، وتجاهلوا التضخّم وتكاليف المعيشة. وخاصةً وسائل الإعلام والصحفيون والكتاب وجيوش المتصيدين وحتى بعض العلماء كانوا منشغلين بمصالح الأحزاب والقادة والسياسيين، وليس شؤون المسلمين. لقد دعوا المسلمين إلى صناديق الاقتراع بـ"وعي عبادة"، إذا جاز التعبير، بقولهم إن 30 عاماً من المكاسب المزعومة لا ينبغي أن تضيع هدراً ولا ينبغي للمسيرة أن تتوقف.

لكنّ الحسابات هذه المرة لم تنجح. فإلى جانب 8 ملايين و886 ألف شخص لم يذهبوا إلى صناديق الاقتراع في الانتخابات المحلية لعام 2019، أضيف إليهم 4 ملايين و358 ألف شخص آخرين في هذه الانتخابات، حيث إن حوالي 13 مليون ونصف المليون شخص لم يذهبوا إلى صناديق الاقتراع. ووفقاً للحكومة والعديد من شركات الاستطلاع، فإنّ غالبية الذين لم يشاركوا في الانتخابات كانوا من أنصار حزب العدالة والتنمية. ورغم أنّ لا أحد يريد التطرق إليه، فلا شكّ أنّ السبب الأهم لهذا التمزّق الفكري في القاعدة الحاكمة هو التخلي عن غزة والاستمرار الوقح والمخزي في التجارة مع كيان يهود على حساب خيانة فلسطين.

لذلك، لم يفز حزب الشعب الجمهوري الكمالي المعادي للإسلام في الانتخابات، وخسر حزب العدالة والتنمية، الذي ظلّ في السلطة لمدة 22 عاماً، وخسر الحزب السياسي الذي كان يسيطر على جميع البلديات الكبرى تقريباً في تركيا لمدة 30 عاماً. وخرج غضب كبير ورد فعل على الحكومة من صناديق الاقتراع. ومن صناديق الاقتراع جاء ردّ الفعل ليس فقط على الحكومة، بل أيضاً على النظام الرأسمالي الذي عفا عليه الزمن الذي لا يفيد المسلمين، ويطغى على المظلومين ويحمي الظالم، ولا يحمي حقوق الفقراء، ويحمي الأغنياء، ورأس المال أكثر.

كان هناك رد فعل صادم على السياسيين المتغطرسين الذين يحتقرون الشعب ويذلونه، على القادة المخمورين بالسلطة ولا يرون حال العمال والمتقاعدين والفقراء من مساحاتهم الفخمة والمريحة، على العقلية التي تعتبر التبذير والبهرج كالهيبة وهو عبد للتجارة والمصالح والمال.

ووجهت رسالة مهمة إلى الأحزاب المحافظة وقادتها الذين يُعطون الأولوية للقيم الغربية على الرغم من شعب الأناضول، الذين يعتزون بالهوية الكمالية للعلمانيين بدلاً من الهوية الإسلامية للمسلمين، والذين يحاولون أن يكونوا كماليين أكثر من العلمانيين من خلال الشعور وعقدة النقص التي تبارك الجمهورية أكثر منهم. والأهم من ذلك، بينما كانت غزة تحتضر، بينما كانت غزة مدمرة بالكامل، بينما كان شعب غزة يتعرض للإبادة الجماعية، ظهرت ردود أفعال تجاه المرشحين عديمي الروح الذين قدموا برامج ترفيهية بأغان في ساحات التجمع.

خلاصة القول، تظهر نتائج الانتخابات أنّ الشعب بعث بالرسالة التالية إلى الحكومة: "إذا لم تحموا الحقوق والقانون، إذا ابتعدتم عن العدالة، إذا كنتم تحمون الأغنياء وليس الفقراء، إذا تخليتم عن العمال والمتقاعدين، إذا ذهبتم وراء الإيجارات والمصالح، سنفعل ما هو ضروري، إذا بقيتم غير مبالين تجاه غزّة، إذا لم تتخذوا خطوات من أجل غزة، وإذا واصلتم التجارة مع القتلة سنطلب منكم دفع ثمنها في صناديق الاقتراع. إذا كنتم لا تفكرون في حياة أطفال غزة، بل في أموال وأرباح الشركات، فسنصوت لإقصائكم من منصبكم".

ولكن هل ستتعلم الحكومة وأنصارها من هذه الهزيمة ويوجهون أنظارهم للإسلام والمسلمين؟

على ما يبدو، لن يفعلوا ذلك. لأنهم يقولون مرةً أخرى إنّ خرافة الديمقراطية قد انتصرت. ويقولون بلا خجل إنهم سيواصلون العمل بما يتماشى مع أهداف مصطفى كمال. إنهم يستمعون إلى أمريكا، وينتظرون كلام الرئيس الأمريكي فيما يتعلق بغزة وقضايا الأمة الأخرى. لأنهم أسيادهم، لأنهم من يضعونهم في مناصبهم متى يشاؤون، ويطيحون بهم متى يشاؤون. ولذلك، لم ينفع المسلمين النظام الديمقراطي ولا انتخاباته، ولن ينفعهم.

ويجب على كل مسلم أن يعمل من أجل إقامة الخلافة، التي هي شكل الحكم في الإسلام. لأن الخلافة ستجمع الفرد والمجتمع والدولة حول فكرة واحدة وهدف واحد، وستحرّر فلسطين وجميع بلادنا المظلومة، وتحكم بالعدل بين الناس، وتصل الأمة الإسلامية إلى عزتها التي تستحقها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست