حزب السعادة التركي ينتقد أردوغان على كتابه الجديد "عالم أكثر عدلا ممكن"
حزب السعادة التركي ينتقد أردوغان على كتابه الجديد "عالم أكثر عدلا ممكن"

  الخبر: انتقد رئيس حزب السعادة التركي تمال كرم الله أوغلو الاثنين الماضي الموافق 2021/09/27، انتقد الكتاب الجديد لأردوغان الذي يتحدث فيه عن عالم أكثر عدلا، وقال كرم الله أوغلو إن على أردوغان الذي أصدر كتابا بعنوان "عالم أكثر عدلا ممكن"، عليه أن يؤسس العدل أولا في بلاده وأن يطبقه، وقال: "لا يمكنك إقامة العدل بتأليف كتاب ولا يمكنك إقامة العدل بسن القوانين دون تطبيقها"، وأضاف "إن العدل ليس عملا يتحقق بالخطابات الرنانة وإنما بالممارسة الفعلية".

0:00 0:00
Speed:
September 30, 2021

حزب السعادة التركي ينتقد أردوغان على كتابه الجديد "عالم أكثر عدلا ممكن"

حزب السعادة التركي ينتقد أردوغان على كتابه الجديد "عالم أكثر عدلا ممكن"


الخبر:


انتقد رئيس حزب السعادة التركي تمال كرم الله أوغلو الاثنين الماضي الموافق 2021/09/27، انتقد الكتاب الجديد لأردوغان الذي يتحدث فيه عن عالم أكثر عدلا، وقال كرم الله أوغلو إن على أردوغان الذي أصدر كتابا بعنوان "عالم أكثر عدلا ممكن"، عليه أن يؤسس العدل أولا في بلاده وأن يطبقه، وقال: "لا يمكنك إقامة العدل بتأليف كتاب ولا يمكنك إقامة العدل بسن القوانين دون تطبيقها"، وأضاف "إن العدل ليس عملا يتحقق بالخطابات الرنانة وإنما بالممارسة الفعلية".

التعليق:


لقد نشر موقع (تي آر تي عربي) بعض الأفكار التي ذكرها أردوغان في كتابه "عالم أكثر عدلا ممكن"، ومن ضمنها ما يلي: "ضرورة إلغاء حق النقض الفيتو في مجلس الأمن الدولي وتفعيل دور الأمم المتحدة التي تمثل معظم الدول تقريباً، من أجل تحقيق عدالة عالمية حقيقية وشاملة، ويشير أردوغان في كتابه إلى أن خلاص العالم وسعادته يكمنان في تطبيق العدالة، في عالم يصبح به المحق قوياً وليس القوي محقاً، بما لا يخلو من نبرة استنكارية لقرارات دول مجلس الأمن الخمس دائمة العضوية التي تشوبها ازدواجية المعايير، ويقول أردوغان في الكتاب أيضاً إن "العدالة واحدة من أكثر القضايا المطلوبة في جميع أنحاء العالم اليوم. ولكن المؤسسات المسؤولة عن إقامة العدل العالمي تعيش للأسف حالة جمود قاتلة"، مضيفاً: "في عصر فقد رحمته، تقع على عاتقنا مسؤولية أن نكون ممثلين للعدالة وصوت الضمير". انتهى الاقتباس.


لا شك أن البشرية اليوم تعاني من ظلم شديد لا مثيل له بعد أن تسلطت الدول الرأسمالية على شعوب العالم وطبقت عليها النظام الرأسمالي الظالم، ما جعلها تعيش حياة ضنك لم يشهد لها التاريخ مثيلا، حيث قامت هذه الدول باستعمار دول العالم وبالأخص بلاد المسلمين المعروفة بثرواتها التي لا تعد ولا تحصى، فسلبت خيراتها، واستعبدت أبناءها وأفقرتهم، وجعلت من بلادهم ساحة لحروبها ومختبرات لأسلحتها، فأهلكت الحرث والنسل، فالدول الرأسمالية لا تستطيع العيش إلا على دماء وأشلاء الشعوب الأخرى، بينما شعوبها تعيش نوعا ما في بحبوحة ورغد من العيش لا يعكر صفوهم شيء، إذن صحيح أن العالم بحاجة إلى نظام ينشر العدل ويعمل على إنصاف الناس دون نظر إلى معتقداتهم وقومياتهم وألوانهم، يأخذ الحق من الظالم إلى المظلوم ويوقفه عند حده حتى ولو كان الظالم هو رأس الدولة والمظلوم عامل نظافة، نظام لا يحابي أحدا ولا يجامل أحدا ولا حصانة فيه لأحد، نظام يخضع له الحاكم قبل المحكوم، ويعلو ولا يُعلى عليه، والكل عنده سواء، وهذا النظام لا يمكن أن يكون إلا من عند الله سبحانه وتعالى خالق الكون والإنسان والحياة، وهو سبحانه أحكم الحاكمين.


وقد ثبت وتحقق عدل الإسلام بشكل عملي عندما طبقته دولة الإسلام الأولى عندما كان رسول الله ﷺ على رأس الدولة، وطَبق الإسلام كما أُنزل عليه على جميع رعايا الدولة مسلمين وغير مسلمين، بل حذر المسلمين مِن ظلم أهل الذمة فقال عليه الصلاة والسلام: «ألاَ مَنْ ظَلَمَ مُعاهَداً أوِ انْتَقَصَهُ حَقّهُ أوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طاقَتِهِ أوْ أخَذَ مِنْهُ شَيْئاً بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ فأَنا حَجِيجُهُ يَومَ القِيامَةِ»، وسار خلفاؤه من بعده على الطريق نفسه، ولعل مقولة قائد الفرس لعمر بن الخطاب "حكمت فعدلت فأمنت فنمت" معروفة للجميع، وهي شهادة من كافر بحق الإسلام وخلفاء المسلمين أنهم كانوا عادلين. وإن مؤلف كتاب قصة الحضارة ويل ديورانت ذهب إلى أبعد من ذلك فقال: "لقد كان أهل الذمة المسيحيون والزرادشتيون واليهود والصابئة يتمتعون في عهد الخلافة الأموية بدرجة من التسامح لا نجد لها نظيرا في البلاد المسيحية في هذه الأيام، لقد كانوا أحرارا في ممارسة شعائر دينهم واحتفظوا بكنائسهم ومعابدهم".


ولكن راية العدل هذه سقطت حين أسقطت دولة الخلافة، يوم تكالبت عليها الدول الغربية التي تكره العدل والحق وأخضعت شعوب العالم للنظام الرأسمالي، فحل الظلم والظلام ولم يعد هناك مكان للعدل.


فهل يجهل أردوغان هذه الحقائق الساطعة؟! هل يجهل أن العدالة التي لا تشوبها شائبة هي كائنة فقط في الإسلام وليس في إصلاح الأمم المتحدة أو مجلس الأمن؟! إن المؤسسات الدولية الكافرة التي يدعو أردوغان إلى إصلاحها يجب أن تُعامَل معاملة مسجد ضرار الذي أمر النبي ﷺ بتدميره وحرقه، لأن هذه المؤسسات كمسجد ضرار؛ ما أقيمت إلا على الكفر ومن أجل التفريق بين المؤمنين وإرصادا لمن حارب الله ورسوله، فلم ير المسلمون منها يوما خيرا، بل كانت قراراتها على الدوام السبيل إلى احتلال بلاد المسلمين وسفك دمائهم ونهب خيراتهم، فالله نسأل أن يمن علينا بدولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي ستنشر الحق وتحكم بالعدل بين الناس.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمد أبو هشام

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست