إعادة التأهيل تكون على أساس الإسلام وليس على أساس الوطنية والقوانين الوضعية
إعادة التأهيل تكون على أساس الإسلام وليس على أساس الوطنية والقوانين الوضعية

الخبر:   نقل موقع مصر العربية في 2017/7/6م، أن مرصد الفتاوى التكفيرية والآراء المتشددة التابع لدار الإفتاء المصرية قد أكد ضرورة إيجاد استراتيجيات دولية فعالة لإعادة تأهيل عناصر الجماعات المتطرفة وفقًا للثوابت الوطنية والإجراءات القانونية، فضلًا عن إقناعهم بالتخلي عن أفكارهم المتطرفة في صورة جديدة للمراجعات التي حدثت مع تيار الجماعة الإسلامية في نهاية تسعينات القرن الماضي، وحققت نجاحًا واضحًا في تخلي أغلبهم عن العنف.

0:00 0:00
Speed:
July 16, 2017

إعادة التأهيل تكون على أساس الإسلام وليس على أساس الوطنية والقوانين الوضعية

إعادة التأهيل تكون على أساس الإسلام

وليس على أساس الوطنية والقوانين الوضعية

الخبر:

نقل موقع مصر العربية في 2017/7/6م، أن مرصد الفتاوى التكفيرية والآراء المتشددة التابع لدار الإفتاء المصرية قد أكد ضرورة إيجاد استراتيجيات دولية فعالة لإعادة تأهيل عناصر الجماعات المتطرفة وفقًا للثوابت الوطنية والإجراءات القانونية، فضلًا عن إقناعهم بالتخلي عن أفكارهم المتطرفة في صورة جديدة للمراجعات التي حدثت مع تيار الجماعة الإسلامية في نهاية تسعينات القرن الماضي، وحققت نجاحًا واضحًا في تخلي أغلبهم عن العنف.

التعليق:

تأهيل على أساس الثوابت الوطنية والإجراءات القانونية، هذا ما يدعو إليه رجال تخرجوا من الأزهر وينسب لهم العلم، ثوابت وطنية وليست دينية وإجراءات قانونية حسب تلك القوانين الوضعية التي تحكم بلادنا وليست إجراءات شرعية، أي أنها دعوة للعلمنة والانسلاخ من الدين بالكلية، دعوة لدين جديد يرضي أمريكا ومن لف لفيفها وتوجد إسلاما مدجنا خالياً من وجهة نظره في الحياة وغير مؤهل لقيادة الدنيا.

يا علماء مصر! إن ما ينبغي أن يعاد تأهيل الناس على أساسه شعبا وجيشا هو عقيدة الإسلام، وما تفرع منها وانبثق عنها من أحكام ملزمة للأمة هي في واقعها منهج حياة كامل يعالج كل مشكلات الناس بحلول جذرية صحيحة وحقيقية، فالإسلام الذي نعرف وتعرفون هو دين سياسي أنزله الله ليخرج به الناس من الظلمات إلى النور وهكذا فهمه وحمله النبي r ومن بعده الصحب الكرام الأخيار، فانطلقوا حاملين دعوته وخيره شرقا وغربا وشمالا وجنوبا، غايتهم عبّر عنها ببليغ المقال عربي بسيط من الصحابة عندما عرض عليه رستم أموالا تكفيهم ثلاث سنين، فأجابه: "ما لهذا خلقنا، إنما ابتعثنا الله لنخرج من شاء من عباده من عبادة العباد إلى عبادة رب العباد ومن ضيق الدنيا إلى سعة الدنيا والآخرة ومن جور الأديان إلى عدل الإسلام"، نعم يا علماء الأزهر هذا هو الإسلام الذي تكتمون عن الناس، هذا هو ديننا الذي كلفنا الله وألزمنا تطبيقه وحمله للناس كافة.

يا علماء مصر! إن الإسلام وأفكاره التي جعلتم من أنفسكم أدوات في الحرب عليها أكبر من ثوابتكم الوطنية العفنة ويتخطى حدود سايكس بيكو التي تقدسون وأكبر من إجراءاتكم وقوانينكم الوضعية، فالمسلمون في كل مكان دينهم واحد وفرحهم وألمهم وحزنهم واحد، وهذه الحدود التي قطعت أوصال الأمة ورسمت أوطانكم المزعومة لا ثوابت ولا قداسة لها بل هي أوهن وأوهن من بيت العنكبوت، ومتى ما استعادت الأمة سلطانها المسلوب وتمكنت من حريتها فلن يكون لها أثر لا في الواقع ولا في القلوب أو العقول.

إن خطط إعادة التأهيل هذه يا علماء مصر يجب أن تبدأ بكم فيعاد غرس عقيدة الإسلام فيكم من جديد بعد تخليصكم من كل ما تحملون من أفكار الرأسمالية النفعية فيصبح الإسلام وحده أساس تفكيركم، وما فيه من أحكام هي ما تشبعون على أساسه حاجاتكم وغرائزكم، ويصبح تطبيق الإسلام وحمل دعوته هو قضيتكم المصيرية.

ثم تثني عملية إعادة التأهيل بأبناء جيش الكنانة فتعيد عقيدتهم القتالية على أساس الإسلام فيدركون وظيفتهم الحقيقية وهي الجهاد لحمل الإسلام والدفاع عنه وعن دولته والحرص على تطبيقه تطبيقا حقيقيا على الوجه الصحيح، فلا يصبح سلاحهم موجهاً لأهل الكنانة بل لأعداء مصر والأمة ويصبح سلاحهم وقوتهم في يد الأمة ومن أجل حمايتها وتطبيق دينها وبسط سلطانها.

يا أهل الكنانة! خذوا على يد من يحاولون تدجين دينكم وسلخكم من عقيدتكم محل قوتكم التي يعرفها الغرب ويخشاها ويعلم يقينا أنها لو تمكنت من قلوبكم فلن تقوم لرأسماليته قائمة وسينحسر سلطانه إلى عقر داره إن بقي له عقر دار، وسينتهي نفوذه في بلادنا وينتهي معه نهبه لثرواتنا وخيرات بلادنا التي ينعم بها، لذا يسعى جاهدا لفصلكم عن دينكم وتجهيلكم بحقيقته السياسية وواقعه العملي الصالح والجاهز للتطبيق، وإيهامكم بأن خلاصكم هو في الرأسمالية التي يفرضها عليكم والتي هي ليست سوى سم زعاف يضمن سيادته عليكم ويحافظ على مصالحه في بلادكم.

أيها المسلمون عامة وأهل مصر خاصة! إن خلاصكم الوحيد ونجاتكم من واقع الذل الذي تعيشون هو باستئنافكم الحياة الإسلامية بإقامة الخلافة على منهاج النبوة التي تصلح المجتمع كله وتنهض به نهضة حقيقية على أساس الإسلام عقيدة وأحكاما، وهذا ما يدعوكم له ويحمله لكم حزب التحرير مخلصا صادقا عاملا حتى يصبح دينكم واقعا عمليا مطبقا، فاحملوا معه حملكم فلعل الله يكتب النصر على أيديكم فتفوزوا فوزا عظيما.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست