إعلان الجمهورية في سوريا يُعَدُّ خيانةً للثورة الإسلامية!
إعلان الجمهورية في سوريا يُعَدُّ خيانةً للثورة الإسلامية!

الخبر:   أحمد الشرع، الذي قام بأول زيارة خارجية له إلى السعودية بعد توليه رئاسة سوريا، أدلى بتصريحات مهمة حول مستقبل سوريا تتماشى مع الخريطة السياسية التي ظل يتبعها، وذلك في مقابلة مع تلفزيون سوريا. متعهداً بتعزيز اقتصاد السوق الحرة وتوفير التسهيلات الاستثمارية، وقال الشرع: "سوريا دولة ستحافظ على وضعها الطبيعي، وسيكون نظام الحكم فيها جمهورياً يشمل برلماناً وهيئة تنفيذية وسلطات تعمل بتعاون فيما بينها" على حد تعبيره. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
February 10, 2025

إعلان الجمهورية في سوريا يُعَدُّ خيانةً للثورة الإسلامية!

إعلان الجمهورية في سوريا يُعَدُّ خيانةً للثورة الإسلامية!

(مترجم)

الخبر:

أحمد الشرع، الذي قام بأول زيارة خارجية له إلى السعودية بعد توليه رئاسة سوريا، أدلى بتصريحات مهمة حول مستقبل سوريا تتماشى مع الخريطة السياسية التي ظل يتبعها، وذلك في مقابلة مع تلفزيون سوريا. متعهداً بتعزيز اقتصاد السوق الحرة وتوفير التسهيلات الاستثمارية، وقال الشرع: "سوريا دولة ستحافظ على وضعها الطبيعي، وسيكون نظام الحكم فيها جمهورياً يشمل برلماناً وهيئة تنفيذية وسلطات تعمل بتعاون فيما بينها" على حد تعبيره. (وكالات)

التعليق:

أحمد الشرع خيب آمال الشعب السوري والمجاهدين الصادقين بتصريحاته، وذلك عقب العملية العسكرية التي أُطلقت بعد أن طالب أهل إدلب بإعادة فتح الجبهات على مدار سنوات، والتي أدت إلى هروب الطاغية بشار الأسد إلى روسيا في 8 كانون الأول/ديسمبر 2024. كما أنه لا يزال يُرضي الكفار الغربيين، لا سيما أمريكا، ومعاونيهم المحليين في المنطقة.

أحمد الشرع، الذي أعلن العفو عن بقايا النظام بمجرد توليه الحكم ودعا الشعب إلى السلام والمصالحة قائلاً إنهم لن يتصرفوا بدافع الانتقام، يحاول بكل الطرق التأكد من عدم ربط اسم الثورة السورية بالإسلام. وكل مسلم يتابع سياساته بعقلانية يرى أنه يتصرف كما لو كان مسؤولاً أمام الغرب والنظام الدولي، وليس أمام الشعب السوري. سبحان الله!

أحمد الشرع لا يذكر الأحكام والحلول الإسلامية في أي من خطاباته، وكأنه يخجل من الإسلام! يتحدث كما لو أن العقيدة والنظام الإسلامي غير قادرين على توحيد الشعب السوري وحكمه بالعدل، وكأن دين الله لا يقدم رؤية للتنمية! وبذلك يُذل نفسه والثورة السورية معاً. ومهما كان التفسير المطروح، فإنه يعني التنازل والاستسلام! ماذا يعني أن نرغب في السلام مع كيان يهود عندما هاجم سوريا، ودمر كل قواها العسكرية، ووسع احتلاله لمرتفعات الجولان؟! لقد صاح الشعب السوري لمدة 13 عاماً بأنه يريد الشريعة والخلافة، ودفع ثمناً باهظاً مقابل ذلك، بينما قاتل المجاهدون من جميع أنحاء العالم في هذا الطريق؛ فما المقصود بقوله "ستصبح سوريا جمهورية عربية"؟

ماذا يعني التخلي عن راية التوحيد واعتماد راية سايكس بيكو؟ إن هذا الفعل يعكس تحولاً رمزياً من التمسك بالوحدة الإسلامية إلى قبول حدود وضعتها اتفاقيات استعمارية، واستسلاماً لتركة الاستعمار وابتعاداً عن الأصول الإسلامية. وماذا تعني تهنئة رئيس أمريكا، العدو اللدود للإسلام والمسلمين، والذي يدعم روسيا وإيران، أكبر المؤيدين لبشار الأسد، ويمنح تركيا دوراً في حرف مسار الثورة، ويقول إنه يعتقد بأنه سيجلب السلام والاستقرار للشرق الأوسط؟ إن ذلك يدل على التغاضي عن الدعم الأجنبي الذي ساهم في معاناة الشعب السوري. وماذا يعني استخدام عبارات مثل "الحكومة الشاملة" و"الدولة المدنية" باستمرار للإيحاء والالتزام أمام وسائل الإعلام الغربية بأنهم يعتنقون الديمقراطية؟ يشير هذا إلى محاولة لتقديم نفسه كمؤيد لمفاهيم الحكم الغربية، ما قد يُنظر إليه على أنه تجاهل لمبادئ الحكم الإسلامي الذي يركز على العدالة والمساواة. فأين الإسلام في هذا؟! وأين المجد في هذا؟! وأين الرؤية السياسية في هذا؟! هل سترضي هذه التصريحات حقاً الغربيين الذين لا يمكن إرضاؤهم إلا باتباع مساراتهم كما أوضح الله تعالى في كتابه العزيز: ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُم﴾.

إن التنازل يؤدي إلى تنازل آخر. مرة واحدة يُرتكب فيها الحرام، فتصبح المرة الثانية أسهل على القلب. سيهمس الشيطان بأنه لا يوجد سبيل آخر سوى التدخل بين الكافرين، قائلاً "الظروف تجبر على ذلك". لكن في النهاية، سيجبر هؤلاء الكافرون المسلمين على توجيه الأسلحة نحو إخوانهم مقابل دعمهم. فعلى سبيل المثال، يظهر اغتيال المجاهدين في سوريا بالضبط هذا الوضع. ستوجه هذه الاغتيالات نحو الذين يعارضون تحول سوريا إلى جمهورية عربية علمانية تحت ذريعة "محاربة الإرهاب"، ومن هم ليسوا راضين عن السلام مع يهود، والذين يذكرون بثوابت الثورة ويطالبون بإقامة الخلافة في سوريا.

قال أحمد الشرع: "نفضنا عن كاهل الشام غبار الذل والهوان". إن كلماته بهذا الشكل لن تغير هذه الحقيقة، فلا توجد دلائل تفيد بأن الكفاح الإسلامي سينتهي بعد الإطاحة بالطغاة. ولكن هناك العديد من الأدلة القاطعة التي تُظهر أن الانحياز للكافرين، والدخول في هياكلهم الفكرية والسياسية، وجعل الكافرين أولياء من دون المؤمنين سيتسبب في خسارتهم في هذه الدنيا وفي الآخرة! يقول الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَخُونُواْ اللهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُواْ أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

أسأل الله سبحانه وتعالى أن يمنح القوة والحكمة لأهل سوريا والمجاهدين الصادقين لحماية الثورة من الخيانات والمكائد، وأن يعين جميع المسلمين على تطبيق الشريعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست