إدارة بايدن تقود سفينة أصابها العطب
إدارة بايدن تقود سفينة أصابها العطب

الخبر:   قال وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن، خلال أول خطاب له عن مقاربات السياسة الخارجية للإدارة الأمريكية بعنوان "سياسة خارجية للشعب الأمريكي" بوزارة الخارجية الأمريكية في ٣ آذار/مارس الجاري؛ على أن الإدارة الأمريكية لا تزال تعمل على وضع استراتيجية أكثر عمقاً للأمن القومي على مدى الأشهر القليلة الماضية.

0:00 0:00
Speed:
March 16, 2021

إدارة بايدن تقود سفينة أصابها العطب

إدارة بايدن تقود سفينة أصابها العطب

الخبر:

قال وزير الخارجية الأمريكي أنتوني بلينكن، خلال أول خطاب له عن مقاربات السياسة الخارجية للإدارة الأمريكية بعنوان "سياسة خارجية للشعب الأمريكي" بوزارة الخارجية الأمريكية في 3 آذار/مارس الجاري؛ على أن الإدارة الأمريكية لا تزال تعمل على وضع استراتيجية أكثر عمقاً للأمن القومي على مدى الأشهر القليلة الماضية.

التعليق:

غريب جدا حال الدولة العميقة في أمريكا حيث تتحدث التصريحات عن انقلاب جذري وكبير عن تلك السياسة التي كانت زمن ترامب، مع العلم أن التغيير لن يكون بالاستراتيجية كخطة ثابتة بل سيكون في الأساليب والوسائل لخدمة الاستراتيجية الأمريكية القائمة طبعا، مع أهمية دراسة حجم ونوع الأدوات والأوراق المستخدمة وأثرها قوة وحجما، ثم دراسة الأخطار الكامنة والمتوقعة، وسرعة الاستجابة لها، ومتابعة صعود الدول الكبرى ولو على مستوى المجال الإقليمي كألمانيا في أوروبا والصين في الشرق الأقصى والمحيط الهادي، لأن هذا الإقليم ليس كغيره من الأقاليم حيث بات يشكل الهاجس الأخطر والحقيقي مستقبلا على أمريكا إلى درجة ألزمت إدارة بايدن بالانسلاخ الكلي عن أساليب إدارة ترامب وإيجاد أساليب جديدة لمحاولة احتواء الخطر الصيني والروسي - إذا لم تستطع أمريكا جر روسيا لسياسة الاحتواء للصين - حيث بدأت العودة لسياسة المشاركة والتعاون الدولي على خلاف إدارة ترامب التي خرجت من تلك التحالفات والشراكات بل عملت على ضربها وتنكرت إلى المعاهدات معها مما أدى إلى تشكل تحالفات جديدة بعيدة عن مشاركة أمريكا فيها، لذا تؤكد الدراسات الحالية إلى عودة إدارة بايدن إلى الالتزام الأمريكي بالشراكة عبر الأطلنطي، والتعاون مع الاتحاد الأوروبي لمواجهة التحديات القائمة من خلال وضع جدول أعمال مشترك، مع عدم إغفال أهمية تعزيز العلاقات مع جيران أمريكا مثل المكسيك وكندا.

 لذا شددت إدارة بايدن على أن أمريكا لا تستطيع الغياب مرة أخرى عن قيادة النظام الدولي، وأن عليها الانخراط في المؤسسات المتعددة الأطراف لضمان "قيادة نظام دولي مستقر ومنفتح" بدل الخروج والإهمال لها والتعاون معها بدل محاربتها وعدم الالتفات لها حيث لم تحقق لها ما كانت تصبو إليه آنذاك زمن ترامب فأبعدته وجاءت ببايدن.

ومما يلفت الانتباه هو محاولة إدارة بايدن استخدام الديمقراطية في العلاقات والتدخلات الدولية بعد ترميم الديمقراطية داخل الولايات المتحدة جراء الانتكاسات التي حصلت في البيت الأمريكي داخليا وإهمال الديمقراطية خارجيا زمن ترامب فعادت تتحدث عن حقوق الإنسان والحريات؛ من أجل إعادة استخدامها كورقة في التدخل الدولي واستعمار الدول، خاصة وأن الحديث عن استخدام الديمقراطية يخدمها في سياسة الاحتواء بحجة مسلمي الإيغور والحريات وهونج كونج وتايوان، والمعارضين والانتخابات في روسيا والقرم وأوكرانيا وبعض الدول التي تريد مدخلا إليها من خلال استخدام ورقة الحريات والديمقراطية للتدخل في شؤونها.

وعودة إلى استراتيجية الاحتواء الثابتة ولعبة الأوراق والأدوات؛ فقد أجرت القوات البحرية في أمريكا وأستراليا والهند واليابان أكبر مناوراتها البحرية هذا الشهر، حيث أرسلت سفناً حربية وغواصات وطائرات إلى المحيط الهندي، في خطوة قال محللون إنها تشير إلى جدية الدول الأربع في مواجهة النفوذ العسكري والسياسي للصين في منطقة المحيطين الهندي والهادئ.

يقول هيرفيه ليماهيو، مدير برنامج القوة والدبلوماسية في معهد لوي الأسترالي: "تأتي المجموعة الرباعية الآن كمحاولة لردع قدرة الصين على تحدي وتعطيل النظام القائم على القواعد، والوضع الراهن في منطقة المحيطين الهندي والهادئ". ويضيف: "إنها إشارة من جانب هذه الديمقراطيات الأربع إلى أنها ستكون أكثر جدية بشأن التصرف كقوة موازنة عسكرية واستراتيجية للصين، إذا استمرت بكين في تحدي الوضع الراهن، وليس فقط في جنوب بحر الصين، ولكن أيضاً في المحيط الهندي". حيث ربطت المحيط الهادي بالهندي لإدخال الهند وبعض دول الجوار كما كانت تخطط مثلا لميانمار قبل وقوع الانقلاب وغيرها.

إن المرحلة الحالية مرحلة دقيقة وخطيرة في الوقت نفسه حيث تدخلها الولايات المتحدة وهي ليست موحدة حيث تعاني انقساما مجتمعيا واضحا قد يطفو على السطح بأية لحظة - لو أحسن أحدهم استخدامه لما قامت لها قائمة ولانشغلت بنفسها عن العالم - ثم انقسام مؤسسي وانعدام الثقة في الطبقة السياسية والأزمات الاقتصادية وتداعيات كورونا ليس فقط معها بل عالميا، ووجود نظرة سلبية تجاه أمريكا عالميا، فضلا عن وجود شخصيات بالحكم ليست على مستوى الحدث وإن حاول بايدن تنويع استخدام شخصيات الحكم في إدارته الحالية.

إن الإجراءات التي أوجدتها الدولة العميقة من خلال إدارة بايدن ليست سياسة بناء وإنما سياسة ترميم كما يقال، وهذه نقطة ضعف أخرى في الولايات المتحدة نتيجة قلة وليس انعدام رجال الحكم، وليست هذه الإجراءات كفيلة بانتشال أمريكا من أزمتها لكن قد تبطئ عملية السقوط إلى حين، وهذا الأمر وإن كان قائما لأنه لا يبدو قريبا، بل يعتمد على طبيعة الموقف الدولي وفاعلية القوى الصاعدة وقوتها وصلابة الموقف الأمريكي في ظل الأزمات والانقسام والضعف والمفاجآت الدولية السياسية والوبائية وظهور مفاجآت في دول الأدوات والأوراق، فضلا عن أثر حركة الشعوب التي أصبحت ذات وزن، لذا أرى أن أمريكا تبحر في بحر متلاطم الأمواج سريع المفاجآت قادته رجالات فرضتها الظروف الواقعية وليس القدرة السياسية والحنكة لهم بسفينة أصابها العطب، فهل يستطيع الوصول بها أم تتقاذفها الأمواج والرياح والتجارب لعصبة انقسمت على ذاتها بسفينة أصاب بنيتها الضعف والتآكل؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست