إدراك حقيقة سياسة التعليم الإسلامي الصحيحة (مترجم)
إدراك حقيقة سياسة التعليم الإسلامي الصحيحة (مترجم)

الخبر:   بعد 70 يوما من حكم ماليزيا، لا تزال حكومة تحالف الأمل في السباق للوفاء بوعودها لشعب ماليزيا. فمن ناحية، تسببت سياسات الحكومة الجديدة المختلفة في حدوث تصعيدات بدرجات متفاوتة. ومن ناحية أخرى، فإن حرية الإعلام الموعودة وحرية التعبير قد فتحت بشكل واضح المجتمع لعدد كبير من الآراء والأفكار التي قد تقود ماليزيا إلى اختلاف مجتمعي مختلف تمامًا عما اعتادت عليه. هذا ما يشعر به المسلمون بشكل خاص في مواجهة قصف الأفكار الليبرالية حيث إن رد فعلهم على الهجوم لا يزال بعيدًا عن التذلل. ...

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2018

إدراك حقيقة سياسة التعليم الإسلامي الصحيحة (مترجم)

إدراك حقيقة سياسة التعليم الإسلامي الصحيحة

(مترجم)

الخبر:

بعد 70 يوما من حكم ماليزيا، لا تزال حكومة تحالف الأمل في السباق للوفاء بوعودها لشعب ماليزيا. فمن ناحية، تسببت سياسات الحكومة الجديدة المختلفة في حدوث تصعيدات بدرجات متفاوتة. ومن ناحية أخرى، فإن حرية الإعلام الموعودة وحرية التعبير قد فتحت بشكل واضح المجتمع لعدد كبير من الآراء والأفكار التي قد تقود ماليزيا إلى اختلاف مجتمعي مختلف تمامًا عما اعتادت عليه. هذا ما يشعر به المسلمون بشكل خاص في مواجهة قصف الأفكار الليبرالية حيث إن رد فعلهم على الهجوم لا يزال بعيدًا عن التذلل. ومن الحالات المثيرة للاهتمام بشكل خاص الاقتراح الأخير الذي قدمه وزير الإعلام السابق، تان سري زين الدين مايدن (زام) بإغلاق مدارس تحفيظ. في الواقع، تفتقر مدارس التحفيظ خاصة إلى الرقابة والرصد الفعالين وكان ينبغي أن يكون هذا هو المحور الرئيسي. ومع ذلك، انتقد زام بشدة إنشاء مدارس تحفيظ "غير تقدمية" وحث على إغلاق هذه المدارس. وعلى الرغم من شرح أسباب هذا الانتقاد، إلا أنه أدى إلى تحفيز مزيد من الهجمات على المؤسسات الدينية والإسلام بشكل عام.

التعليق:

التعليم بلا شك مهم جدا لتنمية جيلنا المستقبلي، حيث يرتبط مستقبل الأمة ارتباطًا وثيقًا بجودة الجيل الجديد الذي يقودها، ومن ثم ينبغي التركيز على وضع سياسة تعليم الدولة لإنتاج هذا الجيل من القادة والشعوب ذات الشخصية الإسلامية القوية، وهم أسياد مختلف مجالات المعرفة.

من الواضح أن اقتراح زام السخيف يستند إلى نظرة عامة متحيزة ومنحازة حول مدارس التحفيظ والمدارس ذات التوجه الإسلامي. كما ذكرنا سابقاً، هناك مدارس خاصة للتهذيب والتي تمثل إشكالية، وهناك أيضًا مدارس ذات توجه إسلامي والتي دمجت التحفيظ، وهي منظمة تنظيماً جيداً وتنتج طلاباً متميزين.

من خلال النظر إلى المشاكل بطريقة عميقة، سيكون من الواضح أن المشاكل لا تنشأ من الطبيعة "غير التقدمية" للتربية الإسلامية بل من ضعف الدولة في المراقبة، فضلاً عن إضعاف الإدارة التشغيلية والمالية لبعض مدارس التحفيظ خاصة. وبالتالي، من الواضح أن الحل لا يتمثل في إغلاق مدارس التحفيظ بل بدلاً من ذلك تأسيس وإعادة هيكلة هذه المدارس الإسلامية الخاصة ورصدها، ويجب أن يشمل ذلك وضع منهج دراسي معياري لمؤسسات التحفيظ.

كل شيء بخير، ولكن هل هو كذلك فعلا؟ إذا درس المرء القضايا الأساسية المتعلقة بإنشاء مؤسسات ذات توجه إسلامي، فسوف يلاحظ أن هذه المدارس تزدهر لأن المسلمين يدركون جيداً أن العلمنة في التعليم تؤدي إلى استمالة الأجيال الشابة التي تفتقر إلى الشخصية الإسلامية. وبالتالي، تبدأ الجهات المعنية بإنشاء مدارس إسلامية تركز على التربية الإسلامية. هذه الحالة من العلاقة غير مقبولة على الإطلاق في الإسلام. في ظل السلطة الإسلامية المتمثلة بالخلافة، يُسمح بوجود تيار واحد فقط من التعليم.

(المادة 177 من مسودة دستور الخلافة التي اقترحها حزب التحرير):

"يكون منهاج التعليم واحداً، ولا يسمح بمنهاج غير منهاج الدولة. ولا تمنع المدارس الأهلية ما دامت مقيدة بمنهاج الدولة، قائمة على أساس خطة التعليم، متحققاً فيها سياسة التعليم وغايته على أن لا يكون التعليم فيها مختلطاً بين الذكور والإناث لا في التلاميذ ولا في المعلمين، وعلى أن لا تختص بطائفة أو دين أو مذهب أو عنصر أو لون.".

إن وجود نظام مدرسي مبسط لن يؤدي فقط إلى تعزيز الوحدة بين رعايا الدولة، بل يضمن أيضاً منهجاً موحداً لتحقيق الأهداف التعليمية الإسلامية. بالإضافة إلى ذلك، فإن السياسة التعليمية هي دعم الإسلام. كما يمكن لتوحيد المنهج أن يضمن احتواء العناصر الخارجية مثل الليبرالية، مع تعزيز نشر الثقافة الإسلامية التي تشمل، من بين أمور أخرى، حفظ القرآن. كما سيدمج المنهج الصلب المتجانس العناصر الأساسية للعلوم والتكنولوجيا. لا يزال يُسمح للمدارس الخاصة بالعمل، ولكن يجب أن تتبع المناهج واللوائح الخاصة بسياسة الدولة التعليمية.

إن سياسة الدولة الإسلامية التعليمية لا تفرق بين الاتجاهات التي تركز على الشؤون "الأخروية" وبين الشؤون "الدنيوية"، كما تفعل العلمانية التي تفصل الدين عن الحياة. لقد أثبت التاريخ الإسلامي أن علماء الإسلام ليسوا فقط أساتذة للعلوم والتكنولوجيا، بل هم أيضًا حفظة للقرآن من سن مبكرة جدًا. علاوة على ذلك، فإن دور القرآن لا يقتصر على حفظه؛ فالقرآن هو المرجع الرئيسي، بالإضافة إلى السنة وإجماع الصحابة والقياس الشرعي في تنظيم جميع جوانب الحياة. والسياسة التعليمية للدولة الإسلامية تطمح إلى بناء هذه العقلية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست