إدراك واقع قطر (مترجم)
إدراك واقع قطر (مترجم)

الخبر: يوم الاثنين الخامس من حزيران/يونيو 2017، قطعت كل من السعودية والبحرين ومصر والإمارات علاقاتها الدبلوماسية مع قطر، متهمةً الدوحة بدعم (الإرهاب). وبالإضافة إلى ذلك، فقد أعلنت هذه الدول أنها ستعلّق النقل الجوي والبحري والبرّي مع قطر، في حين إن رعايا قطر مطالبون بالعودة إلى ديارهم في غضون أسبوعين. الرئيس الأمريكي دونالد ترامب صادق تلقائيًا على هذه الخطوة واعتبر أن زيارته الأخيرة للسعودية بدأت "تؤتي ثمارها". وفي وقت لاحق غرّد: "من الجيد جدًا أن زيارتي للمملكة للقاء الملك السعودي وقادة 50 دولة بدأت تؤتي ثمارها… فقد أكدّوا أنهم سيتخذون موقفًا متشددًا من تمويل الإرهاب".

0:00 0:00
Speed:
June 18, 2017

إدراك واقع قطر (مترجم)

إدراك واقع قطر

(مترجم)

الخبر:

يوم الاثنين الخامس من حزيران/يونيو 2017، قطعت كل من السعودية والبحرين ومصر والإمارات علاقاتها الدبلوماسية مع قطر، متهمةً الدوحة بدعم (الإرهاب). وبالإضافة إلى ذلك، فقد أعلنت هذه الدول أنها ستعلّق النقل الجوي والبحري والبرّي مع قطر، في حين إن رعايا قطر مطالبون بالعودة إلى ديارهم في غضون أسبوعين. الرئيس الأمريكي دونالد ترامب صادق تلقائيًا على هذه الخطوة واعتبر أن زيارته الأخيرة للسعودية بدأت "تؤتي ثمارها". وفي وقت لاحق غرّد: "من الجيد جدًا أن زيارتي للمملكة للقاء الملك السعودي وقادة 50 دولة بدأت تؤتي ثمارها… فقد أكدّوا أنهم سيتخذون موقفًا متشددًا من تمويل الإرهاب".

التعليق:

إذاً، ما الذي فعلته قطر لتفرض عليها في النهاية هذه العزلة من قبل القوى العظمى والدول الإقليمية.

على مدى العقود القليلة الماضية لعبت قطر دورًا رئيسيًا في إحباط الخطط الأمريكية داخل المنطقة وخارجها واستخدام ثروتها الغازية الضخمة لتسليح وتمويل وتنظيم المليشيات والجماعات والدول الأخرى. ومع ذلك فلم تقدم قطر أية حلول جديدة للمنطقة، وإنما شاركت في تنفيذ الخطط السياسية البريطانية في الشرق الأوسط وخارجه، ويمكن النظر إلى ذلك من وجهات نظر متعددة.

السودان – توسطت أمريكا في اتفاق سلام نيفاشا عام 2005 والذي توصل إلى إنهاء الحرب الأهلية بين حركة التمرد الرئيسية، الحركة الشعبية/ الجيش الشعبي لتحرير السودان والحكومة السودانية. وقد شملت بنود الاتفاق مجموعة من التدابير التي أعطت الاستقلال الذاتي والانفصال للجنوب عام 2011 عند نهاية الصفقة المتفق عليها. ساعدت أمريكا بفاعلية ودعمت الأقلية النصرانية المتمردة في جنوب السودان وذلك من خلال تزويدهم بالأسلحة التي من دونها لم يكن للمتمردين فرصة للنجاح في إرغام الحكومة السودانية على السعي لتحقيق تسوية سلمية. ولمواجهة ذلك وفرت كل من بريطانيا وفرنسا الأسلحة لتشاد، التي دعمت المتمردين في دارفور وسلحتهم، ما جعل من دارفور قضية ذات بال. وقد نجحت الدولتان في تدويل قضية دارفور بنجاح وتعقيد الخطط الأمريكية الساعية لفصل جنوب السودان وجعله دولة مستقلة. وقد كانت قطر جزءا من الخطة البريطانية الفرنسية الساعية إلى استخدام ورقة دارفور لتعقيد الأجندة الأمريكية في السودان. هذه الجهود كلها فشلت في النهاية وها هو جنوب السودان اليوم دولة مستقلة، على الرغم من أنها على وشك الانهيار.

ليبيا – دعمت بريطانيا وساندت وأيدت القبائل والجماعات المسلحة وذلك للإطاحة بالقذافي ونظامه عام 2011، وبعد سقوط القذافي شكلت بريطانيا وفرنسا قيادة سياسية جديدة في طرابلس. أنشأت المجلس الوطني الانتقالي في شباط/فبراير 2011، وتألفت هذه الحكومة المؤقتة في أساسها من أشخاص كانوا ضمن نظام القذافي السابق. ثم في تموز/يوليو 2012 تم تشكيل حكومة دائمة - المؤتمر الوطني العام، وقد نجحت بريطانيا في استبدال أزلام جدد بأولئك المحسوبين على القذافي. وكانت قطر أول دولة عربية تعترف بحكومة المتمردين، المجلس الوطني الانتقالي. وباعت ليبيا النفط نيابة عن المتمردين لتجنب العقوبات كما زودتهم بالغاز والديزل ومليارات الدولارات كمساعدات. وقد غطت قناة الجزيرة، التي تبث من الدوحة، نضال الثوار الليبيين بقدر أكبر وأكثر تفصيلا من تغطية ما هو من شأن أية حركة ثورية أخرى في العالم العربي. وكانت طائرات النقل القطرية تغادر الدوحة بانتظام حاملة حزم معونات للثوار، بما في ذلك صواريخ مضادة للدبابات من طراز ميلانو الفرنسية وبنادق هجومية بلجيكية الصنع من طراز إف إن. وأفادت التقارير بأن القوات الخاصة القطرية قدمت تدريبا أساسيا للمقاتلين المشاة من الليبيين الثوار في طرابلس. كما أن قطر قامت بتدريب وتسليح وتمويل جماعة فجر ليبيا، التي هي في الواقع مليشيات تابعة لحكومة المؤتمر الوطني العام في طرابلس. وبعد عدة أسابيع من خسارته الانتخابات في تموز/ يوليو 2012، استولت جماعة فجر ليبيا على العاصمة طرابلس. وطردت حكومة طبرق المدعومة من أمريكا من العاصمة.

سوريا – في الأيام الأولى من الصراع السوري، وعندما كانت هناك على الأرض مجموعات كثيرة، وكانت بريطانيا وأمريكا لا تزالان تبحثان عمن تساندان، حاولت بريطانيا أن تجمع معا جماعات انتقالية موالية لها، غير تابعة للمجلس الوطني الانتقالي الذي أنشأته أمريكا. وقد تشكلت هذه المجموعات رسميا تحت مسمى "مجموعة أصدقاء سوريا" وكانت قطر دولة محورية في مؤتمر أصدقاء سوريا الذي انعقد في نيسان/أبريل 2012، وهو اجتماع نظمه الاتحاد الأوروبي لجمع مختلف الجماعات والفصائل السورية معا تحت ناظر بريطانيا وفرنسا. وعلى الرغم من أن هذا التجمع لم يستطع فرض نفسه في سوريا، إلا أن دور قطر في دعم الأهداف البريطانية كان واضحا.

إن دعم قطر للخطط السياسية البريطانية هو ما دفع ترامب للتهجم عليها علنا. خادما أمريكا الخانعان في مصر والسعودية تابعا هجوم ترامب على قطر بقطع العلاقات معها، وذلك بعد لقاء ترامب بهما في أول زيارة خارجية له كرئيس لأمريكا. لطالما لم ترض أمريكا عن دور قطر في خدمة بريطانيا. وفي تقرير أعده كريستوفر م. بلانتشارد عنوانه "قطر: الخلفية والعلاقات الأمريكية" في تشرين الثاني/نوفمبر 2014، أشار إلى أن "نهج قطر في الشؤون الإقليمية يمكن وصفه بأنه عمل موازنة متعدد الاتجاهات. وقد سعت قطر في السنوات الأخيرة إلى التوسط في النزاعات الإقليمية والنزاعات السياسية عبر إشراك مجموعة واسعة من الأطراف في اليمن ولبنان والسودان وليبيا ومصر وغزة، وبعض هؤلاء من المعادين للولايات المتحدة".

وختاما فإن دعم قطر للأجندة البريطانية هو القضية الكامنة وراء التوتر الحالي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست