إفرازات النظام علاجها باقتلاعه من جذوره وإقامة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضه
إفرازات النظام علاجها باقتلاعه من جذوره وإقامة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضه

ذكرت جريدة اليوم السابع الثلاثاء 3 كانون الثاني/يناير 2017م، أن محكمة جنايات القاهرة، أيدت منذ قليل  قرار النائب العام المتعلق بالتحفظ على أموال وكافة ممتلكات المستشار وائل شلبي الأمين العام السابق لمجلس الدولة وزوجته...

0:00 0:00
Speed:
January 06, 2017

إفرازات النظام علاجها باقتلاعه من جذوره وإقامة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضه

إفرازات النظام علاجها باقتلاعه من جذوره

وإقامة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضه

الخبر:

ذكرت جريدة اليوم السابع الثلاثاء 3 كانون الثاني/يناير 2017م، أن محكمة جنايات القاهرة، أيدت منذ قليل  قرار النائب العام المتعلق بالتحفظ على أموال وكافة ممتلكات المستشار وائل شلبي الأمين العام السابق لمجلس الدولة وزوجته، وجمال اللبان مدير إدارة المشتريات بمجلس الدولة، وصاحب إحدى الشركات الخاصة وزوجته، ومدحت عبد الصبور ورباب محمد، على خلفية التحقيقات التي تجريها نيابة أمن الدولة العليا في اتهامهم بقضية الرشوة، ولم يشمل القرار الرواتب والشركات المساهمة، وشملت أوامر التحفظ، منع المتهمين من التصرف في أموالهم السائلة والمنقولة والعقارية، وكذا منعهم من التصرف في كافة حساباتهم المصرفية أو الودائع أو الخزائن أو السندات أو أذون الخزانة المسجلة بأسمائهم وزوجاتهم وأبنائهم القصر.

التعليق:

قبل شهور سمعنا عن دراسات تقارير الفساد التي خرجت من الجهاز المركزي للمحاسبات وأدت إلى عزل رئيسه حينها المستشار هشام جنينة وتقديمه للمحاكمة وغيرها من أخبار الفساد في قطاعات عدة كالأغذية واللحوم واستيراد الدواجن والسكر وكل الأزمات المفتعلة التي تعبر عن كم الفساد الذي يزكم الأنوف والتي ليست سوى ناتج من إفرازات هذا النظام الرأسمالي العفن الذي يحكم مصر ويتحكم في ثرواتها ومقدراتها ويجعل منها نهبا للغرب وعملائه من الخونة والمنتفعين.

وما واقعة الرشوة تلك إلا جزء من الفساد الكامن في هذا النظام الذي تحكمه النفعية ولا يؤثر فيه وازع من تقوى أو خوف من عقاب الله ولا يعبأ بمحاسبة الأمة له على ما يفرط فيه من حقوقها وما يُنهب من ثرواتها، بل كل ما يعني منفذي هذا النظام هو البقاء على كراسيهم ورعاية مصالح سادتهم وداعميهم في أمريكا، ولذلك يمارسون كل أنواع القمع والخداع لأهل مصر البسطاء الذين يزيد فقرهم يوما بعد يوم، وهذه القضية وفتحها لن تنهي الفساد الموجود في النظام الذي يشجع على الفساد ويرعاه بل سيجعل الباقين يأخذون حذرهم وحيطتهم ويحصنون أنفسهم، خشية أن يضطر أحدهم للانتحار حال فضحه مستقبلا، وسواء أكانت واقعة انتحار وائل شلبي صحيحة أم أنه قتل بيد الأمن حتى لا يكشف آخرين إلا أن اتهامه بالرشوة يثبت مدى الفساد الذي ينخر في هذا النظام والحاجة الملحة إلى تغييره تغييرا جذريا شاملا.

يا أهل الكنانة! هذا هو نظامكم يرعى الفساد والفاسدين، وما واقعة رفع الجمارك عن الدواجن منكم ببعيدة، ناهيكم عن أموال مبارك وأعوانه ورموز نظامه الذين يتمتعون بأموال نهبوها منكم حتى الآن دون محاسبة أو مطالبة من حكامكم، ولا علاج أمامكم إلا بالوقوف في وجه هذا النظام واقتلاعه من جذوره والتخلص من كل رموزه وأدواته وإقامة الخلافة على منهاج النبوة على أنقاضه، ليس أمامكم إلا أن تعطوا قيادتكم إلى مخلصين منكم يقودونكم بوعي صحيح يصلح حالكم ويعيد الخير فيكم وفي بلدكم الغني بالخيرات والثروات.

يا أهل مصر الكنانة! دونكم الخلافة ومن يدعو لها فاحتضنوهم واحملوها معكم يعود الخير في أبنائكم وتعود تقوى الله هي الرقيب في نفوسكم ويصبح حلال الله وحرامه مقياسا لأعمالكم ويأخذ كل ذي حق حقه فيكم وبينكم فتذهب الرشوة وتغلق أبوابها وتُسد ذرائعها، دونكم الخلافة بنظامها الرائع الذي يعيد إليكم ثرواتكم المنهوبة فلا يبقى بينكم فقير أو محتاج، دونكم الخلافة التي تقطع أصابع الفساد وأياديه وتجتثه من جذوره، واعلموا أنه لا خلاص لكم بغيرها مهما ثرتم ومهما قدمتم إلى القضاء من فاسدين ومرتشين وخونة فيبقي رأس الفساد في وجود النظام نفسه وما يشجع عليه وما يوجد له من تربة خصبة ترعاه وتنميه، ولله در القائل (إذا كان رب البيت بالدف ضاربٌ فشيمة أهل البيت كلهم الرقص).

يا أهل الكنانة! أما آن لكم أن تنعموا بالعيش في ظل دولة الخلافة دولة الإسلام؟! بعد أن ذقتم فساد الرأسمالية وفساد حكمها عقودا لم تروا فيها إلا الذلة والمسكنة، وذقتم وتذوقون الويلات من جراء تطبيقها عليكم، أما آن لكم أن تنصروا من يحملون الإسلام بينكم مخلصين لكم لم ولن يكذبوكم؟!

يا أهل الكنانة دونكم شباب حزب التحرير يحملون همكم ويعملون معكم لخلاص الأمة وخلاصكم من براثن التبعية للغرب وما يجره عليكم من فساد وإفساد فسلموهم قيادتكم، فما يحملونه فيه وحده نجاتكم وخلاص بلادكم من الفساد كله وما يجلبه عليكم ويرعاه فيكم، وبه يعود الخير العميم لكم وللأمة بعمومها، ولو فعلتم فإنه والله لفوز عظيم في الدنيا والآخرة، خير ما بعده خير تطمئن له القلوب وترتاح معه العقول وتمتلئ الأرض بنور ربها ويخلص الناس لله وتنالون أعلى الدرجات، وستذكرون ما أقول لكم وأفوض أمري إلى الله.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست