إحياء العصبية الكمالية والجمهورية من جديد
إحياء العصبية الكمالية والجمهورية من جديد

الخبر:   استضاف برنامج "واضح وصريح" على شاشة قناة خبر تورك نائب المدير العام لحزب العدالة والتنمية، والمتحدث باسمه ماهر أونال، حيث صرح بأن "موقفنا بشأن العلمانية والجمهورية ومصطفى كمال واضح وصريح، فلم يكن لنا يوما أية مشاكل مع مصطفى كمال"، وأكمل "نحن لا ننوي الشجار بشأن الماضي أبدا، لأن الجمهورية لنا ومصطفى كمال (أتاتورك) لنا" (خبر تورك، 2017/11/03).

0:00 0:00
Speed:
November 06, 2017

إحياء العصبية الكمالية والجمهورية من جديد

إحياء العصبية الكمالية والجمهورية من جديد

الخبر:

استضاف برنامج "واضح وصريح" على شاشة قناة خبر تورك نائب المدير العام لحزب العدالة والتنمية، والمتحدث باسمه ماهر أونال، حيث صرح بأن "موقفنا بشأن العلمانية والجمهورية ومصطفى كمال واضح وصريح، فلم يكن لنا يوما أية مشاكل مع مصطفى كمال"، وأكمل "نحن لا ننوي الشجار بشأن الماضي أبدا، لأن الجمهورية لنا ومصطفى كمال (أتاتورك) لنا" (خبر تورك، 2017/11/03).

التعليق:

قام رجب طيب أردوغان في احتفالات الجمهورية في 29 تشرين الأول/أكتوبر إضافة إلى المعتاد بالإشادة والتأكيد على "مصطفى كمال" و"العصبية الجمهورية"، مما دفع الكتاب الموالين له أن يركزوا في كتاباتهم على حب "كمال" و"الجمهورية" كما أثار النقاشات لدى الكتاب المعارضين.

من الغريب أن وسائل الإعلام الموالية لأردوغان والتي طالما احتقرت مصطفى كمال وأهالت عليه المسبات في الماضي، أصبحت الآن من أكبر المعجبين والمصفقين له والجمهورية. كما أن بعض الكتاب الموالين الذين طالما خصصوا زاوية لهم في الإعلام المرئي والمكتوب لاحتقار مصطفى كمال مثل مصطفى أرمان، وسليمان يشيليورت، وقادر مصرلي أوغلو، تمت إدانتهم حاليا بقرار محكمة. وعلى قول المثل "الثورة تحرق مفتعليها"، فهؤلاء أيضا تم استغلالهم ثم رميهم في السجون من قبل مواليهم.

إذن فما هي الأسباب المستوجبة لحب "مصطفى كمال" و"الجمهورية" الذي بدأ في حزب العدالة والتنمية وتواصل لدى الكتاب الموالين؟ قبل الإجابة على هذا السؤال أرغب في التعليق على قول ماهر أونال "... الجمهورية لنا، ومصطفى كمال لنا" فأقول ربما تكون "الجمهورية" و"كمال" لحزب العدالة والتنمية ولكنها لم ولن تكون للمسلمين أبدا. كما أنه من غير اللائق لشخص ينظر بمنظور الإسلام أن يعترف بالجمهورية ويقول عنها "لنا" وهي التي تم استبدالها بنظام حكم الإسلام الخلافة. فالمسلمون على مر السنين لم يقولوا ولم يسمحوا لغيرهم بالقول عن تاريخ "الجمهورية" ولا "الكمالية" أنها لهم. أم أن حزب العدالة والتنمية يسعى لجعل المسلمين يعترفون بتاريخ الجمهورية أنه لهم بينما رفضوه طوال قرن تقريبا، فقط من أجل حصد الأصوات؟! أم أن النظام الذي تم السعي لقبول المسلمين له بفرضه عليهم وغصبهم عليه لعصر حتى وصل إلى نقطة انفجار، يسعون الآن لذلك عبر حزب العدالة والتنمية؟! فليعلم حزب العدالة والتنمية أنه بسعيه وراء "الحي المقابل" لحصد أصوات الليبراليين والكماليين سيخسر أصوات قاعدته من "حي المسلمين". كما أنه بالسعي لفتح وكسب "الحي المقابل" سيخسر "حي المسلمين".

والآن لنعود لجواب السؤال أعلاه: قال الكاتب الصحفي عبد القادر سيلفي في زاويته في صحيفة حريات يوم 31 تشرين الأول/أكتوبر 2017 "لا أريد عرض قاعدة لنقاشات إن كان (أتاتورك) هو الذي اكتشف حزب العدالة والتنمية، إلا أنه في هذه المرة كان التأكيد أقوى على الجمهورية و(أتاتورك)، يبدو أن أردوغان لا يقوم بذلك للتقرب من حزب الحركة القومية فقط، بل يتحول إلى مظهر مرشح جديد يتبنى (أتاتورك) والجمهورية". كذلك يوم 31 تشرين الأول/أكتوبر 2017 يقول كاتب ستار الموالي أحمد كيكيتش: "لنقل إن أعضاء حزب العدالة والتنمية (اتخذوا قرار التصرف كأتباع (أتاتورك) بشكل خفيف) فما هو المرجع الذي سيتخذ قرار إن كان ذلك مقنعاً أم لا؟! فمن هو المرجع الذي يحتاجون الحصول على إجازته أو مصادقته؟!"

هذا يعني أن حزب العدالة والتنمية سيتصرف من الآن فصاعدا مثل الكماليين. لذلك بالإمكان تقييم القرارات بالسجن التي اتخذتها المحاكم بحق الكتاب المعارضين لمصطفى كمال والعلمانية أنها من هذا المنطلق. بأي اسم يقوم حزب العدالة والتنمية بهذا؟ كما يقول عبد القادر سيلفي فإن حزب العدالة والتنمية يقوم بذلك بحجة مظهر المرشح الجديد وحصد أكبر عدد من الأصوات، ربما كذلك ولكن في الوقت ذاته يقوم باستراتيجية دفع المسلمين على استيعاب هذا النظام بسرية تحت حجة حصد الأصوات. وباختصار من اليوم فصاعدا لن يتم فتح نقاشات ضد الليبراليين والكماليين، على العكس ستفتح النقاشات مع المسلمين.

ثانيا: إن تصرف حزب العدالة والتنمية على أنهم كماليون وجمهوريون يقصد منه جذب انتباه الإنجليز. لأن الإنجليز هم الذين أسسوا النظام الجمهوري. كما أننا لا ننسى ردة فعل الإنجليز وتجميع أوروبا ضد تركيا ومعارضتها للاستفتاء على تحويل النظام من برلماني إلى رئاسي.

وثالثا: إن تطوير لغة سياسية جديدة في مظهر المرشح الجديد لأمر حتمي في حزب يضم أعضاء حزب العدالة والتنمية الخفيين المعارضين للنظام الرئاسي، و"المسائين". فها هو حزب العدالة والتنمية يطور لغة سياسية جديدة على حساب المسلمين، وهي الكمالية والعصبية الجمهورية...

﴿وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾ [الأنفال: 30]

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست