إخفاء الإعلام العالمي ما يحدث في أوزبيكستان يظهره حزب التحرير في إعلامه
إخفاء الإعلام العالمي ما يحدث في أوزبيكستان يظهره حزب التحرير في إعلامه

وصول رسالة من القابعين في سجون أوزبيكستان يظهرون فيها حقائق عن الجرائم التي يمارسها النظام الأوزبيكي في حقهم.

0:00 0:00
Speed:
November 08, 2015

إخفاء الإعلام العالمي ما يحدث في أوزبيكستان يظهره حزب التحرير في إعلامه

إخفاء الإعلام العالمي ما يحدث في أوزبيكستان يظهره حزب التحرير في إعلامه

الخبر:

وصول رسالة من القابعين في سجون أوزبيكستان يظهرون فيها حقائق عن الجرائم التي يمارسها النظام الأوزبيكي في حقهم.

التعليق:

كثير من الناس لم يسمعوا عن هذا البلد بل لم يعرفوا أن هناك بلدا بهذا الاسم، وكيف سيعرفون والمناهج الدراسية تخلو من أي معلومات عنه، والإعلام يكاد يكون معدوما ذكره لها إلا من الذكر النادر الخجول كخبر الانتخابات دون ذكر متعلقاتها.

وإنك إن وضعت كلمة أوزبيكستان على شريط البحث جوجل فلن تجد إلا معلومات عنها في ويكيبيديا يذكر فيها معلومات عن عدد السكان والمساحة والمناخ والتسلسل التاريخي... دون التطرق إلى واقع ما يتعرض له المسلمون هناك.

وللأمانة هناك مواقع إلكترونية إسلامية ولو قليلة قياسا لمجموع المواقع، اهتمت بإبراز ما يعانيه مسلمو أوزبيكستان من أشكال الظلم والاضطهاد، فبارك الله فيهم.

وأكثر ما تجد هو نقلٌ عن مواقع حزب التحرير فهو الأكثر اطلاعا على أحوالهم، ولم لا وهو من أكثر المسلمين اضطهادا هناك، حيث يُنظر إلى شبابه أنهم الأخطر على البلد ونظامها.

أيها المسلمون:

ألم تسمعوا عن الإمام البخاري والخوارزمي والبيروني والنسائي والزمخشري والترمذي، رجال أئمة خرجوا من رحم هذا البلد الذي دخله الإسلام مبكرا واستمر يُحكم بالإسلام إلى أن وقع بأيدي الروس الذين كان يحكمهم القياصرة ثم الشيوعيون، فكانت أوزبيكستان واحدة من البلاد التابعة للاتحاد السوفييتي، والتي تعرضت لمحاولة طمس لهويتها ومعالمها الإسلامية.

ظن المسلمون في أوزبيكستان بعد انهيار الاتحاد السوفييتي واستقلال البلاد عام 1991م أن كابوسا اسمه الشيوعية قد انزاح عنهم وسيعودون للحياة الإسلامية من جديد، فلم يكونوا يظنون أن روسيا لم تكن لتتخلى عن البلاد بهذه السرعة، وأن الاستقلال ما هو إلا خدعة، فبدلا من أن تحكم البلاد بحاكم روسي يرفضه الشعب الذي نسبة المسلمين فيه حوالي 90% وضعت عميلا لها يدعي الإسلام إلا أنه كان قبل أن يستلم الحكم زعيما للحزب الشيوعي الأوزبيكي الحاكم، وهذا يعني أنه يحمل الفكر الشيوعي المعادي للإسلام، وإلى الآن بقي هذا الحاكم متمسكا بالحكم طوال الأربع وعشرين سنة الماضية.

إن روسيا حاولت كل جهدها أن لا يكون على بلاد المسلمين التي كانت ضمن الاتحاد السوفييتي حاكمٌ يحكمها إلا ويكون عميلا مخلصا لها يحمل فكرها فيدعي حبه للمسلمين والعمل على رعايتهم إلى أن يتسلم زمام الحكم ثم يغدر بهم ويفرغ فيهم كل أصناف الحقد والكراهية، وهكذا كان حاكم أوزبيكستان.

لقد عمل طاغية أوزبيكستان على رعاية شؤون الروس الذين لا تتجاوز نسبتهم 10% من السكان وأهمل المسلمين الـ90%، ويا ليته فقط أهملهم لكنه عمل على قتلهم وسجنهم وتهجيرهم وشن عمليات إبادة لهم... كل ذلك إرضاء لروسيا وتحقيقا لمصالحها.

إن كريموف ذا المزاج المتقلب الذي يتنقل بالعمالة بين روسيا وأمريكا حسب مصلحته وقوة الجهة الجاذبة بمغرياتها له، رأى أن أقرب طريق للوصول إلى رضاهما، هو إعلان الحرب على المسلمين، والتضييق عليهم، ومعاداتهم فانتهج ضدهم نهجاً طاغوتياً مسيطراً، اعتقل وطارد الأئمة المخلصين وحملة الدعوة وأغلق أكثر من 3000 مسجد وحول معظمها إلى مستودعات ومصانع تابعة للحكومة وإلى استراحات وكازينوهات.

وفي المقابل زادت أعداد السجون والسجناء رجالا ونساء لا لشيء إلا لأنهم يريدون التمسك بإسلامهم والعمل على الانعتاق من أحكام الكفر والضلال، والأمثلة والقصص مما يرد من داخل السجون سرا ومما يظهر على أجساد السجناء المرضى الذين يَعُدون أيامهم الأخيرة بعد أن حقنوا بفيروسات مميتة، وما يظهر من آثار تعذيب لا يتصوره عقل على جثامين شهداء المعتقلات التي يمكن أن يراها أهلهم خلسة، دليل على الوحشية التي يصبّها المجرم كريموف والسجانون ورجال المخابرات على المستضعفين من المسلمين حتى على ذوي السجناء.

صرح اليشر ايلخاموف، المتخصص في الشؤون الأوزبيكية بمؤسسة "المجتمع المفتوح" في لندن، لوكالة انتر بريس سيرفس أن "تعذيب السجناء الدينيين ثابت، ولا أرى أي أمل في التحسن في السنوات المقبلة. سيظل المسلمون يعانون من القمع لفترة طويلة. وليس لدي أدنى أمل في أن يتغير هذا الوضع مستقبلا"، وأضاف: "أن الحكومة تعتبر المسلمين كأكبر مصدر محتمل للخطر"، خاصة وأن الزعماء الدينيين برهنوا في الماضي على قدرتهم على حشد عدد كبير من الناس.

وبسبب الآلة الإعلامية الضخمة التي يمسك بزمامها أعداء الإسلام والمسلمين، فإن هذا البلد لم يحظ بالاهتمام الإعلامي العام أو الخاص، على اعتبار أن ما يعانيه المسلمون هي مشكلات داخلية، لا يتدخل فيها بقية المسلمين في العالم.

إن الكفار عامة بجميع نحلهم ومذاهبهم يمكرون بالمسلمين عامة وحملة الدعوة خاصة، فلا يهدأ لهم بال ولا ينام لهم جفن وهم يمكرون لظنهم أنهم قادرون على أن يطفئوا نور الله، ويمنعوا رجوع الإسلام إلى الحياة وإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وإن هذا العداء ليس حديثا وإنما هو متأصل منذ أن بعث الله الرسول r بالرسالة المحمدية، وقد كشف الله هذه العداوة في كثير من الآيات: قال تعالى: ﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ، وقال تعالى: ﴿وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ * فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ﴾.

فيا أهل أوزبيكستان، يا من لم يُضعف عزائمكم بطشُ الطاغية كريموف ومجازره نقول لكم قول الله تعالى: ﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ * إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُم مُّحْسِنُونَ﴾، ولن يطول الوقت بإذن الله.

﴿إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا * وَأَكِيدُ كَيْدًا * فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم: راضية عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست