إلى الشباب الثائر في فلسطين.. لا تسمحوا لانتهازي باستثمار دمائكم في صفقات قذرة
إلى الشباب الثائر في فلسطين.. لا تسمحوا لانتهازي باستثمار دمائكم في صفقات قذرة

لم يجد الشباب الفلسطيني سوى السكين وسيلة للتعبير عن غضبهم من اعتداء الاحتلال الإسرائيلي والمستوطنين على مقدساتهم ودماء شعبهم، خصوصا في ظل انصراف الجوار العربي والفصائل الفلسطينية عن التفاعل مع معركة القدس والأقصى التي يخوضها المقدسيون منفردين...

0:00 0:00
Speed:
October 12, 2015

إلى الشباب الثائر في فلسطين.. لا تسمحوا لانتهازي باستثمار دمائكم في صفقات قذرة

خبر وتعليق

إلى الشباب الثائر في فلسطين..
لا تسمحوا لانتهازي باستثمار دمائكم في صفقات قذرة


الخبر:


الجزيرة نت: حرب السكاكين.. انتصار الفلسطيني لمقدساته


لم يجد الشباب الفلسطيني سوى السكين وسيلة للتعبير عن غضبهم من اعتداء الاحتلال الإسرائيلي والمستوطنين على مقدساتهم ودماء شعبهم، خصوصا في ظل انصراف الجوار العربي والفصائل الفلسطينية عن التفاعل مع معركة القدس والأقصى التي يخوضها المقدسيون منفردين.


التعليق:


ولدي الثائر الذاهب إلى الشهادة


إذا كتبت رسالة وداع لأهلك، فلا تختمها باسم حماس أو الجهاد أو فتح أو أية حركة بل اختمها برسالة موجهة إلى الجيش الأردني والمصري للثأر لدمك، وحملهم مسؤوليته، وأنك ستقاضيهم عند الله لأنهم تركوا مسؤولياتهم وألقوها على شباب مثلك، لا يملكون سوى الحجر والسكين والمفك والمقليعة.. واستخدموا دباباتهم وطائراتهم ومدافعهم وصواريخهم لقتل المسلمين في سوريا واليمن... لا لأن رسالتك ستحرك جيوشا ألفت الذل والمهانة... تبلدت أحاسيسهم.. بل هي شهادة لك عند الله أنك أديت الرسالة وبلغت الأمانة ونصحت الأمة وجُدت بدمك في سبيل الله...


إلى معركة السكاكين


بدأت القصة بالمرابطات لحماية الأقصى من قطعان يهود اللواتي واصلن الليل بالنهار منذ عامين للمرابطة بالأقصى لحمايته من التقسيم الزماني والمكاني الذي يرغب كيان يهود في تنفيذه، فوقفت هؤلاء النسوة لهم بالمرصاد.. في الوقت الذي جبنت فيه الجيوش عن تحريك جنودها في خدمة الأقصى أولى القبلتين وثالث الحرمين الشريفين، حبا في الدنيا وتفضيلا لدنانير معدودة على جنات عرضها السماوات والأرض.


ولم تكن رحلة المرابطات سهلة ميسورة وإنما كانت شاقة تعرضت النسوة خلالها للضرب والإبعاد والاعتقال ولكن ذلك لم يثنِهن عن موقفهن.


لكن في الآونة الأخيرة زاد الضرب والاعتداء مما دعا الشباب إلى مشاركة المرابطات، فدخلوا المسجد وأحضروا معهم الحجارة للدفاع عن المرابطين والمرابطات، وزاد استفزاز المستوطنين لأهل الأقصى خاصة وأهل القدس وفلسطين عامة من حرق ودهس واعتقال وضرب.. فتحرك الغضب في النفوس وافتتح مهند الحلبي الانتقام بطعن ثلاثة جنود وإصابة الرابع حتى استشهد فتبعه الشباب والبنات باستخدام السكاكين والمفكات للطعن والحجارة للضرب، وبدأ التكهن بقيام انتفاضة ثالثة وسميت الأعمال الشبابية بمعركة السكاكين.


لكن الذي يصيب السلطة الفلسطينية وكيان يهود بالذعر هو أن الشباب الغاضب لا يأخذ أوامره من تنظيمه، قراره ذاتي لا يسيطر عليه أحد ولا يستطيع أن يسيسه أحد... بخلاف الشاب الذي يأخذ أوامره من تنظيمه فإنه يمكن السيطرة عليه ويمكن التفاوض مع قادته لاستثمار دمه في صفقات سياسية تعطي كيان يهود ما لا يمكن أن تنتزعه بالقوة.


فهل يبقى الشباب ثائرا ثورة ذاتية قراره من صنع بنات أفكاره لا يسيطر عليه تنظيم جهادي أو علماني.. هل يستفيد الشباب من الانتفاضات السابقة التي جيرت فيها دماء من سبقوهم وأشلاؤهم لمؤتمر مدريد واتفاقيات أوسلو ووادي عربة، فقد بدأت الانتفاضة الأولى في شهر كانون الثاني عام 1987 واستمرت 7 سنوات وانتهت عام 1994.


في سنوات الانتفاضة، وفي الوقت الذي كان الشعب فيه يجاهد ويراق دمه؛ جرت مفاوضات علنية في مؤتمر مدريد 1991/10/30م، ثم مفاوضات ثنائية في نيويورك امتدت من شهر 1991/11م، إلى شهر 1994/10م، وأخرى سرية بين بعض قادة منظمة التحرير الفلسطينية وبين شمعون بيريز في أوسلو عاصمة النرويج، واستيقظ الناس في 30 آب 1993م على إعلان اتفاق أوسلو، ووقع عليه في واشنطن برعاية الرئيس كلينتون في 1993/09/13م على أنه اتفاق إعلان مبادئ، يخلص دولة يهود من ورطتها في مواجهة الانتفاضة، ويقدم للطرف الفلسطيني نتفاً من الأرض الفلسطينية، كما تم توقيع اتفاق "الحكم الذاتي في غزة وأريحا أولاً" في القاهرة في 1994/5/4م، وسمح للسلطة الفلسطينية بالدخول إلى أريحا وقطاع غزة، في الشهر نفسه، ثم دخل رئيس المنظمة ياسر عرفات إلى غزة في تموز 1994م.


وبذلك توقفت الانتفاضة الأولى؛ لأن أي تحرك بعد الآن يقوم به المجاهدون سيقف في وجهه أجهزة الأمن الفلسطينية التي كانت مهمتها الأساسية حفظ أمن كيان يهود، وليس كما توهم بعض أجنحة الانتفاضة أن البلاد تحررت من يهود، وأنها ستكمل انسحابها من الضفة وغزة، وتخلي المستوطنات، ويعود النازحون واللاجئون!!


كما أسفرت الانتفاضة الأولى عن اتفاق وادي عربة الذي نهب خيرات الأردن وحرم أهلها منها وأعطاها ليهود.


تم في هذه الانتفاضة استثمار دم 1392 شهيداً منهم 353 طفلاً، و130787 جريحاً، و18211 معتقلاً، و2400 بيت مهدم، و185 ألف شجرة مقطوعة.. في الصفقات اعلاه.


اما الانتفاضة الثانية فقد اندلعت في 28 أيلول/سبتمبر 2000 وتوقفت فعلياً في 8 شباط/ فبراير 2005 بعد اتفاق الهدنة الذي عقد في قمة شرم الشيخ بين محمود عباس وشارون بحضور عبد الله الثاني وحسني مبارك.


وقد أسفرت هذه الانتفاضة عن قتل القادة العسكريين والمجيء بقيادات سياسية تناسب المرحلة القادمة.


فقد قتل كل من أحمد ياسين وعبد العزيز الرنتيسي وأبو علي مصطفى القادة العسكريين وجاء مكانهم محمود عباس وزمرته، وقد راح ضحيتها 4412 شهيدا فلسطينيا و48322 جريحاً، كما دمرت البنية التحتية الفلسطينية.


فهل تتحول الأعمال القتالية الانتقامية الفردية إلى انتفاضة ثالثة يستغلها الانتهازيون المتربصون لجمع المزيد من الأموال والتبرعات باسم الإنفاق على الانتفاضة ومعالجة الجرحى ودفع تعويضات لأهالي القتلى؟


ولدي الثائر


بدأت الانتفاضة الأولى بأعمال فردية لكن الانتهازيين سرعان ما وضعوا أيديهم القذرة عليها فجيروها لحساباتهم.


الدفاع عن النفس مشروع ولكن لا تدع غيرك يستثمر دمك في مشاريع استسلامية وصفقات قذرة، لا تنتظر تعليمات من أحد، فكلهم أثبتوا أنهم مرتبطون يقبضون ثمن الدماء والأشلاء ليزيدوا أرصدتهم البنكية.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
نجاح السباتين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست