إلى أين ستؤدي ثروة أفغانستان الجيوسياسية وموارد المنطقة؟!
إلى أين ستؤدي ثروة أفغانستان الجيوسياسية وموارد المنطقة؟!

الخبر: قامت لجنة مجلس النواب للقوات المسلحة بالعمل على قانون لإيقاف خطة دونالد ترامب التي تقضي بانسحاب 4.000 جندي أمريكي من أفغانستان مع نهاية الانتخابات الرئاسية. وقالت ليز تشيني، وهي عضو في قيادة البيت الجمهوري، أن انسحاب القوات الأمريكية من أفغانستان يجب أن لا يقوّض الحرب على "الإرهاب" في أفغانستان. كما أضافت "إنها خطة حساسة تركّز على ما يهم حقا - ما نحتاجه لزيادة قوة أمننا وما نحتاج القيام به في أفغانستان

0:00 0:00
Speed:
July 07, 2020

إلى أين ستؤدي ثروة أفغانستان الجيوسياسية وموارد المنطقة؟!

إلى أين ستؤدي ثروة أفغانستان الجيوسياسية وموارد المنطقة؟!

(مترجم)

الخبر:

قامت لجنة مجلس النواب للقوات المسلحة بالعمل على قانون لإيقاف خطة دونالد ترامب التي تقضي بانسحاب 4.000 جندي أمريكي من أفغانستان مع نهاية الانتخابات الرئاسية. وقالت ليز تشيني، وهي عضو في قيادة البيت الجمهوري، أن انسحاب القوات الأمريكية من أفغانستان يجب أن لا يقوّض الحرب على "الإرهاب" في أفغانستان. كما أضافت "إنها خطة حساسة تركّز على ما يهم حقا - ما نحتاجه لزيادة قوة أمننا وما نحتاج القيام به في أفغانستان. يجب علينا أن نتأكد من أن مغادرة أفغانستان لن تزيد من خطر تشكيل ملاذات آمنة جديدة للإرهاب داخل أفغانستان. كما يجب علينا أن نتأكد أيضا من أنه يمكننا تنفيذ مهمات ضد الإرهاب هناك". (تولونيوز، وكالات)

التعليق:

من الواضح أن أمريكا قامت بتقليص أعداد قواتها من 13.000 إلى 8.600 في أفغانستان بعد توقيع اتفاقية السلام مع طالبان، وخلال 14 شهرا من توقيع الاتفاقية، من المتوقع أن تسحب أمريكا بقية قواتها مقابل التزام طالبان الكامل بالاتفاقية. وتشير التقارير الأخيرة إلى أن البنتاغون يسعى إلى إنهاء خطة لانسحاب 4.000 عسكري آخر من أفغانستان، والتي حتى الآن، لا تزال مقيّدة بسبب مجلس النواب الأمريكي.

إنه من المؤسف الإعلان بأن مثل تلك السيناريوهات كـ"الحرب والسلام"، وانسحاب القوات الأمريكية بشكل "كامل أو جزئي"، و"الفرص الاقتصادية" في أفغانستان والمنطقة ترتبط بكل وضوح بالألاعيب السياسية الأمريكية وبحملة ترامب الانتخابية حسب الأجندة الإعلامية. وبسبب جائحة فيروس كورونا، فإن أمريكا تعاني من أزمات شديدة: تسجيل معدل عال للبطالة، وركود اقتصادي خطير، وأزمات مجتمعية كبيرة، وغيرها من الأزمات الكارثية. كما أن دونالد ترامب بالكاد تمكن من الإثبات للعالم بأن فريقه غير قادر على إدارة العلاقات وسط الأزمات. ولهذا، يبدو أنه لا مجال أمام ترامب سوى استغلال الوضع في أفغانستان. ولذلك فهو ينوي التلاعب بمحادثات السلام الأفغانية لصالحه ليفوز بالرأي العام الأمريكي في لعبة الانتخابات.

إلا أن الحكومة الأمريكية لا يقودها أفراد وإنما مؤسسات متعددة. وتلك المؤسسات عادة لا يوجد بينها أي خلاف حول المصالح الوطنية لأمريكا والمؤسسات المحلية، والمعرفة حسب السياسة الأمريكية الخارجية؛ إلا أنه وفي بعض المناسبات، يمكن أن نرى أن تلك المؤسسات تنقلب على بعضها عندما يتعلق الأمر بالقضايا التي ذكرناها. لهذا، فإن ما يحاول دونالد ترامب إدارته في الوقت الحالي مع زلماي خليل زاد، المبعوث الأمريكي للسلام في أفغانستان، والذي قد يشكل تحديا حقيقيا بسبب بعض المؤسسات خلال العملية و/أو بعد انتهاء العملية.

ولذلك فإن ترامب يسعى جاهدا لتسوية عملية السلام الأفغانية، مثبتا بذلك أنه الفائز الوحيد في الانتخابات الأمريكية في عيون الأمريكان. ولتحقيق هذا الهدف، فإن رحلة خليل زاد الأخيرة للمنطقة والتي ناقش فيها "تخفيف العنف والإفراج في الوقت المناسب عن المساجين" يبدو أنها رحلة مختلفة بشكل مميز عن سابقاتها التي قام بها، حيث إن آدم بهلر، رئيس مؤسسة تمويل التنمية الدولية كان مرافقا له في أوزبيكستان وباكستان وقطر. وقبل بدء الرحلة، قام وزير الخارجية مايك بومبيو وزلماي خليل زاد بعقد مؤتمر عبر الفيديو مع وزراء آسيا الوسطى لمجموعة الـج5+1، حيث تداولوا موضوع احتمالية دمج محادثات السلام الأفغانية والتي من الممكن أن تفتح الازدهار للمنطقة بين تلك الدول. بعد ذلك، أثنى زلماي خليل زاد، في مجموعة من التغريدات، على الجهود التي بذلتها دول آسيا الوسطى لتحقيق السلام والاستقرار في أفغانستان. حيث غرد: "إن آسيا الوسطى، مكونة من دول ذات سيادة ومستقلة تعمل معا من أجل ربط أفغانستان بجنوب آسيا مما يصب في مصلحة المنطقة وأمريكا".

يمكن اعتبار مثل تلك الرسائل أنها تدخل أمريكي مباشر في الخطوط الإقليمية الروسية في آسيا الوسطى، من جهة؛ ومن جهة أخرى، يمكن أن تكون إشارة واضحة لدول آسيا الوسطى لتوسيع العلاقات مع أمريكا، دون الإشارة إلى الصين. وإذا كانت تلك هي الحالة، فإن دول آسيا الوسطى ستقف في وجه مشروع الصين العظيم "مبادرة الحزام والطريق".

إن مثل هذه الاستراتيجية الأمريكية في المنطقة، جعلت من أفغانستان منصة أكثر أهمية تستطيع أمريكا من خلالها أن تضع عقبات عظيمة أمام ما يُدعى بالمشروع الصيني في باكستان أيضا. وكما يبدو فإن هذه السياسة تم تصميمها من أمريكا وحلفائها لتصدير المزيد من الطاقة من آسيا الوسطى إلى جنوب آسيا، خصوصا إلى الهند، لمساعدة الهند في التسبب بالمزيد من التوترات للصين.

في الحقيقة إن كل هذه الأهداف الأمريكية ستتحقق فقط إذا رأت أفغانستان الأمن والسلام. وبالتالي فقد ناقشت أمريكا مفهوم الفرص مع قيادة المكتب السياسي لطالبان في قطر، إضافة إلى استثمار الحكومة القطرية في أفغانستان. ومثال على هذا الإجراء يمكن رؤيته بوضوح من خلال حضور آدم بوهلر الجولة الأخيرة من رحلة خليل زاد. فهذه السياسة يمكن رؤيتها كإجراء لاستغلال الوضع الجيوسياسي لأفغانستان لتطويق مصالح الصين وروسيا وباكستان من خلال إعطاء الهند ميزة التفوق عن طريق مساعدة أمريكا لها في هذه الحلبة.

ومما لا شك فيه، أن أمريكا قد أدركت أنها لن تحقق الفوز في أفغانستان من خلال الحرب فقط، حيث تم تكرار ذلك مرارا من قبل مسؤولين عسكريين وسياسيين أمريكيين رفيعي المستوى. ولتلخيص كل ذلك، ففي الوضع الحالي، فإن أمريكا تحاول استبدال نهجها من خلال بذل دبلوماسيتها الماكرة، وقوتها الناعمة، والفرص الاقتصادية المشتركة في المنطقة لانتهاز الوضع وتحويله إلى صالحها. ويجب علينا أن لا ننسى أن هذه السياسة وبكل وضوح تبرهن أن أمريكا لا تزال مستمرة في عداوتها للإسلام والمسلمين. ولذلك، هناك حاجة ملحة للمسلمين في المنطقة للوقوف أمام كل الأجندة الأمريكية الخبيثة، وبما فيها الصين وروسيا وغيرها من الدول، وأن يكافحوا من أجل إقامة الخلافة. لأن الخلافة وجيشها الذي لا يخاف، هم فقط الذين يمكنهم القضاء على المستعمرين وكل من عادى الأمة الإسلامية من على وجه الأرض. ولهذا يجب على المسلمين مرة أخرى أن يستعيدوا دينهم وبلادهم وثرواتهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

#أفغانستان
Afghanistan#
Afganistan#

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست