إلى أين تتّجه أمريكا؟
إلى أين تتّجه أمريكا؟

الخبر:    بعد شراء تويتر مقابل 44 مليار دولار، أصدر أليون ماسك تغريدات داخلية تسمى "ملفات تويتر" حول رقابة الشّركة على المحافظين الأمريكيين. وأفادت قناة فوكس الإخبارية في 14 كانون الأول/ديسمبر أن: "الجمهوريون يكثّفون التحقيق في تويتر وفيسبوك بشأن التواطؤ مع مشرف بايدن لفرض رقابة على الكلام... في انتهاك لدستور الولايات المتحدة". يريد الجمهوريون إجراء تحقيق في التقارير التي تفيد بأن "شركات وسائل التواصل تصرّفت بأمر من الوكالات الحكومية والمسؤولين عند إزالة المحتوى أو تقييده أو إخلاء مسؤوليته".

0:00 0:00
Speed:
December 17, 2022

إلى أين تتّجه أمريكا؟

إلى أين تتّجه أمريكا؟

(مترجم)

الخبر:

 بعد شراء تويتر مقابل 44 مليار دولار، أصدر أليون ماسك تغريدات داخلية تسمى "ملفات تويتر" حول رقابة الشّركة على المحافظين الأمريكيين. وأفادت قناة فوكس الإخبارية في 14 كانون الأول/ديسمبر أن: "الجمهوريون يكثّفون التحقيق في تويتر وفيسبوك بشأن التواطؤ مع مشرف بايدن لفرض رقابة على الكلام... في انتهاك لدستور الولايات المتحدة". يريد الجمهوريون إجراء تحقيق في التقارير التي تفيد بأن "شركات وسائل التواصل تصرّفت بأمر من الوكالات الحكومية والمسؤولين عند إزالة المحتوى أو تقييده أو إخلاء مسؤوليته".

التعليق:

أمريكا منقسمة بشدة حول ملفات تويتر كما هو الحال بالنسبة لأشياء أخرى. تتجاهل وسائل الإعلام اليسارية الليبرالية القصة، وتعمل إدارة بايدن على تشتيت انتباه الناس بتشريع جديد يعيد تأكيد زواج الشواذ والأحداث الإعلامية في البيت الأبيض مع ملكات كوير. من ناحية أخرى، تستعد وسائل الإعلام المحافظة للحرب. إنهم يركزون على قضيتين.

أولاً، كان مكتب التحقيقات الفيدرالي على اتصال مستمر مع تويتر وفيسبوك خلال الحملة الانتخابية الأمريكية لعام 2020 وكانت نتيجة هذه الاجتماعات هي الرقابة على الأخبار التي من شأنها الإضرار بحملة بايدن. حظر تويتر تداول قصة إخبارية من نيويورك بوست في 14 تشرين الأول/أكتوبر 2020 بعنوان: "تدخين بندقية البريد الإلكتروني يكشف كيف قدم هانتر بايدن رجل الأعمال الأوكراني إلى نائب الرئيس". وأصدرت صحيفة ذي بوست رسائل بريد إلكتروني مستخرجة من الكمبيوتر المحمول الخاص بهانتر بايدن والتي أظهرت كيف استفاد من شركة أوكرانية كانت تدفع له راتباً شهرياً قدره 50000 دولار: "عزيزي هانتر، شكراً لك على دعوتي إلى واشنطن وإتاحة الفرصة لمقابلة والدك..."، بعدها بأقل من 8 أشهر من ذلك الاجتماع، وفقاً للمنشور، "ضغط نائب الرئيس آنذاك على الرئيس الأوكراني بترو بوروشينكو ورئيس الوزراء أرسيني ياتسينيوك للتخلص من المدعي العام فيكتور شوكين من خلال التهديد بحجب ضمان قرض أمريكي بقيمة مليار دولار خلال رحلة كانون الأول/ديسمبر 2015 إلى كييف".

في نيسان/أبريل، صرّح ماسك: "حرية التعبير هي حجر الأساس لديمقراطية فاعلة، وتويتر هو ساحة المدينة الرقمية حيث تتمّ مناقشة الأمور الحيوية لمستقبل البشرية". تظهر ملفات تويتر لأول مرّة بالضبط كيف كانت منصة التواصل تعمل مع الدولة العميقة لفرض رقابة على المحافظين بذرائع كاذبة. تمّ حظر ترامب من تويتر بعد فترة وجيزة من خسارته الانتخابات، وهو الأمر الذي كان معروفاً للجميع، لكنهم يعرفون الأعمال الداخلية لعدد الأصوات المحافظة التي تمّ إسكاتها سراً من خلال "حظر الظل" حيث بقيت حساباتهم، لكن منشوراتهم أصبحت أقلّ وضوحاً وتمّ إيقافها من الانتشار على نطاق واسع.

المسألة الثانية التي تثير الغضب بين المحافظين هي أنّ الشخص المسؤول على تويتر والذي كان مسؤولاً عن تحديد حساباته أو تغريداته للرقابة كتب ذات مرة: "أستمتع بعقد أنواع الاجتماعات التي يُعتبر فيها البحث عن "مثلي الجنس الإباحية بدون سرج" عملا أكاديمياً". (24 أيلول/سبتمبر 2012). تم تعيين يوئيل روث كرئيس عالمي للثقة والسلامة في تويتر حتى فصله ماسك وأصدر مراسلاته الداخلية.

اتهمه ماسك بالفشل في حماية الأطفال: "إنها جريمة أنهم رفضوا اتخاذ إجراءات بشأن استغلال الأطفال لسنوات!" واضّطر روث لاحقاً إلى الفرار من منزله بسبب غضب الأمريكيين الذين حاولوا محاسبته. يقول المحافظون مثل ستيفن كراودر، الذي لديه 5.91 مليون مشترك "هذا الرجل يخبر الناس أن المواد الإباحية للأطفال يجب أن تكون مقبولة، من المفترض أن نشعر بالسوء تجاهه؟ هيا يا رفاق، لن تكون هناك حضارة لنحميها ما لم تضع قدمك على الأرض".

كان مؤهل يوئيل الرئيسي لوظيفته في تويتر حصوله على درجة الدكتوراه. وحصل على جائزة في عام 2016 حيث كتب: ".. يجدر النظر في كيف يمكن للجيل الحالي من المواقع الشعبية للتواصل الشبكي للشواذ أن يتناسب مع المشهد الاجتماعي الشاذ الذي يشمل بشكل متزايد الأفراد الذين تقل أعمارهم عن 18 عاماً، بدلاً من مجرد محاولة إعفاء أنفسهم من المسؤولية القانونية، أو الأسوأ من ذلك، محاولة طرد المراهقين تماماً، يجب على مقدمي الخدمات التركيز بدلاً من ذلك على صياغة استراتيجيات أمان يمكنها استيعاب مجموعة متنوعة من حالات الاستخدام لمنصات مثل "جريندر" بما في ذلك، ربما، دورهم في ربط الشباب المثليين بأمان". انضم روث إلى فريق الثقة والأمان في عام 2015 حيث غرّد في وقت لاحق من ذلك العام: "سيعيش تويتر في الإباحية يوماً آخر! - لقد صرخت للتو بصوت عالٍ في العمل".

المحافظون الأمريكيون غاضبون من تعيين أشخاص مثل يوئيل روث في مناصب حساسة للغاية على أساس ما يسمى بتأكيد الجنس غير الثنائي أو ميولهم الجنسية. يوجد أيضاً في الأخبار: "سام برينتون، موظف النفايات النووية في إدارة بايدن، يراقب الكاميرا في صورة وجه جديدة أثناء مثوله أمام المحكمة بعد إلقاء القبض الثاني عليه لسرقة أمتعة المطار". مع تقدم الأجندة الليبرالية إلى الأمام وتقويض الحضارة كما كنا نعرفها، حتى اللغة تتغير. يعرّف قاموس كامبريدج الآن المرأة على أنها: "شخص بالغ يعيش ويتعرف على أنه أنثى رغم أنه ربما قيل إنه كان لها جنس مختلف عند الولادة".

إن قوة القوى الخفية في إملاء نشر الأفكار والخيارات التي يتّخذها الناس ليست كشفاً جديداً، لكن ملفات تويتر تضيف شيئاً جديداً. تمتلك الآن بضع شركات بمليارات الدولارات قوة متجانسة للترويج لرأي سياسي على حساب آخر، ولم يكن سوى ملياردير آخر لديه 44 مليار دولار لإنفاقه من يمكنه كشفه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست