إلى متى يبقى السودان تحت الانتداب الغربي!!؟
إلى متى يبقى السودان تحت الانتداب الغربي!!؟

وصف إبراهيم غندور وزير الخارجية السوداني زيارة وفد مجلس اللوردات البريطاني للبلاد بالمهمة والتي سيزور خلالها شمال دارفور وولاية نهر النيل والشمالية، وأوضح أن الغرض منها هو التعرف على تطورات وحقائق الأوضاع.. وأضاف قائلاً: (قدمت لهم شرحاً وافياً حول الحوار الوطني والتزام الرئيس البشير بتنفيذ مخرجات الحوار الوطني، بجانب جدية الحكومة في مفاوضات السلام مع قطاع الشمال وحركات دارفور). (صحيفة اليوم التالي - 15 شباط/فبراير 2016م)

0:00 0:00
Speed:
February 18, 2016

إلى متى يبقى السودان تحت الانتداب الغربي!!؟

إلى متى يبقى السودان تحت الانتداب الغربي!!؟

الخبر:

وصف إبراهيم غندور وزير الخارجية السوداني زيارة وفد مجلس اللوردات البريطاني للبلاد بالمهمة والتي سيزور خلالها شمال دارفور وولاية نهر النيل والشمالية، وأوضح أن الغرض منها هو التعرف على تطورات وحقائق الأوضاع.. وأضاف قائلاً: (قدمت لهم شرحاً وافياً حول الحوار الوطني والتزام الرئيس البشير بتنفيذ مخرجات الحوار الوطني، بجانب جدية الحكومة في مفاوضات السلام مع قطاع الشمال وحركات دارفور). (صحيفة اليوم التالي - 15 شباط/فبراير 2016م)

التعليق:

إن مشكلة هذه الأمة هي أنها لا تزال تعاني من الاستعمار المباشر تارة وغير المباشر تارة أخرى وهذا معلوم من أمر السياسة بالضرورة، ويعلمه رويبضات هذا الزمان، ولكن المؤسف والذي يدعو فعلاً للحسرة والأسى هو هذا الخطاب الاستعماري الاستعلائي الاستفزازي الذي يتقدم به جنود المستعمر للحكام دون مراعاة حتى لمشاعر العوام من الناس فضلاً عن السياسيين، فها هم يتحدثون صراحة وبكل وقاحة أنهم جاؤوا للبلاد من أجل الوقوف على الحقائق ميدانياً، ومعرفة مدى تقدم الحكومة في تنفيذ أجندة المستعمر في البلاد، ولا يكتفي الوفد بزيارة الخرطوم بل إنه سيطوف على الولايات ليقف على سير المؤامرات على أرض الواقع حاشراً أنفه في تفاصيل التفاصيل المتعلقة بالملفات التي تهمه.

وفي سياق آخر يؤكد لنا أن السودان لا يزال تحت الانتداب الغربي وأن حكامه ما هم إلا دمى تحرك يمنة ويسرة بحسب رغبة (اليانكي)؛ فقد دعا رئيس بعثة الاتحاد الأوروبي في الخرطوم (توماس يوليشني) الحكومة السودانية إلى (ضرورة تيسير نشاط المنظمات الدولية لتتمكن من تنفيذ مشاريعها) صحيفة آخر لحظة عدد (3359) الصادرة في 6 جمادى الأولى 1437هـ الموافق 15 شباط/فبراير 2016هـ. فهذا العلج توماس يوليشني يدعو إلى ضرورة تيسير عمل هذه المنظمات التي ثبت لكل أهل السودان وحتى للحكومة مراراً وتكراراً أنها أوكار للتجسس ومد المتمردين بالسلاح وصب كل أنواع المحروقات على الزيت لأجل تأجيج الصراع وإدارة الأزمات في البلاد، ورغم ذلك لا تستحي الحكومة من أن تطأطئ رأسها وتنحني أمامها مرضاة للرأسمالية العالمية.

هذا وقد شهدت البلاد في الأسبوع الماضي زيارة المبعوث الأمريكي السابق (برنستون ليمان) الذي طاف بالبلاد والتقى لجان الحوار، وفي حديثه في الندوة التي تحدث فيها بقاعة الشارقة قال المبعوث الأمريكي السابق رداً على سؤال عن تحمل الولايات المتحدة الأمريكية لجزء من المسؤولية عن تقسيم السودان، قالها الرجل صراحة - لو كانوا يعقلون - (إن الولايات المتحدة خصوصاً والغرب عموماً يتحمل نصيباً مقدراً من المسؤولية في ذلك)، وأقر بأن (أمريكا تعاطفت مع مواطني جنوب السودان لأسباب سواء أكانت دينية أو لأنهم الطرف الأضعف في الصراع) بحسب تعبيره. صحيفة إيلاف 10 شباط/فبراير 2016م. وهكذا ينكشف المفضوح ويعترف ليمان بأن أمريكا تعاطفت مع متمردي الجنوب وساهمت في انفصال جنوب السودان عن شماله، ورغم خطورة تصريحات المبعوث الأمريكي التي أقر فيها بدعم المتمردين والتعاطف معهم لأجل الدين الذي يجمعهم إلا أن تصريحاته تمر عبر مسامع الوسط السياسي مرور الكرام، ولا تحرك فيهم ساكناً! وقد صدقت هيلادا جونسون عندما قالت إن الخرطوم جاءت إلى ضاحية نيفاشا وهي تبحث عن مرضاة أمريكا وليس بحثاً عن السلام. وها هو الجنوب قد انفصل ولم ترض عنهم أمريكا وستظل تلاحق حكام السودان لأجل المزيد من التركيع والخنوع والخضوع حتى يتحقق مرادها في السودان ويتم تمزيقه عبر أدواتها في الداخل والخارج.

إن هذه الحالة من الانكسار تحت الأقدام الغربية الاستعمارية لهي حالة مذلة لا تشبه أمة الإسلام، وإن البحث عن المصالح عبر طلب ود المستعمر لهو تكذيب للقرآن الكريم، أو عدم الوثوق بما جاء فيه من خطاب بين وواضح بشكل جلي بأن الكافرين لا يريدون خيراً للأمة وإنما يريدون لها العنت والمشقة فقد قال الله عز وجل: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ﴾ [آل عمران: 118]. ولهذا كله فإن هؤلاء الحكام هم أقل قامة من سياسة بعض القطعان من الماعز هنا أو هناك فضلاً عن سياسة أمة تقية ذكية تتطلع لأن ترتفع لها رايات وتقود العالم سياسة وريادة، ولهذا وجب العمل بكل جد واجتهاد لخلع هؤلاء الطواغيت وإقامة نظام الخلافة على أنقاض هذه الأنظمة المتهالكة المترنحة التي لا تعرف إلا مرضاة الغرب، ونحن أمة نعمل لمرضاة الرب.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام الدين أحمد أتيم

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير / ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست