إمارة السفهاء تتجسد في "القمة العربية – الإسلامية – الأمريكية"!!
إمارة السفهاء تتجسد في "القمة العربية – الإسلامية – الأمريكية"!!

الخبر: بدأت السعودية، اليوم الاثنين، توجيه دعوات إلى قادة عرب لحضور القمة العربية الإسلامية الأمريكية، التي ستستضيفها المملكة خلال زيارة الرئيس الأمريكي، دونالد ترامب، لها في وقت لاحق من الشهر الجاري. (موقع رووداو-2017/5/9)

0:00 0:00
Speed:
May 10, 2017

إمارة السفهاء تتجسد في "القمة العربية – الإسلامية – الأمريكية"!!

إمارة السفهاء تتجسد في "القمة العربية – الإسلامية – الأمريكية"!!

الخبر:

بدأت السعودية، اليوم الاثنين، توجيه دعوات إلى قادة عرب لحضور القمة العربية الإسلامية الأمريكية، التي ستستضيفها المملكة خلال زيارة الرئيس الأمريكي، دونالد ترامب، لها في وقت لاحق من الشهر الجاري. (موقع رووداو- 2017/5/9)

التعليق:

عجبا لملوك آل سعود الذين يأمرهم النظام الأمريكي الكافر الذي يقتل المسلمين حول العالم ويهرع هؤلاء الرويبضات التوافه لطاعته وإرضائه وتنفيذ أجنداته ومخططاته ومؤامراته الخبيثة للقضاء على الإسلام والمسلمين كما يحب الكفار! سيزور هذا النحس ترامب بلاد الحرمين الشريفين وكأنه بطل، وكأنه ضيف، وكأنه سيد آمرٌ ناهٍ في قمة مزعومة أسماها النظام السعودي المجرم القمة العربية الإسلامية الأمريكية وسيُدعى لها موميات حكام العرب وسفاحوهم، وكان الأصح أن يسموها باسمها الحقيقي ألا وهو القمة الأمريكية لتنفيذ الأجندات الأمريكية بتواطؤ السعودية والأنظمة الحاكمة العربية ضمن المخطط الأمريكي لضرب الإسلام بحجة (التطرف والإرهاب) لسفك دماء المسلمين حول العالم!

أليس هذا ترامب الذي فاز في حملاته الانتخابية لرئاسة أمريكا بسبِّه وشتمه لآل سعود بنعتهم بأنهم البقرة الحلوب، إن جف ضرعها ألقاها ورماها من حسابات أمريكا، وطالما دفعت الأموال سيحميها؟! أليس هذا رأس النظام الأمريكي الرأسمالي الاستعماري، رأس الكفر أمريكا، أمّ الإرهاب، الحاقد على الإسلام ويعلن كراهيته للإسلام هو والمنظومة الأمريكية منذ عشرات السنين وبشكل علني؟!

بماذا يعلق المسلم على سفاهة هذا النظام نظام آل سعود آل يهود وآل أمريكا الذي لم يكن يوما ينتمي لهذه الأمة الإسلامية العظيمة بل كان دوما ينتمي لأعدائها الكفار وكان دائما عاملا لهدم نظام الإسلام وإبادة المسلمين طاعة لأعداء الدين، والأدهى والأمر أن يطبل لهم علماء باعوا أنفسهم لملوك الباطل؛ من والوا أهل الكفر والشرك، من تحدوا الله تعالى بكفرهم وعلمانيتهم وفصل الدين عن الحياة؟! أليس علماء آل سعود من صدعوا رؤوسنا بالولاء والبراء والتوحيد ومظاهر الشرك وعملوا على تكفير من والى الكفار حتى وإن كان سماع الأخبار على قنواتهم الفضائية؟!

فأي نفع يتوقع هؤلاء من قمة هي قمة باطلة قبل أن تُعقد؟ باطلة لأنها تجمع بين أضداد لا تجتمع! فكيف يجتمع الكفر والإيمان؟! وكيف يتساوى الحق مع الباطل؟! كيف تجتمع قومية عربية وعقيدة إسلامية عالمية ومبدأ كفر علماني أمريكي؟! وعلى ماذا يجتمع السفهاء مع المجرمين إلا لمزيد من الإجرام وزهق الأرواح الطاهرة وتسخير ثروات الأمة الإسلامية لإبادتها؟!

إن الواجب على المسلمين في بلاد الحرمين الشريفين أن يرفضوا دخول ترامب إلى أراضيهم وطرد النفوذ الأمريكي بإغلاق القواعد العسكرية في بلاد الحرمين، وعلى المسلمين خلع آل سعود خدام أرباب اليهود وإسقاط هذا النظام الملكي الجبري، فليس بعد الإعلان عن هذه القمة التي تهدف لتشويه الإسلام وتحجيمه بالقومية العربية وأمْركته وتطويعه بما يرضي الكفار، ليس بعد ذلك إلا الثورة العارمة على هؤلاء السفهاء، يا أحفاد الصحابة رضوان الله عليهم! فلقد تجاوز هذا النظام المجرم كل الخطوط وما هذا بجديد، لكن قد تصاعدت وتيرة الحرب على الإسلام على يديه علنا في السنوات الأخيرة وتوالت حلقات الانبطاح للكفر وأهله روسيا وأمريكا والصين وأنظمة الكفر الأخرى من جهته فيما يخص قضايا المسلمين المصيرية في الشام واليمن والعراق وفلسطين، ولا زال المسلمون في بلاد الحرمين الشريفين يعانون بصمت، وعلماؤهم لا يجدون من يساندهم للحد مما يجري من انتهاكات لحرمات الله تعالى ومخالفات لسنة رسول الله e، وهذا ما يجب أن يحاربه جيش المسلمين في بلاد الحرمين الشريفين وليس المشاركة في قتل أطفال سوريا واليمن خدمة لأمريكا!

فيا علماء بلاد الحرمين الشريفين ويا ساكنيها ويا أهل القوة والمنعة فيها! لستم ضعفاء ولستم لوحدكم فالأمة قد ثارت وانتفضت وتبنت مشروعا ضخما عظيما، فأين أنتم من ذلك التغيير الهادر؟! إننا نذكركم ونقول لكم ما قاله الله تعالى: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65].

وقال الشيخ محمد الأمين الشنقيطي رحمه الله في تفسير الآية الكريمة: "والإيمان بالطاغوت يستحيل اجتماعه مع الإيمان بالله".

وقال جل وعلا: ﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾ [سورة الممتحنة: 4].

ونقول لكم ما قاله رسول الله e؛ عن ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله e قال: «أوثق عرى الإيمان الموالاة في الله والمعاداة في الله، والحب في الله والبغض في الله».

وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ e، قَالَ: «لا يَجْتَمِعُ الإِيمَانُ وَالْكُفْرُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ، وَلا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ، وَلا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالأَمَانَةُ جَمِيعًا».

ونقول لكم إن الولاء والبراء في الإسلام هو من صلب الأحكام الشرعية وأنَّه يَجبُ على كلِ مسلم يَدين بهذه العقيدة أن يوالي أهلها ويعادي أعداءها؛ فيحبُ أهل التوحيد والإخلاص ويواليهِم، ويُبغِض أهل الإشراك ويعاديهِم، وترامب والنظام الأمريكي كله أعداء المسلمين ولا يوالونهم! كما نقول لكم إن رسول الله e قد ذم الوطنيات والقوميات، وإنها ليست من الإسلام في شيء! عليكم أن تمنعوا هذه القمة وأن تقفوا في صف الإسلام والمسلمين وأن تنبذوا هذا النظام الجبري وأن تعملوا لإقامة نظام الإسلام في دولة المسلمين التي ستوحدهم؛ يطبق فيها أمير المؤمنين الأحكام الشرعية على الناس بالعدل والرحمة، فلسنا بحاجة إلى قمم تقوي مواقف الكفار السياسية وتُظهِر مبدأهم الرأسمالي القذر وتطمس على مبدأ الإسلام العظيم، بل نحتاج لوأد من لا يحكم بما أنزل الله تعالى ومن لا يسير على نهج رسول الله e. ألا تتوقون لخادم الحرمين الشريفين الحقيقي خليفة المسلمين الذي استحق ذلك اللقب فعليا كما كان وليس صوريا كما هو الآن؟!

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست