إن الذي يمتثل لأوامر الله لا يحكم بالعلمانية والديمقراطية بل يحكم بالإسلام
إن الذي يمتثل لأوامر الله لا يحكم بالعلمانية والديمقراطية بل يحكم بالإسلام

الخبر: "الوداع يا سيد كمال أنت ومن معك، هؤلاء من أين يتلقون الأوامر؟ إنهم يتلقونها من الإرهابيين القابعين في جبال قنديل. أما نحن فإننا نتلقى الأوامر من الله. هل الكل مستعد لدفنهم في المقابر في يوم 14 أيار؟ أنا لا أشك بذلك". (Haber7، 2023/05/03)

0:00 0:00
Speed:
May 09, 2023

إن الذي يمتثل لأوامر الله لا يحكم بالعلمانية والديمقراطية بل يحكم بالإسلام

إن الذي يمتثل لأوامر الله لا يحكم بالعلمانية والديمقراطية بل يحكم بالإسلام

الخبر:

"الوداع يا سيد كمال أنت ومن معك، هؤلاء من أين يتلقون الأوامر؟ إنهم يتلقونها من الإرهابيين القابعين في جبال قنديل. أما نحن فإننا نتلقى الأوامر من الله. هل الكل مستعد لدفنهم في المقابر في يوم 14 أيار؟ أنا لا أشك بذلك". (Haber7، 2023/05/03)

التعليق:

ليس لديه المزيد من القصص لتقديمها للناس فإن أردوغان يلعب بمشاعر المسلمين فضلا عن أنه يقوم بافتتاح المشاريع تلو المشاريع للفوز بالانتخابات المقبلة التي ستجري في 14 أيار، ويستغل مشاعرهم ويصف الانتخابات بأنها صراع بين الحق والباطل وبين بائعي الخمور وبائعي السجادات وبين من يدوس على سجادة الصلاة ومن يسجد عليها للصلاة، ويقول إن المعارضة تمثل الشيطان وتتلقى الأوامر من الشيطان وهو يمثل الحق ويتلقى الأوامر من الله.

والحقيقة هي أن الساسة والأحزاب السياسية العلمانية في تركيا لا تمثل الحق بل تمثل الباطل وهي لا تتلقى الأوامر من الله بل من إنجلترا أو أمريكا. لأن من يتلقى الأوامر من الله تكون وجهته ومنهجه القرآن والسنة، بينما وجهة الساسة والأحزاب العلمانية في تركيا ومنهجها هي الديمقراطية وقبلتهم هي أمريكا أو إنجلترا. وعلى هذا الأساس فإن الصراع بين الأحزاب العلمانية والديمقراطية في تركيا هو صراع بين قوى الباطل وليس صراعا بين الحق والباطل، وبعبارة أخرى هو صراع بين دول الكافر المستعمر أمريكا وإنجلترا. إن الفرق الوحيد بينهما هو أن المحافظين، الذين يشكل عمودهم الفقري حزب العدالة والتنمية الموالي لأمريكا وحزب الحركة القومية (تحالف الشعب) أي ما يسمى بالإسلاميين الناعمين وذوي العقول الجافة، يخفون هويتهم العلمانية الحقيقية بالتظاهر بالهوية الإسلامية ويستخدمون الإسلام كأداة لتحقيق طموحات أمريكا السياسية. أما الكماليون الناعمون وذوي العقول الجافة، الذين يتكون عمودهم الفقري من حزب الشعب الجمهوري الموالي للإنجليز وحزب جيد (تحالف الأمة)، فقد جعلوا الناس تنسى ماضيهم المظلم من خلال استخدام خطابات إسلامية وألفاظ نابية مع العلم أن حقدهم على الإسلام هو حقد دفين، فهم يستخدمون الإسلام كأداة لتحقيق أهداف أسيادهم السياسية. باختصار، فإن أحد الفريقين بارع وخبير في ألعاب التهريج "الإسلامية"، والآخر يسعى ليصبح مشعوذا "إسلاميا". لكن كلاهما له هدف واحد وهو ضمان استمرار الشيطان والطاغوت المتمثل بالعلمانية والنظام الديمقراطي والحيلولة دون وصول النظام الإسلامي (الخلافة) إلى السلطة.

إن مقولة أردوغان التي وجهها لكمال كليجدار أوغلو والتي أوردتُها في الخبر هي اعتراف صريح من أردوغان يدلل على ما ذكرته من أنه صراع بين عملاء أمريكا وإنجلترا ولكنه عبّر عنه بشكل بارع لم ينتبه إليه أحد وانطلى على الجميع.

من ناحية أخرى، فإن خطاب أردوغان هذا هو خطاب يخالف الواقع القائم في تركيا، لأن أردوغان لا يتلقى الأوامر من الله - كما يدعي - في كل مجالات الحياة؛ في الأحكام المتعلقة بالاقتصاد والسياسة الداخلية والسياسة الخارجية والنظام الاجتماعي والتعليم. فلو كان يتلقى الأوامر من الله لأزال الربا بالكامل بدلا من تقليصه امتثالا لأوامر الله، ولما كان صديقا حميما لروسيا وأمريكا عدوّتيْ الإسلام والمسلمين، ولما طبق العلمانية في التعليم، والديمقراطية في الحكم، ولما سمح بالخمور والزنا... إن تغلغل العلمانية والديمقراطية في شتى مجالات الحياة في عهد أردوغان هي أشهر من أن ينكرها أحد. ونحن هنا لسنا بصدد سرد التفاصيل، وما ذكرته كان على سبيل المثال لا الحصر.

إن الذي يتلقى الأوامر من الله عليه أن يطبق الإسلام في كل جوانب الحياة عملياً وليس ادعاءً فقط، تماما كما فعل الرسول ﷺ والخلفاء الراشدون رضوان الله عليهم، وهذا طريقته هي الخلافة وليس الديمقراطية، وما لم تكن هناك خلافة فإن القول بتلقي الأوامر من الله والقول بتطبيق الإسلام بعيدا عن الناحية العملية هو ضرب من الخيال ولا واقع له، ولا يتعدى كونه خداعاً للناس، وعلى المسلمين أن لا يقعوا في هذا الفخ وأن يتجنبوا أولئك الذين يستخدمون الخطاب الإسلامي المجرد ويستغلونه لهذا الغرض، وأن يقاطعوا كل الأطراف في الانتخابات، فلا يوجد ما يسمونه أخف الضررين إذ كلاهما ضرر وشر، كما لا يُتصور أن يخرج الخير من رحم الشر. قال تعالى: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست