إن كنا نكفي بعضنا بعضا إذن لم الإصرار على النظام الرأسمالي؟! (مترجم)
إن كنا نكفي بعضنا بعضا إذن لم الإصرار على النظام الرأسمالي؟! (مترجم)

الخبر:   أدلى رئيس الجمهورية بتصريحات مهمة في اجتماع الاستشارة والتقييم الـ27 لحزب العدالة والتنمية. حيث قال أردوغان: "إن هذا الشخص على رأس المعارضة الرئيسية يسعى لإحراجنا وحشرنا في زاوية عبر شركة استشارة دولية مستأجرة مقابل أجرة معينة. وقد أخبرت سابقا جميع أصدقائي الوزراء، حيث قلت لهم (لن تتلقوا منهم أفكارا استشارية حتى) فنحن نكفي بعضنا بعضا". (يني شفق 2018/10/06)

0:00 0:00
Speed:
October 17, 2018

إن كنا نكفي بعضنا بعضا إذن لم الإصرار على النظام الرأسمالي؟! (مترجم)

إن كنا نكفي بعضنا بعضا إذن لم الإصرار على النظام الرأسمالي؟!

(مترجم)

الخبر:

أدلى رئيس الجمهورية بتصريحات مهمة في اجتماع الاستشارة والتقييم الـ27 لحزب العدالة والتنمية. حيث قال أردوغان: "إن هذا الشخص على رأس المعارضة الرئيسية يسعى لإحراجنا وحشرنا في زاوية عبر شركة استشارة دولية مستأجرة مقابل أجرة معينة. وقد أخبرت سابقا جميع أصدقائي الوزراء، حيث قلت لهم (لن تتلقوا منهم أفكارا استشارية حتى) فنحن نكفي بعضنا بعضا". (يني شفق 2018/10/06)

التعليق:

في نطاق برنامج الاقتصاد الجديد في تركيا، قال الوزير البايراك في مؤتمر الاستثمار التركي لمجلس العمل التركي-الأمريكي المنعقد في مدينة نيويورك الأمريكية في 28 أيلول، قال: "إننا اتخذنا القرار بعمل شركة الإدارة الدولية ماكنزي من أجل مكتب المالية والتحول الذي تم تأسيسه في نطاق برنامج الاقتصاد الجديد"، وبعد أن مر أسبوع واحد على الاتفاقية المنعقدة، قام أردوغان بفسخ الاتفاقية بقوله (لا داعي أبدا). وكان البايراك قبل ذلك قد تحدث عن فضائل الاتفاقية وتمادى لدرجة أنه اتهم من يقف في وجه أعمال هذه الشركة بالجهل وحتى بالخيانة. أما وسائل الإعلام خلال هذه الفترة الزمنية فقد كان الكتاب الذين لم تكتب أقلامهم إلا مدائح للسلطة، يقومون بمهمتهم على أتم وجه بخداع الشعب بجميع أنواع التزوير دون النظر لصحة أو خطأ الاتفاقيات المعقودة.

بينما تسير هذه الأحداث فإن ظهور رئيس الجمهورية أردوغان وإلغاءه للاتفاقية المعقودة وكأن ليس له أي علم أو موافقة على هذه الفترة، كل ذلك يبدو كمسرحية. فعند النظر إلى ما سبق نرى أن السبب وراء اتخاذ أردوغان لهذا القرار يعود إلى أنه:

مهما كانت معظم وسائل الإعلام تحت سيطرة الحكومة، إلا أنه تم تكوّن رد فعل كبير حول الاتفاقية في وسائل التواصل الإلكترونية طوال الأسبوع.

قيام أردوغان وجناح الحكومة بتجييش الشعب عبر استخدام ألفاظ قومية ووطنية، وبعد ذلك إقناع الشعب أن أمريكا هي السبب في الأزمة الاقتصادية الراهنة، ولإقناعه بالترويج لإطلاق أمريكا الحرب الاقتصادية على تركيا.

بينما يتم إقناع الشعب بالخوض في حرب اقتصادية ضد أمريكا، ففي الوقت نفسه فإن مسرحية سير العلاقات بشكل جيد مع الدولة الخائضة في الحرب لدرجة بناء ثقة تصل إلى ائتمان الشركات العدوة على الاقتصاد، يبدو أن ذلك لم يكن مقنعا للشعب. ولم يوافق نبض الشعب، حيث إن رئاسة الجمهورية والحكومة التي تعتبر خبيرة في تضليل الشعب، رأت أنه من الخطر جدا ترك منفذ ضغط يتمثل في اتفاقية كهذه لم تلق موافقة من قبل الشعب، رأت أن تركها في يد المعارضة لتستخدمه أمام الشعب بينما (الحكومة) لم تتخلص بعد من عبء الأزمة وهي في طريقها للانتخابات المحلية. وفي النهاية يمكن القول إن الاعتقاد بأن خطراً كهذا من الممكن أن ينتج تهديداً كبيراً يهز عروشهم، يعد سبباً وجيهاً للتراجع عن هذه الاتفاقية.

في الحقيقة إن العمل التشجيعي لحكومة حزب العدالة والتنمية لهذه الشركة وإن كان بطريقة غير مباشرة ليس هو عملاً جديدا. ففي سنوات السلطة الأولى عام 2003 قامت هذه الشركة بتقديم وصفة تحت اسم الإنتاجية في الاقتصاد يمكن تلخيصها كما يلي: أن الخصخصات تشمل أموراً مثل التعديلات القانونية، وتوفير تشجيعات لتطوير الأراضي للبلديات، ورفع القيود التي تمنع التوطن في مركز المدينة للبائعين بالتجزئة بدرجة كبيرة، ورفع موانع الاستيراد عن العديد من المواد الغذائية من أجل تأسيس سوق قروض المساكن طويلة الأمد، وتكوين بدائل للخدمات المصرفية الفردية.

إن هذه الوصفة التي تخدم الاستهلاك والفائض وأصحاب رؤوس الأموال تم تطبيقها بشكل كامل دون أي نقص لمدة أعوام. وفي النقطة التي وصلنا لها فإن حلول الاستهلاك المفهرسة بشكل عام تدخل الاقتصاد في دَين حلزوني كبير جدا، مما يجعله محكوماً أكثر لنظام الاستعمار العالمي.

والنتيجة أن الحكومة رأت أنها بحاجة إلى مرجع شركة ذات هوية دولية لتتستر على الأزمة الراهنة، وضمان دخول الأموال الساخنة والقروض إلى البلد. إلا أن هذا التطور الذي تسبب بخلط الوضع حتى في قاعدتها هي، جعلها تضطر للإعلان عن فسخ هذه الاتفاقية أمام الجمهور على الأقل خوفا من خسران مصلحتها ومن أجل دعم الشعب وثقته خلال فترة الانتخابات القادمة.

هذه المؤسسات معروفة للجميع بأنها تضم القتلة المأجورين المحليين والإقليميين للقوى العالمية بالمعنى الاقتصادي. فيغرزون مخالبهم في البلدان ليمتصوا ثرواتها وجعلها مدمنة وعبدة لهم. وطبعا الحكام الخونة هم الذين يمهدون الطرق أمام هؤلاء.

فمع مرور الوقت سنرى مدى صحة قول أردوغان: "نحن نكفي بعضنا بعضا" على الرغم من هذا الوضع. إلا أن هذه المقولة ذكرتني بما قاله أردوغان قبل شهرين: "إن كان لهم الدولار فنحن لنا الله". وصحة القول تكون بتصديقه بالعمل. فمنذ هذا القول، ويا لها من مصادفة، فإنهم يبذلون كل الجهد من أجل إنعاش العلاقات مع الدولار. وقول "نحن لنا الله" بقي خلف ظهورهم. فبعد فترة من الزمن سيظهر مدى حقيقة فسخ هذه الاتفاقية، وهوية بعضنا الواردة في قول "نحن نكفي بعضنا بعضا". إلا أن المؤكد بشكل قطعي أن كلمة "نحن" الواردة في القول لا تشمل الشعب ولا بأي طريقة. تماما كما قالوا "لنا الله" بينما استعانوا بالدولار!!

فلو كان هذا القول صحيحا لما تم التخلي عن هذه الشركات المأجورة فقط بل لتم إسقاط النظام الرأسمالي كاملا وإقامة دولة الخلافة التي تجلب الاطمئنان في الدنيا والآخرة.

قال رسول الله r: «إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ بِوَارِدٍ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ». (رواه أحمد)

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست