إقالة وزير الخارجية الأمريكي تيلرسون
إقالة وزير الخارجية الأمريكي تيلرسون

الخبر:   قام الرئيس الأمريكي دونالد ترامب بإقالة وزير خارجيته ريكس تيلرسون يوم الثلاثاء ليضع حداً للعلاقة الوعرة بين الرجلين منذ تقلد تيلرسون لأعلى منصب دبلوماسي أمريكي في شباط/فبراير من العام الماضي.

0:00 0:00
Speed:
March 18, 2018

إقالة وزير الخارجية الأمريكي تيلرسون

إقالة وزير الخارجية الأمريكي تيلرسون

الخبر:

قام الرئيس الأمريكي دونالد ترامب بإقالة وزير خارجيته ريكس تيلرسون يوم الثلاثاء ليضع حداً للعلاقة الوعرة بين الرجلين منذ تقلد تيلرسون لأعلى منصب دبلوماسي أمريكي في شباط/فبراير من العام الماضي.

التعليق:

أولاً: لقد كثرت الإقالات والاستقالات في هذه الإدارة بشكل كبير مما لفت انتباه الجميع لكثرتها ووقتها وظروفها، ومنها هذه الإقالة لوزير الخارجية الذي لم يمض على تعيينه مدة كافية في منصبه والذي يكون بالعادة تغيير وزير الخارجية بعد انتهاء الولاية الأولى للرئيس الأمريكي.

ولكن هذه الإدارة وكما جاء في جواب سؤال لأمير حزب التحرير العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة غير قادرة على تنفيذ خطط استراتيجية حيث ورد في الجواب، وهذه الإدارة لا تملك من الحنكة ما يكفي لتنفيذ استراتيجيات محكمة، فقد (حذر وزير الدفاع الأمريكي السابق ليون بانيتا من مغبة إقدام واشنطن على ضربة استباقية لكوريا الشمالية مشيرا إلى أن أي خطوة في هذا الاتجاه سوف تشعل حربا نووية تزهق أرواح الملايين).

ثانيا: إن مسألة كوريا الشمالية في الاستراتيجية الأمريكية ليست هي مسألة قوة عسكرية معادية، لها نظامها الاشتراكي ولا تخضع للنظام العالمي الأمريكي فحسب، فحجم كوريا الشمالية الصغير وقوتها كذلك لا يضعها على رأس الأولوية الأمريكية إلا من باب أنها جزء من كلٍّ اسمه الصين، فأمريكا تنظر بخطورة كبيرة لتصاعد نمو الصين، وتدرس كافة الخيارات لتحجيم القوة الصينية، ومن هذه الخيارات توتير الأجواء على حدود الصين ومنها كوريا الشمالية. والذي يؤكد ذلك أن أمريكا وعلى عهد أوباما قد نشطت في بناء التحالفات حول الصين، فكانت علاقاتها تزيد بشكل ملحوظ مع الهند واليابان وفيتنام والفلبين بالإضافة إلى كوريا الجنوبية، وكانت تريد من هذه التحالفات أن تكون طوقاً حول الصين، يحد من اندفاع السياسة الصينية لاستثمار بحر الصين الجنوبي، وتعزيز طرق تجارتها الكبيرة مع العالم، فكان توتير أمريكا للأجواء مع كوريا الشمالية واحداً من التوترات الأخرى التي تثيرها أمريكا حول الصين، مثل نزاع الحدود بين الصين والهند، ومسائل الجزر بين الصين من جهة واليابان والفلبين وفيتنام وماليزيا من جهة أخرى.

ولأجل الصين فقد رفعت أمريكا الكثير من القيود عن العسكرية اليابانية لتكون في مواجهة الصين. واليوم عندما تضع أمريكا مسألة "التهديد" هذه على رأس أولوياتها، فذلك لأنها جزء من استراتيجيتها ضد الصين... إن الضغوط الأمريكية على كوريا الشمالية ليست جديدة حتى وإن أخذت الآن منحىً أكثر سخونة، وقد سبق أن قال الوزير المُقال تيلرسون خلال مؤتمر صحفي مع نظيره الكوري الجنوبي يون بيونج-سيه في سول "دعوني أكن واضحا جدا. إن سياسة الصبر الاستراتيجي انتهت. نبحث مجموعة جديدة من الإجراءات الأمنية والدبلوماسية. جميع الاحتمالات مطروحة على الطاولة..." (رويترز، 2017/3/17).

وكلنا لا زال يذكر تلك الضربة الصاروخية لسوريا 2017/4/7 قد جعلت أمريكا توقيتها أثناء استراحة عشاء بين ترامب والرئيس الصيني شي جين بينغ في فلوريدا، ما اعتبره البعض إهانة للصين. فقد ذكرت العربية نت 2017/4/8 (ونقل الموقع عن الجنرال المتقاعد جاك كين، نائب رئيس هيئة أركان الجيش الأمريكي السابق، نقلا عن موقع فوكس نيوز قوله تعليقا على تصرف ترامب: (إنه يفعل ما يقوله... إنه يرسل رسالة إلى الصينيين) أي بخصوص عزمه شن الحرب ضد كوريا الشمالية، وأن على الصين الضغط على كوريا الشمالية والتخلي عنها، فإن فعلت كان التساهل معها ممكناً في الاتفاق التجاري...

لذا فالمسألة ليست قطعا كوريا الشمالية بل هي الصين.

ثالثاً: بالرغم من أن السياسة الأمريكية لا تتغير بتغيير الأشخاص؛ لأنها دولة مؤسسات وليست دولة أفراد، ولكن لوجود الفرد وميوله والمعروف عنه والانطباعات عنه تعطي رسالة سياسية واضحة تجاه ملفات معينة أو قضايا معينة، والوزير الجديد معروف بعدائه الكبير لكوريا الشمالية وقبوله بالحل العسكري في رسالة واضحة للصين خاصة بعد التقدم الأخير والتنازلات من جانب كوريا الشمالية واللقاء المرتقب بين زعيم كوريا الشمالية وترامب، وهذه التنازلات تخدم الصين ولا تخدم أمريكا، لذا لجأت أمريكا من جديد لتوتير الأوضاع مع كوريا الشمالية لأن الهدف والمقصود هو الصين.

والصين تعي تماماً أنها المقصودة بشكل غير مباشر من إشعال أمريكا للتوتر ناهيك عن الحرب، لذلك تقوم بما في وسعها لنزع فتيل الاشتعال، فتدعو إلى التسوية السلمية للنزاع، وترفض الحلول العسكرية، وتجاهر برفضها لعسكرة شبه الجزيرة الكورية، ومن ذلك رفضها القاطع لنصب منظومة "ثاد" الأمريكية المضادة للصواريخ في كوريا الجنوبية، (وعبرت الخارجية الصينية عن معارضة بكين لنشر نظام ثاد، مطالبة في الوقت نفسه كوريا الشمالية والدول المجاورة لها بالامتناع عن ارتكاب أي أفعال تحريضية...) (الجزيرة نت، 2017/4/17)، ولكنها تتحسب للأسوأ، وتستعد هي الأخرى لاحتمال الحرب، وتحذر منها، فقال وزير الخارجية الصيني وانغ يي "إذا اندلعت الحرب فلن يكون هناك منتصر" (بي بي سي 2017/4/15).

فنحن على أبواب مرحلة جديدة في المنطقة تقتضي إيجاد شخصيات تلائم تلك المرحلة وتتناسق فيما بينهما في رسالة واضحة للصين وكبح جماحها في التطلعات الدولية وإشغالها بمحيطها الإقليمي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسن حمدان – أبو البراء

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست