الخبر: تحدثت وكالات الأنباء عن قيام تركيا بحشود على الحدود مع سوريا وإمكانية تدخلها فيها، وعزمها إقامة مناطق آمنة هناك، وأن هناك خلافات بينها وبين أمريكا في هذه المواضيع وأن أردوغان لا يتحدث مع الرئيس الأمريكي منذ أشهر. ومن ثم قامت الطائرات التركية بضرب مواقع لتنظيم الدولة في سوريا لأول مرة. فبدأت التساؤلات تدور على ألسنة الناس عما يحدث ويطلبون تفسيرا لها. التعليق: وإليكم التفسير حسب ما صدر من المسؤولين في تركيا:1- قال الرئيس التركي رجب طيب أردوغان مساء يوم 2015/07/21: "في الماضي كنت أتصل مع الرئيس أوباما مباشرة. ولأنني لا أتوقع الحصول على النتائج بشأن سوريا، فإن وزيري خارجيتنا يتحدثان الآن مع بعضهما". وأضاف: "تحدثت مع نائب الرئيس جو بايدن، أنا أتصل به وهو يتصل بي". وقال: "أتوقع العدالة من هذه العملية، لا أستطيع أن أتخيل أمرا كهذا من الذين يعدون أنفسهم أبطال العدالة". فالرئيس التركي يشعر بإحباط لأن الرئيس الأمريكي لم يوافق له على طلبه، مما يعني أنه لا يستطيع أن ينفذ ما يريد، فإرادته مرهونة بالإرادة الأمريكية. ولم يستطع أن يترك أمريكا لأنها هي صاحبة النفوذ في تركيا وقد جاء بفضلها وثبت في الحكم بفضلها ويعرف أنه إذا خالفها لا يلبث إلا عشية أو ضحاها. ولهذا رجح الاتصال بنائب الرئيس الأمريكي، وترك وزير خارجيته على اتصال بنظيره الأمريكي. وفي الوقت نفسه يطلب تحقيق العدالة للشعب السوري من أمريكا التي تفتك بهذا الشعب إما مباشرة بذريعة محاربة تنظيم الدولة وإما غير مباشرة عن طريق عميلتها إيران وحزبها في لبنان وسكوتها عن جرائم عميلها بشار. ويلوم أمريكا على موقفها هذا وهي التي تدعي أنها بطل العدالة، وكأنه لا يدرك لماذا تفعل أمريكا ذلك. 2- ولكن الرئيس الأمريكي أوباما اتصل بالرئيس التركي يوم 2015/07/22 هاتفيا "معربا عن تعازيه للقتلى الذين سقطوا في الأحداث الأخيرة بتركيا وتحدثا عن وقوف بلديهما ضد جميع أنواع الإرهاب وأكدا على تعزيز التعاون المستمر في الكفاح ضد تنظيم داعش، إضافة إلى المساعي المشتركة لضمان الأمن والاستقرار في العراق والتوصل إلى حل سياسي في سوريا. وتناولا موضوع التعاون من أجل الحد من عبور المقاتلين الأجانب وضمان الأمن في الحدود التركية مع سوريا، وأكد أوباما أن بلاده تولي أهمية كبيرة للأمن القومي لتركيا، وأكدا على أنهما سيواصلان التعاون الوثيق في المواضيع الإقليمية". ويظهر أن أردوغان ابتهج بهذه المكالمة فصار يردد أنه تحدث معه الرئيس الأمريكي وبحث معه كذا وكذا كما ورد في الخبر، فردد ذلك يوم 2015/7/24 بعد صلاة الجمعة في مسجد فاتح أورماني باسطنبول أمام الصحفيين عندما التف حوله الناس. مما يدل على أن مكالمة هاتفية من الرئيس الأمريكي تكفيه لطمأنته على أن أمريكا راضية عنه وأن هناك أملا في أن تستجيب له، ولكنها لم تستجب، بل أكدت له على تعزيز التعاون ضد تنظيم الدولة وتأمين الاستقرار في العراق والحد من عبور المقاتلين إلى سوريا، والحل السياسي في سوريا الذي يعني بقاء النظام السوري. ولكن ما تريده تركيا من موضوع التدخل في سوريا الذي تنادي له منذ أربع سنوات حتى تتخلص من تداعيات الوضع في سوريا ولا يمس نظامها ومن ثم إقامة مناطق آمنة للمهجرين هذا لم توافق له أمريكا عليه حتى الآن. 3- وبعد هذه المكالمة الهاتفية تحركت تركيا وضربت مواقع لتنظيم الدولة في سوريا لأول مرة. وعقب ذلك صرح نائب رئيس الوزراء بولند أرنج قائلا: "تم الوفاق بالإجماع (بين تركيا وأمريكا) بشأن هذا الموضوع (محاربة تنظيم الدولة) والذي لا أستطيع الإفصاح التام عن مضمونه، فقد تم التوصل إلى اتفاق في الرأي والعمل المشترك بشأن العمليات المشتركة التي ستنفذ بعد الآن، وضمن هذا الإطار جرى طرح قرار لمجلس الوزراء على توقيع أعضاء المجلس". فما وافقت عليه أمريكا وهو ما تطلبه من تركيا ومن جميع الدول هو اشتراكها في حربها ضد تنظيم الدولة الذي تتخذه ذريعة للتدخل الأمريكي في سوريا لإجهاض مشروع الثورة وهو إقامة الخلافة الراشدة وإرغام أهل سوريا على الاستسلام والقبول بالحلول الأمريكية وهي المحافظة على النظام العلماني وعلى كيان الدولة ومؤسساتها الأمنية التي يسيطر عليها النصيريون الذين تُولي أمريكا أهمية لحمايتهم كما ذكر الرئيس الأمريكي في خطاب سابق. 4- وذكر أنه يتردد في الكواليس بأن تركيا أشعلت الضوء الأخضر أمام استخدام أمريكا لقاعدة إنجرليك الجوية مقابل موافقة الأخيرة على قيام تركيا بتشكيل منطقة آمنة واتخاذ التدابير المختلفة في حال حصول تطور في المنطقة الحدودية التي أعلنتها خطا أحمرا بالنسبة لها". إلا أن تركيا لم تتمكن من إقامة هذه المناطق لعدم وجود موافقة أمريكية حتى الآن، ولذلك قال وزير خارجية تركيا مولود جاوش أوغلو يوم 2015/7/25 "إن الضربات الجوية التي تشنها تركيا ضد تنظيم الدولة في سوريا ستمهد الطريق لإنشاء مناطق آمنة هناك.. أيدنا دائما وجود مناطق آمنة ومناطق حظر للطيران في سوريا، تسمح بإعادة إسكان النازحين من مناطقهم فيها". وأكد أن "تركيا ستفتح قاعدة إنجرليك قريبا أمام قوات التحالف الدولي ضد تنظيم الدولة". أي أنه يريد أن يقول إن تركيا تلبي طلبات أمريكا بشن الهجمات داخل سوريا لتمهد للموافقة الأمريكية التي لم تأت بعد، وإنها ستوافق على استخدام أمريكا لقاعدتها الجوية في إنجرليك حتى تحصل على الموافقة الأمريكية. فكل ذلك يؤكد أن الإرادة التركية مرهونة بالإرادة الأمريكية ولا تستطيع أن تخرج عنها، لأن نظام أردوغان ربط مصيره بأمريكا، فيستمد منها العون والقوة والحماية حتى يحافظ على بقائه. فلا يعتمد على سلطان الأمة ويستمد القوة والحماية منها بسبب أنه استند في تأسيس حزبه إلى الواقع الموجود وفكر الدولة القائمة في تركيا وعلى تعهده بالمحافظة على العلمانية والجمهورية والارتباط بالمواثيق والمعاهدات الدولية، واعتمد في الوصول إلى الحكم على الدعم الأمريكي. فلم يؤسس حزبا على أساس فكر الأمة ويقوم بكسبها وتنظيمها لإقامة حكم الإسلام حتى تنصره وتحميه وتوصله إلى الحكم فيصبح صاحب إرادة مستقلة يتحدى أمريكا وينفذ ما يتوجب عليه من نصرة الإسلام والمسلمين وإعلاء كلمة الله رغم أنف الكافرين. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرأسعد منصور
إرادة تركيا مرهونة بإرادة أمريكا
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست