إشارات بريطانيا تصدر لعملائها في اليمن محذرة  من المخططات الأمريكية المقبلة في اليمن
إشارات بريطانيا تصدر لعملائها في اليمن محذرة  من المخططات الأمريكية المقبلة في اليمن

الخبر: أوردت صحيفة اليمن اليوم الصادرة في اليمن يوم الخميس 22 حزيران/يونيو الجاري مقالا مترجما لديفيد هيرست رئيس تحرير موقع ميدل إيست آي البريطاني بعنوان "بعد قطر وبن نايف.. هادي الهدف التالي لبن سلمان" جاء فيه (واليمن هو هدفهم المقبل. وكما ذكرنا، كانت هناك تداعيات كبيرة بين هادي المنفي، في الرياض، والقوات المحلية في عدن التي يسيطر عليها الإماراتيون والشريكان الرئيسيان في الحملة ضد الحوثيين يدعمون الجانبين الذين هم الآن في حالة حرب مع بعضهم البعض في جنوب اليمن. وكما أفهم هذا السيناريو، سيحل ذلك قريبا. وكان بن سلمان قد التقى طحنون بن زايد، شقيق محمد بن زايد ورئيس أمنه، وحثه على تهدئة الوضع في جنوب اليمن. محمد بن سلمان أخبر طحنون بن زايد، أنه بمجرد أن يصبح ولي العهد، سيجرد عبد ربه منصور هادي ويحل محله خالد بحاح، المقرب من الإماراتيين. وقد قام بحاح بزيارة الرياض مؤخرا لإعادة الاتصال مع الإدارة السعودية الجديدة. وسيلي ذلك الهجوم واسع النطاق ضد الإصلاح، وهو الفصيل المرتبط بالإخوان المسلمين في اليمن).

0:00 0:00
Speed:
June 23, 2017

إشارات بريطانيا تصدر لعملائها في اليمن محذرة من المخططات الأمريكية المقبلة في اليمن

إشارات بريطانيا تصدر لعملائها في اليمن محذرة

من المخططات الأمريكية المقبلة في اليمن

الخبر:

أوردت صحيفة اليمن اليوم الصادرة في اليمن يوم الخميس 22 حزيران/يونيو الجاري مقالا مترجما لديفيد هيرست رئيس تحرير موقع ميدل إيست آي البريطاني بعنوان "بعد قطر وبن نايف.. هادي الهدف التالي لبن سلمان" جاء فيه (واليمن هو هدفهم المقبل. وكما ذكرنا، كانت هناك تداعيات كبيرة بين هادي المنفي، في الرياض، والقوات المحلية في عدن التي يسيطر عليها الإماراتيون والشريكان الرئيسيان في الحملة ضد الحوثيين يدعمون الجانبين الذين هم الآن في حالة حرب مع بعضهم البعض في جنوب اليمن. وكما أفهم هذا السيناريو، سيحل ذلك قريبا. وكان بن سلمان قد التقى طحنون بن زايد، شقيق محمد بن زايد ورئيس أمنه، وحثه على تهدئة الوضع في جنوب اليمن. محمد بن سلمان أخبر طحنون بن زايد، أنه بمجرد أن يصبح ولي العهد، سيجرد عبد ربه منصور هادي ويحل محله خالد بحاح، المقرب من الإماراتيين. وقد قام بحاح بزيارة الرياض مؤخرا لإعادة الاتصال مع الإدارة السعودية الجديدة. وسيلي ذلك الهجوم واسع النطاق ضد الإصلاح، وهو الفصيل المرتبط بالإخوان المسلمين في اليمن).

التعليق:

مع تتويج محمد بن سلمان وليا للعهد، واقترابه خطوة من أن يكون على رأس النظام الحاكم في نجد والحجاز بعد أبيه سلمان، توشك بريطانيا أن تفقد العرش الذي أقامته بيدها لعبد العزيز بن عبد الرحمن آل سعود منذ العام 1926م، لصالح أمريكا التي حضرت منذ لقاء عبد العزيز بروزفلت على ظهر اليخت كوينزي، وودعت سياسة العزلة وخرجت إلى العالم القديم لرعاية الواقع الجديد في الشرق الأوسط بعد الحربين العالميتين الأولى والثانية، بالحرب على الإسلام والمسلمين والإبقاء عليهم شذر مذر ومنع عودتهم مجددا في دولة واحدة تلم شعثهم وتخرج نفوذ الكافر الغربي من بين ظهرانيهم. كما هي للسيطرة على موقع الشرق الأوسط الاستراتيجي في العالم لتحجيم أوروبا، ووضع اليد على منابع النفط في نجد والحجاز وما جاورها.

لم يسع بريطانيا مع اندفاع أمريكا للحلول مكانها في الشرق الأوسط سوى رسم الخطط التي تؤدي إلى معرفة خطط أمريكا، ومن ثم الحيلولة دون تحقيق أمريكا مآربها، ففي اليمن كان الدور الذي أوكلته بريطانيا للإمارات بعد طردهم الحوثيين من عدن في آب/أغسطس 2015م، هو الالتصاق بشق الحراك الجنوبي "الأمريكي" الداعي للانفصال لسبر أغواره ومعرفة مرامي أعمال السياسة الأمريكية لكشفها والتصدي لها، ولقد بدا ذلك من كشف ما أفصح عنه محمد بن سلمان لطحنون بن زايد بأنه موكل إليه إزاحة هادي المرتبط بالسياسة البريطانية وإحلال خالد بحاح مكانه، الذي لم توافق بريطانيا على توليه منصب نائب لعبد ربه، فأزاحته وأوكلت المنصب لعلي محسن. ليأتي الدور على محمد بن سلمان لإعادة خالد بحاح مكان هادي كما كان مخططا له من قبل أمريكا في السابق.

التحذير البريطاني لهادي وللإصلاح من أنهم سيكونون هدف أمريكا القادم، ويصدر الإشارة لهم ولغيرهم حتى يستعدوا ويتخذوا التدابير التي تقيهم من أن يفاجئهم بها محمد بن سلمان وقد صار وليا للعهد ومن أن يكون بعد ذلك رأس النظام الحاكم في نجد والحجاز.

لقد فقدت بريطانيا في القديم القريب مصر وإيران لصالح أمريكا، وفي القريب وضعت أمريكا قدمها في العراق وأوشك أن يتحول عرش نجد والحجاز كاملا إلى يدها، والصراع محتدم على اليمن بين "بريطانيا التي قسمت عملاءها إلى فريقين علي صالح وعبد ربه، وأمريكا بفريقيها الحوثيين والحراك الجنوبي".

فهلا أدرك أهل اليمن من هم السياسيون الذين يتصدرون المشهد السياسي في اليمن وجيرانهم في نجد والحجاز وغيرها؟ وأن ما يعانونه من الويلات الواقعة بهم يصب في النهاية لصالح الأطراف الدولية المتصارعة عليهم، وهل يصح لهم الانخراط في هذا الصراع؟ وأن لا مناص لهم للخروج من بين براثن المستعمرين الغربيين سوى العودة إلى دينهم الذي ارتضاه الله لهم ومدحهم في قوله تعالى ﴿وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم﴾ فأشار رسول الله r إلى أبي موسى الأشعري وقال: «هُمْ قَوْمُ هَذَا». وأحاديث رسول الله r الكثيرة في السابقين الأولين من أهل الإيمان والحكمة.

إن عودة أهل الإيمان والحكمة إلى دينهم تكون بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة التي يعمل حزب التحرير لإقامتها، للحكم بالإسلام في جميع شؤون الحياة السياسية والاقتصادية والاجتماعية والسياسة الخارجية الخ، وتوحيد بلاد المسلمين تحت راية العقاب وحمل الإسلام بالدعوة والجهاد إلى غير المسلمين في بقاع الأرض.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس: شفيق خميس – اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست