إصلاح جمعية الصناعة والأعمال واتحاد الغرف والبورصات التركية وغير المسلمين هو ظلم للمسلمين
إصلاح جمعية الصناعة والأعمال واتحاد الغرف والبورصات التركية وغير المسلمين هو ظلم للمسلمين

الخبر: بدأ وزير الخزينة والمالية لطفي إيلفان ووزير العدل عبد الحميد جول محادثات التشاور في إطار جهود "الإصلاح الاقتصادي والقضائي". وعقدوا أول اجتماع لهم في 27 تشرين الثاني/نوفمبر 2020 مع إدارة جمعية الصناعة والأعمال التركية في مكتب العمل الرئاسي في دولما بهجت. وفي اليوم التالي في 28 تشرين الثاني/نوفمبر 2020،

0:00 0:00
Speed:
December 10, 2020

إصلاح جمعية الصناعة والأعمال واتحاد الغرف والبورصات التركية وغير المسلمين هو ظلم للمسلمين

إصلاح جمعية الصناعة والأعمال واتحاد الغرف والبورصات التركية وغير المسلمين
هو ظلم للمسلمين
(مترجم)


الخبر:


بدأ وزير الخزينة والمالية لطفي إيلفان ووزير العدل عبد الحميد جول محادثات التشاور في إطار جهود "الإصلاح الاقتصادي والقضائي". وعقدوا أول اجتماع لهم في 27 تشرين الثاني/نوفمبر 2020 مع إدارة جمعية الصناعة والأعمال التركية في مكتب العمل الرئاسي في دولما بهجت. وفي اليوم التالي في 28 تشرين الثاني/نوفمبر 2020، عقدوا اجتماعاً مع إدارة اتحاد الغرف والبورصات التركية في المكتب نفسه. وبعد يوم من هذه اللقاءات، التقى المتحدث باسم الرئاسة إبراهيم كالين ووزير العدل عبد الحميد غول بممثلين دينيين، بمن فيهم البطريرك اليوناني الفنار برثولوميو، والحاخام الأكبر لتركيا إسحاق هاليفا، والبطريرك الأرمني لتركيا ساهاك مشاليان، والنائب البطريركي للكنيسة السريانية الأرثوذكسية في إسطنبول وأنقرة مور فيلوكسينوس يوسف جيتين. وكان الاجتماع مغلقا أمام الصحافة واستمر قرابة 3 ساعات. أدلى كالين وجول بتصريحات عقب الاجتماع، فقال كالين في بيانه: "نهجنا هو أنه في إطار مبدأ المواطنة المتساوية، يستفيد جميع مواطني الجمهورية التركية بشكل متساوٍ وعادل في الحقوق والحريات ويحققون أهدافهم. مسؤوليات المواطنة ضمن هذا الإطار". وقال وزير العدل جول ما يلي: "حزب العدالة والتنمية يطرح نهجاً معززاً للحرية ومضاعفاً لجميع المواطنين". "إن جمهورية تركيا دولة عظيمة ستظل قوية مع أقليتها وجميع مواطنيها، بغض النظر عن العقيدة، بسلامها ووحدتها وتضامنها. بهذه الثقة وبهذا التصميم سنواصل اتخاذ جميع خطواتنا".

التعليق:


ذكّرتنا هذه الاجتماعات بخطوات حزب العدالة والتنمية وأردوغان في السنوات الأولى عندما وصلوا إلى السلطة. في تلك الفترة كان حزب العدالة والتنمية يفعل كل ما قالته أوروبا وأمريكا لإصلاح الاقتصاد المنهار، وإزالة حطام البنوك المفلسة، وكان يتخذ خطوات تُسعد بارونات رأس المال في تركيا. من ناحية أخرى، كانت تعقد اجتماعات ومحادثات تشاورية كما تفعل اليوم، من أجل إرضاء العلمانيين والليبراليين في تركيا، وإظهار هوية حزب العدالة والتنمية الليبرالي والتصالح والتسامح والديمقراطي والعلماني أمام أوروبا وأمريكا ولإثبات نفسها للغرب. في كل مرة ذهب أردوغان إلى أمريكا، التقى بممثلي اليهود هناك، وفي تركيا، بقيادة أتباع غولن الذين نشروا فكرة الحوار بين الأديان، وافتتح المساجد والكنائس والمعابد اليهودية في الوقت نفسه، وجمع قادة الأقليات حول موائد إفطار وابتسم من التسامح مع الغرب. في أوائل العقد الأول من القرن الحادي والعشرين، كان حزب العدالة والتنمية يحتضر للحصول على 8.5 مليار دولار أمريكي لإيداعها في حساب تركيا مقابل سقوط أول قنبلة على العراق، بينما كان من ناحية أخرى في حوار مع الكفار غير المسلمين من أجل دخول تركيا الاتحاد الأوروبي.


لم يتغير شيء. حزب العدالة والتنمية الذي انتظر كلام مجموعات الاستثمار الاحتكاري الرأسمالي من أجل إصلاح الاقتصاد التركي، الذي نام على أبواب البنوك الأوروبية التي يقترض منها بالربا والتي باعت جميع المؤسسات العامة تحت اسم الخصخصة، هو اليوم لا يزال يعتمد على بارونات الاستثمار هؤلاء. يحاول إجراء إصلاح في الاقتصاد من خلال الحفاظ على مصالح هذه الشركات الماصة للدماء وليس من خلال الاستماع إلى الناس والعمال والحرفيين وتلبية احتياجاتهم. من خلال منح الثقة لغير المسلمين وطمأنة أوروبا بحقوقهم وقانونهم، يحاول تحقيق الإصلاح القضائي، وليس بإزالة ظلم المسلمين وتحرير المظلومين ظلماً من الزنزانات.


تصريح الرئيس أردوغان "أطلقنا التعبئة في الاقتصاد والقضاء" ليس رسالة إلى الرأي العام التركي، بل هو رسالة إلى الرأي العام الأوروبي والأمريكي. وبأي وسيلة، فإن أردوغان اليوم أو غداً سيفعل ما هو ضروري لهذه الرسالة. والمطلوب لهذه الرسالة هو الخروج بحل لملفات المحاكم تليها أوروبا وأمريكا. هذه الملفات هي ملفات تخص عثمان كافالا وصلاح الدين دمرطاش وأحمد ألتان وصحفيين آخرين. وبذلك، يمكن لأردوغان أن يعطي تعليمات لحل ملفات بعض الأشخاص من مجموعة غولن. تجاهل التصريحات الصعبة لأردوغان وشريك التحالف الشعبي بهجيلي بعد ما قاله بولنت أرينك عن صلاح الدين دمرطاش وعثمان كافالا، فهذه التصريحات هي تصريحات تجاه الرأي العام الداخلي في تركيا، تجاه قواعد حزب العدالة والتنمية. الرسالة الحقيقية هي في تصريحه "نحن بصدد إطلاق حملة إصلاحية" الموجه إلى أوروبا وأمريكا. لقد كشفت حكومة حزب العدالة والتنمية عن الضرورة في لقاءاتها مع جمعية الصناعة والأعمال واتحاد الغرف والبورصات التركية، وممثلي الأقليات غير المسلمة.


الغرابة في القانون في محاكمات حزب التحرير، الذي لديه 7 انتهاكات منفصلة لقرارات صائبة ضده، من المحكمة العليا، وهي أعلى سلطة قضائية في تركيا، مؤشر واضح على ذلك. وزير العدل عبد الحميد غول يقول "دع العدالة تتحقق رغم سقوط السماء" "على المحاكم أن تنفذ قرارات المحكمة العليا"، ولكن بعد يومين أو ثلاثة أيام تتجاهل المحاكم قرار المحكمة العليا وتفرض عقوبة قدرها 52.5 سنوات على 3 من أصدقائي الأعزاء (عبد الله إمام أوغلو، وموسى باي أوغلو، وعثمان يلديز) وأنا. كما فرضوا حكما بالسجن 7.5 سنوات على العزيز يلماز شيلك. تحتفظ هذه المحاكم ظلما بما يقرب من 20 عضوا من حزب التحرير في زنازين في قونية وبورصة وأنطاليا.


أخاطب الحكام الذين يؤمنون أن الله سيحملهم مسؤولية كل ظلم في عهدهم يوم الحساب، والقضاة الذين يقفون بجانب الحق! إذا كان العدل لا يحمي المظلوم، فهذا ليس عدلاً بل هو قهر! إذا تم تطبيق العدالة بشكل مختلف على الأفراد، فهذه ليست عدالة بل محسوبية! إذا اختلف القانون باختلاف الظروف، فهذا ليس عدلاً بل غرابة. إذا زاد الاضطهاد بهذه القرارات على حزب التحرير، فإن الله عز وجل سيؤتي ثماره يوماً ما. فإن الله يمهل ولا يهمل!


قال الله تعالى: ﴿وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللّهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَارُ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
محمود كار
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست