إذا أصر الظالم على ظلمه فاعلم أن نهايته قريبة وإذا أصر المظلوم على مقاومته فاعلم أن نصره قريب
إذا أصر الظالم على ظلمه فاعلم أن نهايته قريبة وإذا أصر المظلوم على مقاومته فاعلم أن نصره قريب

قامت الشرطة اليوم بتنفيذ عمليات اعتقال ضد منظمة حزب التحرير "الإرهابي" بالتزامن في محافظتي ايدن وإزمير، حيث تم في صباح اليوم اعتقال تسعة أشخاص من أعضاء منظمة حزب التحرير "الإرهابي".

0:00 0:00
Speed:
June 28, 2019

إذا أصر الظالم على ظلمه فاعلم أن نهايته قريبة وإذا أصر المظلوم على مقاومته فاعلم أن نصره قريب

إذا أصر الظالم على ظلمه فاعلم أن نهايته قريبة

وإذا أصر المظلوم على مقاومته فاعلم أن نصره قريب

الخبر:

قامت الشرطة اليوم بتنفيذ عمليات اعتقال ضد منظمة حزب التحرير "الإرهابي" بالتزامن في محافظتي ايدن وإزمير، حيث تم في صباح اليوم اعتقال تسعة أشخاص من أعضاء منظمة حزب التحرير "الإرهابي".

ومن خلال العملية التي نفذتها مديرية الشرطة في أيدن تم إلقاء القبض على شخصين في بلدة إفلار، وأربعة أشخاص في بلدة ديديم وشخص في بلدة نازلي، واثنين في إزمير، كما تمت مصادرة بعض الآلات الرقمية أثناء تفتيش بيوت وأماكن عمل وسيارات المشتبه بهم، وتم الإعلان أنه سيتم إرسال المتهمين الذين ألقي القبض عليهم في إزمير إلى أيدن. (جريدة حريات)

التعليق:

لقد رفض حزب التحرير منذ نشأته جميع أعمال العنف، وفي جميع ملفات التحقيق التي أرسلت إلى المحاكم بحق حزب التحرير لا يوجد في أي واحدة منها أي دليل يثبت استخدام الحزب للعنف، ولم تتم معاقبة أي واحد منهم أخذ إلى التحقيق بإثبات استخدامه للعنف والشدة، على الرغم من كل هذا، لماذا ينتهك أعضاء المحكمة الدستورية العليا هذه الحقوق وتوجه عملية اعتقال ضد شباب حزب التحرير؟ ولماذا كانت هذه العملية بعد انتخابات بلدية إسطنبول مباشرة؟ وهل لهذه العملية علاقة بخسارة مرشح اتفاق الجمهورية بن علي يلدريم في انتخابات إسطنبول؟ أم أن هذه الحملة كانت ضد شباب حزب التحرير لأنهم يدافعون عن أحكام الإسلام؟ هل هي حملة ضد الإسلام مباشرة، أم لمنع انهيار الديمقراطية النتنة التي لن يكون لأنها ستنهار وترمى في مزابل التاريخ مثلها مثل كل الأفكار الباطلة؟ أم أنها رسالة من تحالف الجمهورية إلى تحالف أننا نسير في الدرب نفسه وإننا على القارب نفسه؟ أم أن هذه الحملة موجهة من رئاسة حزب العدالة والتنمية في تحالف الجمهورية ضد المسلمين في تركيا؟ أم هي رسالة أنه إذا وصل حزب الشعب الجمهوري إلى السلطة فإن الظلم والاضطهاد لن يكون أقل؟ وهكذا تتزايد الأسئلة حول هذه الحملة ضد شباب حزب التحرير الحاملين مشعل هذه الأمة، ولكن ما أريد الوقوف عليه الآن وسؤاله هو حول هذه الافتراءات وتهمة (الإرهاب) الموجهة ضد الحزب وشبابه:

- من هو الإرهابي، أمريكا ومن يساندها في قتل المسلمين في سوريا منذ سنوات طوال، أم شباب حزب التحرير المسلمين الواقفون ضد الظلم؟

- الظلم الموجه من السلطات الصينية ضد المسلمين في تركستان الشرقية فقط لأنهم قالوا ربنا الله تعرضوا لأقسى أنواع التعذيب الذي لا يمكن للعقل أن يتصوره، وخلال الزيارة التي أجراها مساعد وزير الخارجية التركي سعدات أونال في 16 ايار 2019 صرح بما يلي "نحن نقف إلى جانب جمهورية الصين الشعبية في مواجهتها لـ(الإرهاب والجماعات الإرهابية)، كما نريد توطيد العلاقات المشتركة بين البلدين" من هو الإرهابي؟ هل هو من يدعم وحشية الصين البربرية ويعلن وقوفه إلى جانبها في أعمالها الوحشة، أم شباب حزب التحرير الذين يدعون إلى إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تنشر الأمن والعدالة والسلام وتقيم أوامر الله ونواهيه في أرضه؟

- من هو الإرهابي؟ هل هو من يقيم علاقات اقتصادية وسياسية مع كيان يهود الغاصب لفلسطين المباركة منذ عشرات السنين وينفذ أبشع الجرائم بحق أهلها، أم حزب التحرير الذي يسعى دائما لتذكير الأمة أن خلاص فلسطين خاصة والأمة الإسلامية عامة لن يكون إلا على يد خليفة مثل عبد الحميد يحرر تراب فلسطين المقدس ويطرد الطغاة منها؟

- من هو الإرهابي؟ هل هي المعتقدات والنظريات الباطلة الغربية التي زرعها الاستعمار الغربي في عقل الأمة الإسلامية من بعد انهيار دولة الخلافة في الثالث من آذار عام ألف وتسعمئة وأربعة وعشرين من ديمقراطية وقومية وجمهورية وعلمانية وغيرها من أفكار خبيثة، أم شباب حزب التحرير الذين يدعون إلى خلاص الأمة الإسلامية بل إلى خلاص الإنسانية عامة ولن يكون هذا الخلاص إلا بإعلاء كلمة الله في أرضه وتنفيذ أوامره ونواهيه؟

وفي النتيجة مهما كانت أسباب هذه الحملة ضد شباب حزب التحرير الذين يدعون إلى خير هذه الأمة وصلاحها بل إلى خير الإنسانية جمعاء، الذين يدعون إلى الإسلام، الذين يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر، خير أمة أخرجت للناس والذين لم يستخدموا في دعوتهم أي نوع من أنواع الشدة والعنف ولا حتى بالكلام، والذين تعرضوا لجميع أنواع العنف من سجن وتهجير وتعذيب ومع ذلك لم يكن قولهم إلا ﴿قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ [التوبة: ٥١]، هذا هو جوابهم مقابل كل ذلك، الذين لم تخرج من أفواههم أي كلمة ضجر أو سخط تغضب الله عز وجل، وسوف يبقون أمل هذه الأمة في النجاة... وبالنسبة للغرب الظالم ومن يسانده فأريد أن أذكرهم بقول سيدنا علي رضي الله عنه "إذا أصر الظالم على ظلمه فاعلم أن نهايته قريبة وإذا أصر المظلوم على مقاومته فاعلم أن النصر قريب".

﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست