إذا اتخذت الدولة موقفاً، فلن تبقى الاتفاقيات ولا المنظمات المنحرفة (مترجم)
إذا اتخذت الدولة موقفاً، فلن تبقى الاتفاقيات ولا المنظمات المنحرفة (مترجم)

الخبر:   كنت قد كتبت تعليقا صحفيا بتاريخ 3 أيار/مايو 2020م تحت عنوان "حزب العدالة والتنمية الذي يحمي علي أرباش، يحمي أيضاً اتفاقية اسطنبول" وذكرت المثلية الجنسية التي تحدث عنها وزير الشؤون الدينية علي أرباش خلال خطبة الجمعة في شهر رمضان. قال علي أرباش خلال الخطبة "إن الإسلام يعتبر الزنا أكبر خطيئة، ويلعن آل لوط، والشذوذ الجنسي، وبأن هذه الخطايا تتسبب بالأمراض وتحتاج إلى التكاتف ضدها سوياً من أجل حماية الناس من مثل هذه الشرور". ومع ذلك، لم تتخذ الحكومة في السلطة ولا الرئيس ولا المسؤولون الآخرون أية خطوات ملموسة ضد هذه الانحرافات، ولم يتخذوا إجراءات لمصارعة هذه الشرور.

0:00 0:00
Speed:
July 08, 2020

إذا اتخذت الدولة موقفاً، فلن تبقى الاتفاقيات ولا المنظمات المنحرفة (مترجم)

إذا اتخذت الدولة موقفاً، فلن تبقى الاتفاقيات ولا المنظمات المنحرفة

(مترجم)

الخبر:

كنت قد كتبت تعليقا صحفيا بتاريخ 3 أيار/مايو 2020م تحت عنوان "حزب العدالة والتنمية الذي يحمي علي أرباش، يحمي أيضاً اتفاقية اسطنبول" وذكرت المثلية الجنسية التي تحدث عنها وزير الشؤون الدينية علي أرباش خلال خطبة الجمعة في شهر رمضان. قال علي أرباش خلال الخطبة "إن الإسلام يعتبر الزنا أكبر خطيئة، ويلعن آل لوط، والشذوذ الجنسي، وبأن هذه الخطايا تتسبب بالأمراض وتحتاج إلى التكاتف ضدها سوياً من أجل حماية الناس من مثل هذه الشرور". ومع ذلك، لم تتخذ الحكومة في السلطة ولا الرئيس ولا المسؤولون الآخرون أية خطوات ملموسة ضد هذه الانحرافات، ولم يتخذوا إجراءات لمصارعة هذه الشرور.

التعليق:

وهكذا، في 29 حزيران/يونيو 2020م، قال الرئيس أردوغان خلال خطابه العام بعد اجتماع مجلس الوزراء إنه من الضروري اتخاذ موقف ضد المنحرفين والمنظمات المثلية الجنسية، لكنه حمل الشعب المسؤولية. وقال الرئيس أردوغان: "إن بعض الناس يهاجمون قيمنا الوطنية والأخلاقية. أولئك الذين يدعمون مثل هذه الحركات الهامشية هم شركاء في ذات الانحراف في أعيننا. من هنا، أدعو شعبنا إلى اتخاذ موقف حذر ضد أولئك الذين يدعمون أي انحراف يحرمه ربنا". بعد ذلك، قال نائب رئيس حزب العدالة والتنمية نعمان كورتولموش رداً على أسئلة الصحفيين خلال برنامج تلفزيوني حضره في 2 تموز/يوليو 2020م: "كان التوقيع على اتفاقية إسطنبول خاطئاً حقاً. تم التوقيع عليها في إسطنبول عام 2011 ومررته تركيا من خلال البرلمان في تشرين الثاني/نوفمبر 2012م. وبعبارة أخرى، فإن الأطروحة القائلة بأنه دون اتفاقية إسطنبول، سيزداد العنف ضد المرأة في تركيا ليس سوى أسطورة شعبية. إنها كذبة، دعاية كاذبة".

عند هذه النقطة، أرى فائدة في التأكيد على بعض الأمور. أولاً: مسؤولية المسلمين والجماهير في هذا الموضوع: إذا لم يقل المسلمون وعامة الناس الحق للحكام الذين يحكمون بالكفر، ولم يدعو الأحزاب والسلطات التي تسن القوانين للمحاسبة، فإنهم سيكونون مسؤولين أمام الله. ولا ننسى أنه ستكون في هذه الأمة طائفة ظاهرة على الحق تأمر بالمعروف، وتنهى عن المنكر، ثابتة على الحق، لأن هناك خيراً قائماً دائماً في هذه الأمة. قال رسول الله ﷺ: « لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَذَلِكَ» (رواه البخاري ومسلم)

ولهذا السبب، اتخذنا موقفا ضد هذه الاتفاقية الآثمة الفاسدة المسماة "اتفاقية إسطنبول" منذ البداية، وقلنا للمسلمين إن الواجب عليهم اتخاذ موقف ضد هذه الاتفاقية أيضا. وقلنا في هذا السياق إننا سنحمي الأسرة والأجيال والمجتمع من الانحرافات والشرور التي ولّدتها هذه القوانين والأنظمة البشرية. وقد دعونا الحكام للمحاسبة وحاولنا الثبات على الطريق الصحيح. وبعبارة أخرى، كشفت طائفة متميزة من المجتمع عن الفتن والانحراف اللذين ولّدتهما هذه الاتفاقية وألقت عن كاهلها مسؤولية الإنكار.

ثانياً: إن مسؤولية الحكام تفوق مسؤولية الأفراد والمجتمعات؛ لأن الحكام لديهم السلطة للقضاء على المنكر كليا باستخدام السلطة القانونية وسلطة الدولة. قال رسول الله ﷺ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَراً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ» (رواه مسلم)

في هذا السياق، للحكام أن ينكروا المنكر بأيديهم للقضاء عليه، وهم ملزمون بذلك. ومع ذلك، أي شيء يفعله حكام اليوم؟ إنهم يتهربون من المسؤولية ويحاولون تحميل المسؤولية للمسلمين ولعامة الناس! ثم إنهم يتوقعون أن يتخذ الناس موقفا ضد هذه المنكرات والانحرافات! وفوق ذلك لا يلتفتون إلى الرأي العام، وآراء الطرف الآخر وتوقعات الناس، ولا يأخذون ذلك كله بعين الاعتبار، بل يتعلقون قبل كل شيء، بما يقوله أسيادهم.

أي رأي لجهات أو مطالب لشعب ستكون بالأهمية ذاتها في قضية لعنها الله ونهى عنها؟ وبمعنى آخر إذا ما اتخذ الناس موقفا مؤيدا لهذه الاتفاقية، وتعاونوا جميعا على الإثم، فهل سنستمر في تطبيق هذه الاتفاقية اللعينة؟! إن الواجب على الحكام أولاً أن يتخذوا موقفاً نيابة عن الدولة وأن يسحبوا التوقيع من جانب واحد من هذه الاتفاقية. فمن غير المقبول أن يختلف حكام الدولة في مثل هذه القضية.

وأخيرا، أود أن أؤكد بشكل خاص على مسؤولية الحزب الحاكم والرئيس أردوغان؛ لأنه على الرغم من أنهم في السلطة منذ 18 عاماً وهم يمتلكون القوة والأدوات، إلا أنهم وقعوا على الممارسات التي تدمر بنية الأسرة من خلال "اتفاقية إسطنبول" فتسببوا في انهيار العائلات، وساهموا في انتشار الانحرافات في الشوارع. والآن، إذا تراجعوا عما فعلوه، فلن يكونوا قادرين على تنظيف خطيئاتهم الماضية، لأنه على الرغم من حقيقة أن هؤلاء الأشخاص كانوا يعرفون أن هذا الانحراف خطيئة ملعونة، فقد أصبحوا شركاء في الشر والخبث والانحراف من أجل المصلحة السياسية. وحتى اليوم ما زالوا يقولون فلنجعله قيد التجربة وننظر فيه، وإذا لزم الأمر، سنقوم بسحب التوقيع! وبمعنى آخر، لا يتخذ هؤلاء الحكام خطوة لتطبيق أمر الله، لكنهم يعتنون بمصالح سياسية أخرى. ﴿مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمود كار

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية تركيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست