إطلاق نار جماعي في مركز تسوق كوبنهاغن
إطلاق نار جماعي في مركز تسوق كوبنهاغن

  الخبر: يوم الأحد 3 تموز/يوليو 2022، شكل مركز التسوق الذي يزوره عدد كبير من الزوار في كوبنهاغن، فيلدز، مسرحاً لإطلاق نار جماعي خلال ساعات العمل. حيث دخل رجل دنماركي يبلغ من العمر 22 عاماً المركز التجاري ببندقية وأطلق النار على المدنيين الموجودين من العائلات والأطفال. وأصيب 10 منهم بالرصاص، فقُتل 3 منهم والبقية أصيبوا بجروح خطيرة. ولا يزال من غير الواضح ما هي دوافع الجاني، ولم تصنف السلطات الدنماركية الهجوم على أنه إرهابي، بدعوى عدم وجود دافع له. هذا، على الرغم من أن العديد من شهود العيان أفادوا أنه تعمد ملاحقة المسلمين أو الأشخاص الذين يشبهون الأجانب.

0:00 0:00
Speed:
July 10, 2022

إطلاق نار جماعي في مركز تسوق كوبنهاغن

إطلاق نار جماعي في مركز تسوق كوبنهاغن

(مترجم)

الخبر:

يوم الأحد 3 تموز/يوليو 2022، شكل مركز التسوق الذي يزوره عدد كبير من الزوار في كوبنهاغن، فيلدز، مسرحاً لإطلاق نار جماعي خلال ساعات العمل. حيث دخل رجل دنماركي يبلغ من العمر 22 عاماً المركز التجاري ببندقية وأطلق النار على المدنيين الموجودين من العائلات والأطفال. وأصيب 10 منهم بالرصاص، فقُتل 3 منهم والبقية أصيبوا بجروح خطيرة. ولا يزال من غير الواضح ما هي دوافع الجاني، ولم تصنف السلطات الدنماركية الهجوم على أنه إرهابي، بدعوى عدم وجود دافع له. هذا، على الرغم من أن العديد من شهود العيان أفادوا أنه تعمد ملاحقة المسلمين أو الأشخاص الذين يشبهون الأجانب.

التعليق:

سلطت السلطات ووسائل الإعلام الدنماركية في بيانات عدة لها الضوء على أن الجاني معروف في نظام الطب النفسي، لإعلام الجمهور بأن مرضه العقلي هو سبب الاعتداء. شخص مريض عقليا تصرف فجأة دون دافع سوى عقله المريض. بعد ذلك، دار الجدل في الغالب حول ما إذا كان السياسيون يعيرون ما يكفي من الانتباه للمرضى العقليين، وأنه قد ترك دون مراقبة بسبب نظام الطب النفسي، الذي هو في حاجة ماسة إلى المزيد من الموارد.

اختارت السلطات الدنماركية منذ البداية عدم تسميته هجوماً إرهابياً محتملاً، واختارت الشرطة عدم التحقيق فيه على أنه هجوم إرهابي محتمل، وهو ما يعد نقطة البداية القياسية لحالات مماثلة. يشهد هذا على حقيقة أن هناك نصوصاً مختلفة لكيفية عرض الهجمات في مراحلها المبكرة وتأطيرها في الأماكن العامة، اعتماداً على ما إذا كان الجاني مسلماً أم لا، كما يظهر بوضوح إطلاق النار الأخير في النرويج. فهذا يحافظ على رواية "الإرهاب الإسلامي" ويضمن استمرار تبرير "الحرب على الإرهاب".

إن مفهوم الإرهاب برمته والخطاب حول الإرهاب هو موضوع سياسي بحت، كما أنه مرتبط ارتباطاً وثيقاً بـ"الحرب على الإرهاب"، التي عملت فيها الدنمارك كذيل للولايات المتحدة. إن المحاولات المستمرة لربط العنف والإرهاب بالإسلام والمسلمين هي رواية سياسية، يرعاها الغرب باستمرار ويحافظ عليها لإضفاء الشرعية على حروب العدوان والاحتلال الدموية التي تسببت في خسائر في صفوف المدنيين بالملايين. شكلت الرواية نفسها أساساً لسياسة الاستيعاب القسري التي دارت خلال العقدين الماضيين والتي تستهدف المسلمين على وجه التحديد في الدنمارك، والتي يغذيها التهديد والتشهير والتمييز ضد المسلمين في وسائل الإعلام والقانون والسياسة، وفي الوقت نفسه فإنه بمثابة عقبة في أذهان الناس في الدنمارك من التفكير في الإسلام.

لهذا يصر الغرب، بما في ذلك الدنمارك، على الحفاظ على هذه الرواية. وبالتالي فإن "الإرهاب" يستخدم كمفهوم سياسي وكذلك في الإعلام والنظام القضائي بشكل انتقائي موجه إلى الجناة المسلمين. حتى في الحالات التي يقوم فيها إرهابي يميني أبيض بارتكاب عمل إرهابي بشكل علني، وحتى عندما يتم إصدار إدانة بالإرهاب، تظهر الدراسات المكثفة للتغطية الإعلامية العالمية أن مثل هذه الهجمات لا يشار إليها في كثير من الأحيان بالإرهاب، مقارنة في الحالات التي يكون فيها الجاني من خلفية مسلمة.

عندما تؤتي الأكاذيب والكراهية التي تم زرعها وتسميدها وسقيها بشق الأنفس لعقود من الزمان، ثماراً فاسدة على شكل زيادة في العنف والقتل اللذين يرتكبهما الغربيون البيض ضد المسلمين، فإن الحكومة في هذا البلد والدول الغربية الأخرى ستبذل قصارى جهدها لتجنب الإشارة الواضحة على من تعود المسؤولية والمناقشة الضرورية بشكل حتمي حول نوع الثقافة والسياسة والأيديولوجية التي تخلق الكراهية والعنف.

إن "الحرب على الإرهاب" في حد ذاتها خير دليل على أن الحكومات الغربية، في جهودها لمحاربة الإرهاب، لم تكن مدفوعة أبداً بالاهتمام بحياة المدنيين أو أمن مواطنيها.

من المؤكد أن النفاق والتمييز الواضحين في الحالات الحساسة لقتل المدنيين ينطبق أيضاً على الوضع الحالي للهجوم في مركز التسوق في فيلد. هذا، على الرغم من تفاصيل القضية التي لا تزال غير واضحة للجمهور.

هنالك العديد من روايات شهود العيان عن أشخاص كانوا حاضرين أثناء الهجوم وكانوا يراقبون الجاني، حيث يصفون بشكل مستقل نمطاً مشابهاً يستهدف فيه الجاني عن قصد أشخاصاً أجانب أو ذوي مظهر إسلامي، إن هذه الروايات يجب أن تقود على الأقل لهذه الزاوية التي تتستر عليها وسائل الإعلام والجمهور. إن رفض هذه الروايات المباشرة بشكل قاطع على أنها مجرد شائعات غير مؤكدة هو نهج غامض للتشكيك في الحالات التي تكون فيها الدوافع مهمة جداً للجمهور ولتتحمل الجهات مسؤوليتها عن مثل هذه الحوادث وليس فقط العواقب السياسية المحتملة. هذا، بغض النظر عن العواقب القانونية، وما إذا تم تأكيد هذه الحسابات المباشرة لاحقاً أم لا.

يمكن أن يتسم الأشخاص المصابون بأمراض عقلية، في سلوكهم، بما هو أكثر من مرضهم. تتأثر العقول المريضة أيضاً بمحيطها ومجتمعها. من الغامض أن يتم إسكات النقاش حول الدافع أو النمط بسبب المرض العقلي. وهذا، تماشياً مع التمييز المذكور أعلاه، لم يكن كذلك بالتأكيد في حالات مماثلة، حيث كان الجاني مسلماً مختلاً عقلياً.

هذه النقاط ووجهات النظر الواسعة حول خطاب الإرهاب برمته تستحق الاهتمام العام ومزيداً من النقاش، بغض النظر عن تفاصيل ونتائج الأحداث المأساوية الأخيرة في كوبنهاغن.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إبراهيم الأطرش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست