إياكم والانخداع بتركيا أيتها الفصائل وإلا فستمسكم النار (مترجم)
إياكم والانخداع بتركيا أيتها الفصائل وإلا فستمسكم النار (مترجم)

الخبر:   لقي ما لا يقل عن 30 شخصا مصرعهم بسبب المناوشات التي وقعت في ريف إدلب بين هيئة تحرير الشام التابعة لتنظيم القاعدة وحركة نور الدين زنكي المدعومة من تركيا، كما تم الكشف عن استيلاء هيئة تحرير الشام على ناحية دار العزة المتاخمة للحدود التركية. (دويجة ويللة بالتركية، 03/01/2019)

0:00 0:00
Speed:
January 05, 2019

إياكم والانخداع بتركيا أيتها الفصائل وإلا فستمسكم النار (مترجم)

إياكم والانخداع بتركيا أيتها الفصائل وإلا فستمسكم النار

(مترجم)

الخبر:

لقي ما لا يقل عن 30 شخصا مصرعهم بسبب المناوشات التي وقعت في ريف إدلب بين هيئة تحرير الشام التابعة لتنظيم القاعدة وحركة نور الدين زنكي المدعومة من تركيا، كما تم الكشف عن استيلاء هيئة تحرير الشام على ناحية دار العزة المتاخمة للحدود التركية. (دويجة ويللة بالتركية، 03/01/2019)

التعليق:

أعلنت هيئة حقوق الإنسان السورية، والتي تتخذ من لندن مقرا لها، عن مقتل 24 شخصا من حركة نور الدين زنكي المدعومة من تركيا وثلاثين شخصا من هيئة تحرير الشام وذلك إثر القتال الذي وقع بينهما خلال الـ24 ساعة الماضية. لا شك أن فقدان الفصائل الثورية للبوصلة والاقتتال فيما بينها كان أحد الأسباب التي أدت إلى عدم تحقيق النصر في وقت قصير من عمر الثورة السورية. إن الإسلام يحرم بشدة الاقتتال بين الإخوة، يقول الرسول عليه الصلاة والسلام: «إِذَا التَقَى المُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالقَاتِلُ وَالمَقْتُولُ فِي النَّارِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا القَاتِلُ، فَمَا بَالُ المَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصاً عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ» رواه الشيخان.

لقد كان المسلمون على مدى التاريخ هم الخاسرين دائما في الاقتتال فيما بينهم، وهذا إما عطل الجهاد الذي كان يعتبر قضية مصيرية في حمل الدعوة الإسلامية وإما أدى إلى حرب داخلية وعدم الاستقرار وضعف المسلمين. أما اليوم فإن هذا الاقتتال بين الفصائل قد أبعدهم عن الهدف وهو إسقاط النظام وإقامة الخلافة الراشدة بدلا منه والتي تعتبر قضية مصيرية، وأصبح هذا الاقتتال عبارة عن تقاسم فتات ليس إلا. وقد أصبح المسلمون هم الخاسرين أيضا جراء اقتتال الإخوة الذي تغذيه وتستغله الدول العميلة الإقليمية بسبب عدم وعي الفصائل.

أما عن الجانب السياسي لهذا الاقتتال فإن تصريح الرئيس الأمريكي دونالد ترامب عن سحب بلاده لما يقرب من 2000 جندي أمريكي موجودين في سوريا يعتبر لافتا للنظر خصوصا أنه جاء متزامنا مع اتفاق حصل بين الوفد التركي أثناء قيامه بزيارة إلى موسكو حيث تقوم تركيا بتقديم الدعم إلى الجيش السوري الحر، وبين روسيا التي تدعم النظام السوري المجرم؛ حيث يقتضي هذا الاتفاق زيادة التنسيق على الأرض. وفي هذا الاتجاه صرح وزير الخارجية الروسي سيرجي لافروف عقب اجتماع عقده يوم السبت بتاريخ 29 كانون الأول 2018 قائلا: "لقد تم التوصل إلى اتفاق بين ممثلين عسكريين من الجانبين الروسي والتركي لتفعيل خطوات التنسيق على الأرض والغرض منه استئصال (الإرهاب) في سوريا من جذوره".

كما هو معلوم فإن هيئة تحرير الشام تعتبر منظمة (إرهابية) في نظر روسيا وأمريكا وتركيا، وفي شهر أيلول وبعد اجتماع جمعه مع نظيره الروسي بوتين في سوتشي وعد أردوغان أنه سيتم القضاء على "الإرهابيين" في سوريا. ومهما يحاول الإعلام تفسير "خطر الإرهاب" وتقديمه إلى الرأي العام التركي على أن المقصود منه هو وحدات الحماية الشعبية أو حزب الاتحاد الديمقراطي إلا أنه مما لا شك فيه فإن المعني هنا هو هيئة تحرير الشام. والدليل على ذلك هو الاقتتال الذي وقع بين الجيش السوري الحر المدعوم تركيّاً وهيئة تحرير الشام حيث جاء مباشرة بعد اتفاق التنسيق بين تركيا وروسيا.

لقد برز الاقتتال إلى العلن بعدما قامت حركة نور الدين زنكي المُستغَلة من تركيا بمحاولة اغتيال أربعة من عناصر هيئة تحرير الشام في 1 كانون الثاني 2019. في الحقيقة يُعد هذا الاقتتال حلقة صغيرة من لغز كبير، فتصريح أمريكا بسحب جنودها من سوريا، وتصريح جاووش أوغلو بأنه يمكننا الاتفاق مع الأسد، وزيارة البشير إلى سوريا، وافتتاح كل من الإمارات والبحرين سفارتيهما في دمشق، واتفاق كل من وحدات الحماية الشعبية وحزب الاتحاد الديمقراطي مع النظام وانسحابه من منبج، وغيرها من الأعمال... كل ذلك يعتبر حلقات صغيرة في هذا اللغز الكبير. أما إتمام حلقات اللغز فهو عبر الحل السياسي الذي تريده أمريكا بموجب اتفاقية جنيف التي صادقت عليها الأمم المتحدة في قرارها رقم 2254. فهذه الحلقات جميعها هي التي تُكوِّن هذا اللغز الكبير.

ينبغي على الفصائل المعنية هنا أن لا تنخدع بتركيا التي تدور في فلك أمريكا ثم تقع في اقتتال الإخوة، فإن الفصائل التي تدعمها تركيا اليوم ستسلمها غدا إلى النظام، وعندها لن ينفع الندم ولات ساعة مندم. ألا تتعظ هذه الفصائل من سابقاتها التي كان يستغلها العملاء ويتخلون عنها عندما تنتهي صلاحيتها أو كانت تتم تصفيتها بالاغتيالات؟! وأوضح دليل على ذلك هو تخلي أمريكا عن وحدات الحماية الشعبية وحزب الاتحاد الديمقراطي بعد أن استخدمتهما ضد تنظيم الدولة. نتمنى على هذه الفصائل أن تتعظ من ذلك كله وتتخلى عن الاقتتال فيما بينها وتضع نصب عينها دمشق ولا تنخدع بتركيا.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست