إيران ترحب بشركات النفط الأمريكية
إيران ترحب بشركات النفط الأمريكية

كونا -- أكد وزير النفط الإيراني بيجن زنكنه اليوم السبت أن الأبواب مفتوحة أمام الشركات الأمريكية للاستثمار في صناعة النفط لافتا إلى إن بلاده لا تعارض حضور الشركات الأمريكية في صناعة النفط الإيرانية.

0:00 0:00
Speed:
December 03, 2015

إيران ترحب بشركات النفط الأمريكية

إيران ترحب بشركات النفط الأمريكية

الخبر:

كونا -- أكد وزير النفط الإيراني بيجن زنكنه اليوم السبت أن الأبواب مفتوحة أمام الشركات الأمريكية للاستثمار في صناعة النفط لافتا إلى إن بلاده لا تعارض حضور الشركات الأمريكية في صناعة النفط الإيرانية.

وقال زنكنه في تصريح صحفي على هامش ملتقى دولي لتقديم العروض الجديدة لعقود النفط الإيرانية في طهران أن "إيران اليوم تختلف عن قبل 20 عاما وعلى الشركات الأجنبية الراغبة بالاستثمار الاهتمام بهذه النقطة". (جريدة الوطن الكويتية 28 نوفمبر 2015 )

التعليق:

قيل الكثير عن العلاقة الأمريكية الإيرانية، ويبدو أن الواقع يكشف يوماً بعد يوم حقيقة العلاقة بين الدولتين، تلك العلاقة التي من أجل إخفائها تم الاستثمار في الكثير من السياسات والخطط والأساليب. وصار من نافلة القول اليوم الحديث عن سماجة نكتة الشيطان الأكبر وما تفرع عنها من تفاهات. إلا أننا في هذه العجالة نأخذ القارئ في جولة تاريخية سريعة كي ندرك أهمية الوعي السياسي... الوعي السياسي المبكر.

كتب "أحمد مهابه" المستشار الإعلامي لسفارة مصر في إيران حتى كانون الأول/ديسمبر 1979، نقلاً عن (الشاه) في مذكراته، ما يلي "في بداية كانون الثاني/يناير 1979، كنت لا أزال في الحكم، وقد تلقيت معلومات غريبة تقول أن الجنرال (هويزر) في طهران منذ بضعة أيام، والجنرال (هويزر) ليس نكرة، فهو جنرال في سلاح الجو الأمريكي ونائب رئيس أركان القيادة الأمريكية في أوروبا، وزار طهران عدة مرات في السنوات الماضية، وفي كل مرة كان يطلب مقابلتي، أما هذه المرة فلم يحدث شيء من ذلك على الإطلاق، فلقد أحيط وصوله إلى طهران بسرية مطلقة، ماذا كان هذا الجنرال الأمريكي يعمل في طهران؟" (إيران بين التاج والعمامة - الطبعة الأولى، 1989)

وفي حديثه عن فضيحة إيران كونترا، يكتب الكاتب المصري المشهور محمد حسنين هيكل "لقد احتوى تقرير هذه اللجنة الرئاسية الخاصة – والذي يزيد من أهميته أن أحد أعضائها، وهو "برنت سكوكروفت" يوصف بأنه المهندس الحقيقي لحرب الخليج بوصفه مستشار الأمن القومي الحالي مع الرئيس "جورج بوش" – على حقائق بالغة الأهمية. تتوالى ابتداء من الصفحة الثالثة من الجزء الثالث من تقرير اللجنة الذي تصل صفحاته إلى قرابة مائتين وخمسين صفحة.

يروي التقرير أنه في سنة 1983 عقد مجلس الأمن القومي بالبيت الأبيض عدة اجتماعات برئاسة "روبرت ماكفرلين" مستشار الأمن القومي للرئيس "ريغان" – لبحث السياسة الأمريكية تجاه إيران. وكانت هناك خشية من أن هذا البلد المهم يمكن أن يضيع نهائياً بالنسبة للولايات المتحدة. وكان أهم عوامل القلق المستجد على الأحوال في إيران هو مسار الحرب مع العراق، وهو في غير صالح إيران، ثم الإحساس بأن صحة "الخميني" تتدهور، وأن صراعاً داخلياً على السلطة يمكن أن ينشأ في إيران ويقودها لحالة من الفوضى تنتهي بإطلاق يد العراق في منطقة الخليج. (من كتاب "حرب الخليج... أوهام القوة والنصر"، لمؤلفه محمد حسنين هيكل، النشر مركز الأهرام للترجمة والنشر، الطبعة الأولى 1992م.)

أما حزب التحرير، فقد كانت الصورة لديه واضحة جلية منذ أيام الثورة الأولى:

ففي نيسان/أبريل 1979 كتب الحزب "... في المرحلة الأخيرة كثفت أمريكا أعمالها السرية في كسب الضباط وتخذيلهم عن الشاه، فقد ذكرت الأنباء أن أمريكا زادت موظفي سفارتها في طهران بستين موظفاً من رجال الاستخبارات وعندما كشفت روسيا ذلك ردت أمريكا أن هؤلاء الموظفين أرسلوا للمساعدة في الأمور القنصلية، كما أرسلت كذلك الجنرال هويزر المعروف بصداقاته مع الضباط الإيرانيين ولا سيما أنه من ضباط سلاح الجو الأمريكي وقد مكث في طهران قرابة شهر ولم يغادرها إلا قبيل انهيار أنصار الشاه بأيام. فبعد أن عاد الخميني ظهر أن حملته ضد النظام قد أخذت تفقد زخمها حتى إنه يقال أن بازركان قال حين أصر الخميني على العودة إلى طهران "إنه رجل مجنون" وفجأة انهارت مقاومة الجيش للخميني، وقد روى قائد سلاح الجو الإيراني بأن رئيس الوزراء أمر بنسف مصنع للذخيرة حتى لا يقع في يد أنصار الخميني وذلك يوم الأحد صباحاً في اليوم الذي انهار فيه نظام الشاه ولكنه رفض. ولا شك في أن انهيار مقاومة الجيش للخميني كان انقلابا أمريكيا ومن صنع الأمريكان وليس من صنع الخميني وأنصاره. فقد عمدت أمريكا إلى الضغط على كبار الضباط الموالين للشاه بأساليب الترغيب والترهيب، وربما تكون قد عمدت إلى قتل بعضهم، فسحبت البساط من تحت بختيار وانهار حكم الشاه."

نعم... هذه هي أمريكا وهذه هي إيران، وهذا هو الوعي السياسي وهذا هو حزب التحرير الذي لم ينتظر ثلاثة عقود كي يعرف أن ثمة زواجاً سرياً قائماً بين الطرفين.

بل أدرك حقيقة العلاقة في حينها رغم الغبار الكثيف الذي أثير حولها، كما أدرك قبلها حقيقة ثورة يوليو الأمريكية في مصر، وحقيقة أنظمة التبعية في المنطقة، والموقف الدولي وعلاقاته المتشابكة وانعكاساته على العالم الإسلامي.

إن الحديث حول تحليلات حزب التحرير السياسية الثاقبة يطول، ولكن مفتاح ذلك الوعي السياسي، بتقديري، هو أن بلاد المسلمين أضحت بُعيد هدم الخلافة مزرعة استعمارية لدول الغرب الكافر. معرفة هذا المفتاح والمحافظة عليه تفتح للمتابع باب فهم الأعمال السياسية في المنطقة، دونما انخداع باستقلالات مزيفة هنا وعنتريات هناك أو شياطين صغار هنا أو كبار هناك!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. أسامة الثويني - دائرة الإعلام / الكويت

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست