ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کو عام انتخابات کے بغیر ہٹانا حقیقی حل نہیں
امت کے مسائل کا حل صرف اسلام ہے
(مترجم)
خبر:
26 جولائی 2025 کو ملائیشیا میں وزیرِ اعظم داتوک سری انور ابراہیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔ اس مظاہرے میں اپوزیشن کے حامیوں، غیر سرکاری تنظیموں اور عام لوگوں نے شرکت کی جو قیادت کی ناکامیوں پر ناراض تھے۔ بہت سے لوگوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ انور ابراہیم عوام کو درپیش مشکلات کو بڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ کچھ نے استدلال کیا کہ وزیرِ اعظم کو صرف انتخابات کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اصرار کیا کہ کسی بھی وزیرِ اعظم کو عام انتخابات کا انتظار کیے بغیر عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کے بیانات نے بڑے پیمانے پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا اور حکومت اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان سیاسی تقسیم کو مزید بڑھا دیا۔
تبصرہ:
احتجاجات نے ملائیشیا کے شہریوں میں گہری عدم اطمینان کو اجاگر کیا، لیکن قومی مسائل کی جڑوں کو حل کیے بغیر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کو تبدیل کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ لیڈر ایک حکومتی ڈھانچے کے اندر کام کرتا ہے، اور اگر نظام ہی کرپٹ ہے، تو کوئی بھی فرد - قطع نظر اس کے کہ وہ کتنا ایماندار ہے یا اس کی نیت کتنی اچھی ہے - حقیقی اصلاح نہیں کر سکتا۔ ملائیشیا کی تاریخ، جس میں پندرہ عام انتخابات ہوئے، ظاہر کرتی ہے کہ قیادت کی تبدیلیاں معیشت، سیاست، تعلیم اور سماجی زندگی میں فوری مسائل کو حل کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہیں۔ ہر نئی حکومت بہتری کے وعدوں کے ساتھ آتی ہے، لیکن عوام کی حالت بڑی حد تک وہی رہتی ہے، کیونکہ موجودہ نظام وہی نتائج حاصل کرتا رہتا ہے۔ کچھ لوگ مظاہروں اور نام نہاد "عوام کی طاقت" کو تبدیلی کے متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے تجربات اس راستے کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ عرب بہار اور بنگلہ دیش کے واقعات نے حکومتوں کو گرایا، لیکن انہوں نے نہ تو انصاف قائم کیا اور نہ ہی استحکام، کیونکہ ان کی بنیاد اسلام پر نہیں تھی۔ ایک حکومت کے گرنے سے دوسری حکومت کے لیے جگہ بن گئی، جبکہ بدعنوانی، جبر اور نظامی ناکامیاں جاری رہیں۔ مزید برآں، مظاہرے اکثر مختلف گروہوں کو اکٹھا کرتے ہیں جن کے متضاد مقاصد ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے کامیابی کے بعد ایک واضح اور متحد سمت تشکیل دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔ بہت سے معاملات میں، غیر ملکی طاقتیں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتی ہیں تاکہ اپنے ایجنڈے کو پورا کر سکیں، جس سے لوگ کسی حقیقی پیش رفت کے بغیر رہ جاتے ہیں۔
حقیقی تبدیلی کے حصول کے لیے، توجہ افراد سے ہٹ کر خود نظام پر ہونی چاہیے۔ تبدیلی کا نبوی ماڈل واحد حقیقی رہنمائی پیش کرتا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا، تو انہوں نے قریش کے نظام کو پرتشدد طریقے سے ختم کرنے کی دعوت نہیں دی، بلکہ صحیح عقیدہ کی تعمیر اور مضبوط یقین کے ساتھ افراد کی پرورش پر توجہ مرکوز کی۔ اسلامی حکومت اپنی مکمل شکل میں اس وقت تک ظاہر نہیں ہوئی جب تک کہ اہل مدینہ نے آپ ﷺ کو اپنا قائد تسلیم نہیں کر لیا۔ اس ریاست نے، جس کی رہنمائی وحی سے ہوتی تھی، جاہلیت کے ظلم کو انصاف، مساوات اور خوشحالی سے بدل دیا، اور یہ تقریباً 1300 سال تک قائم رہی، جس سے اس کے زیر سایہ رہنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں نے یکساں طور پر فائدہ اٹھایا۔
ملائیشیا کے لیے سبق واضح ہے کہ لیڈروں یا پارٹیوں کو تبدیل کرنے سے امت کو درپیش بحران حل نہیں ہوں گے، کیونکہ حکومت کا بنیادی ڈھانچہ بدستور برقرار ہے۔ مظاہرے یا انتخابات، اگرچہ وہ عوامی غصے کے لیے عارضی طور پر اظہار کا موقع فراہم کرتے ہیں، لیکن وہ ساختی خامیوں کو دور نہیں کر سکتے۔ حقیقی اور پائیدار حل صرف رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر مبنی اسلامی نظام حکومت کی بحالی سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس راستے کے لیے صبر، یقین اور سیاسی دعوت کے ساتھ مضبوط توکل علی اللہ کی ضرورت ہے، لیکن یہ واحد راستہ ہے جو عوام کے لیے انصاف، استحکام اور حقیقی خوشحالی کو یقینی بناتا ہے۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے تحریر کیا گیا
ڈاکٹر محمد - ملائیشیا