جدل في موريتانيا حول قانون العنف ضد المرأة
جدل في موريتانيا حول قانون العنف ضد المرأة

الخبر: رفض البرلمان الموريتاني التصديق على الصيغة الحالية لقانون "النوع" المثير للجدل والذي قدمته الحكومة بهدف حماية حقوق النساء. وكانت لجنة "الشؤون الإسلامية" بالبرلمان الموريتاني قد اعترضت على نص القانون بحجة أنه يتضمن فقرات تُخالف الشريعة الإسلامية. وانتقد فقهاء وعلماء دين القانون معتبرين أنه تم تفصيله على مقاس الحركات النسوية دون مراعاة مبادئ الشريعة الإسلامية التي هي المصدر الوحيد للتشريع في البلاد.....

0:00 0:00
Speed:
January 12, 2017

جدل في موريتانيا حول قانون العنف ضد المرأة

جدل في موريتانيا حول قانون العنف ضد المرأة

الخبر:

رفض البرلمان الموريتاني التصديق على الصيغة الحالية لقانون "النوع" المثير للجدل والذي قدمته الحكومة بهدف حماية حقوق النساء.

وكانت لجنة "الشؤون الإسلامية" بالبرلمان الموريتاني قد اعترضت على نص القانون بحجة أنه يتضمن فقرات تُخالف الشريعة الإسلامية. وانتقد فقهاء وعلماء دين القانون معتبرين أنه تم تفصيله على مقاس الحركات النسوية دون مراعاة مبادئ الشريعة الإسلامية التي هي المصدر الوحيد للتشريع في البلاد.

وجاء في خبر آخر: قال رئيس الوزراء الموريتاني يحيى ولد حدمين إن حكومة بلاده سحبت مشروع قانون لمعاقبة أشكال العنف ضد المرأة، وأنها بصدد مراجعته بما يضمن عدم مخالفته الشريعة الإسلامية. وكان نواب موالون ومعارضون أصروا على سحب مشروع قانون قدمته وزارة العدل إلى البرلمان لتعارضه مع تعاليم الشريعة الإسلامية في ما يتعلق بتزويج المرأة وطلاقها وحرياتها.

وأثار مشروع القانون جدلا كبيرا في الساحة وعلى شبكات التواصل وسط دعوات لمراجعته.

وأوضح رئيس الوزراء في رده على أسئلة النواب في البرلمان مساء السبت أن النص تجري مراجعته وستتم مواءمة جميع بنوده ومقتضياته مع الشريعة الإسلامية التي هي المصدر الوحيد للتشريع.

التعليق:

يكشف الخبر عن أهمية الوعي العام على مؤامرات الغرب الكافر المستعمر التي تُحاك ضد الإسلام والمسلمين والوعي على أحكام الإسلام الشرعية ومعرفة ما يخالفها وعدم القبول به عند أبناء الأمة الإسلامية في محاسبة الحكام والضغط عليهم إن تهاونوا في تطبيق ولو حكم واحد من الأحكام الشرعية حيث أثار النقاش حول القانون أبناء المسلمين على شبكات التواصل الإلكتروني منهم الإعلاميون والمفكرون والفقهاء والبسطاء.

كما يكشف عن دور العلماء في تقويم اعوجاجات الحاكم بما يرضي الله وإبقاء نظام الحكم في الدولة سائرا على الخط المستقيم ويتسم بالتقوى والنقاء في تطبيق شرع الله بدون ملوثات المفاهيم العلمانية وقاذورات الغرب الكافر الفكرية حيث وقفت لجنة الشؤون الإسلامية ضد تمرير هذا القانون الذي يعمل على تغريب المرأة المسلمة من خلال أقوى سلطة في البلاد وهي السلطة القانونية الموالية للغرب الكافر التي سمح لها النظام الحاكم بالتغلغل في دستور البلاد.

ويكشف الخبر عن انصياع الحاكم لأمر العامة وأمر العلماء واتخاذ القرار السياسي الصحيح الذي يجعل الإسلام مصدر التشريع الوحيد ولا يُقبل غيره مصدرا للتشريع في الدستور والقوانين.

أي أنه، وبعد كل ما تقدم، ليس من المستحيل أن يكون للمسلمين حاكم مخلص يطبق الإسلام في دولة إسلامية وأن يكون عامة المسلمين وعلماؤهم قوامين ومحاسبين لهذا الحاكم لضمان تطبيق شرع رب العالمين في شكل مواد الدستور والقوانين مصدرها العقيدة الإسلامية فقط.

إن قانون العنف ضد المرأة المطروح يدعو لتطبيق قوانين تنبثق عن عقيدة المبدأ الرأسمالي العلماني الكافر الذي يروج للحريات الغربية ولحياة الغرب الموبوءة بالفواحش والزنا والتفكك الأسري التي أدت لحوادث العنف ضد المرأة؛ فالفكر الرأسمالي أهان المرأة وجعلها سلعة تُباع وتُشترى ثم وضع القوانين الوضعية لـ"حمايتها" وقد أثبت فشله الذريع في ذلك كونه ينبثق عن مبدأ عقيدته تفصل الدين عن الحياة وعن السياسة، وها هو وضع المرأة المثير للشفقة في بلاد الغرب الكافر ماثل أمامنا، ثم عمل على نشر منهجه الفاسد في بلاد المسلمين بعد أن هُدمت دولة الخلافة العثمانية في عام 1924م وتكالب الأعداء بعدها على الأمة الإسلامية ومزقوا جسدها وجعلوا هدفهم الأول هو النيل من المرأة المسلمة للنيل من الإسلام.

وعلى ضوء ذلك نقول إن ما كشفه هذا الخبر هو أن المسلمين يعملون اليوم وبقوة لاستعادة الحكم بما أنزل الله تعالى وإن كانت الأنظمة في بلاد المسلمين أنظمة لا تطبق الإسلام كليا أو كانت أنظمة تحكم من خلال البرلمان الغربي الذي جعل التشريع للبشر فجعلت للبرلمان لجنة مراجعة إسلامية لضبط القوانين بما لا يخالف الشرع، فخلطت بين الإسلام والكفر.

كل هذه المؤشرات تكشف أنهم قد أدركوا أن خلاصهم من هيمنة الغرب الكافر المستعمر على بلادهم لن يكون إلا بعودة الإسلام السياسي في شكل نظام الحكم الشرعي للدولة وأنه لا بد للحاكم أن يطبق الأحكام الشرعية الربانية في الدستور والقوانين، وأن على الرعية محاسبته إن قصر في ذلك لأن العلماء والناس له بالمرصاد، وما قانون المرأة إلا نموذج يُحتذى به لبقية القوانين السياسية والاقتصادية والاجتماعية، وهذه مسؤولية الدولة الإسلامية الحقيقية. وحال المسلمين في موريتانيا لا يختلف عن حال المسلمين في بلادهم الأخرى. فالمؤامرة الغربية على بلاد المسلمين واحدة بتفاصيلها، فستجد أن هذه القوانين الوضعية الخاصة بالمرأة وغيرها قد مرت في بلاد أخرى وتطبق عمليا بما فيها من خراب وإقصاء عن الشرع! لذلك على العلماء في موريتانيا وفي سائر بلاد المسلمين أن يقفوا موقفا واحدا لاقتلاع هيمنة النفوذ الغربي من بلاد المسلمين، وعليهم إسقاط الأنظمة الحاكمة الجبرية وهذه البرلمانات التي جعلت التشريع للبشر والموالية للغرب، وذلك بتوعية المسلمين على نظام الحكم الشرعي الخالص في الإسلام، ألا وهو نظام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، الذي أجمع العلماء قديما وحديثا على فرضية إقامته، كما عليهم أن يستنصروا أهل القوة والمنعة في إعطاء القيادة السياسية لمن هم أهل لها من أبناء الأمة المخلصين لإقامة نظام  الخلافة في الإسلام، وبه سيتوحد المسلمون في دولة إسلامية واحدة، دولة منيعة قوية في كل المجالات تملك قرارها وتصد هجمات الغرب الكافر، وتلك القيادة السياسية موجودة في شباب حزب التحرير الذي استنبط دستورا إسلاميا خالصا وأعده للحكم في دولة الخلافة القادمة بإذن الله تعالى ولديه الوعي السياسي الذي ينشره بين المسلمين كافة لتقطف الأمة ثمار كفاحه السياسي الذي لا زال مستمرا لأكثر من ستة عقود مضت ولن يتركه إلا بظهور هذا الأمر وإن وضعوا الشمس في يمينه والقمر في يساره.

"نعم إن الخلافة هي البِضاعةُ والصِناعة، هي العِزُّ والمَنعة، هي حافظةُ الدين والدنيا، هي الأصلُ والفَصل، بها تُقام الأحكام، وتحدُّ الحدود، وتُفتَح الفُتوح وتُرفع الرؤوس بالحق." أمير حزب التحرير؛ العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة حفظه الله.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

غادة محمد حمدي – ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست