جنود الأمة ضحيةٌ لحروب يخوضونها بالنيابة عن أعدائها
April 21, 2015

جنود الأمة ضحيةٌ لحروب يخوضونها بالنيابة عن أعدائها

خبر وتعليق

جنود الأمة ضحيةٌ لحروب يخوضونها بالنيابة عن أعدائها

الخبر:

صرَّحت وزارة الخارجية السعودية عن مقتل جندي وإصابة آخَرَين على الحدود بين "السعودية" واليمن من رصاص حوثيين في نجران جنوب غرب البلاد، ويعتبر هذا الجندي هو الثامن من بين القتلى السعوديين على الحدود منذ بدء عملية عاصفة الحزم التي تخوضها السعودية وعدد من الدول العربية من بينها مصر والأردن والسودان إضافةً للباكستان واتحاد الدول الخليجية، ضد جماعة الحوثي والموالين للرئيس المخلوع علي عبد الله صالح. الجزيرة نت بتاريخ (20/4/2015).

التعليق:

إنَّ الأصل في علاقة الجيوش بالأمة أن تكون علاقة اتحاد وترابط، فالأمة هي صاحبة السلطان في الشرع، والجيوش - وهي صاحبة القوة - هي الضمان لحماية الدعوة وتمكين الدولة الإسلامية من تبليغها، وهي بذلك الدرع الحامي للأمة، ويدها التي تضرب بها أعداءها وتحميها من أي خطر، فتطبيق الإسلام يحتاج لفكرة ظاهرة وقوة ناصرة.

ولذلك وبعد هدم دولة الخلافة على يد إنجلترا عام 1924م بمساعدة خونة العرب والترك؛ كانت علاقة الجيوش بالشعوب في بلاد المسلمين موضعًا للتشويه، والتمزيق. فالغرب وعبر حكام المسلمين عمل على تربية الجيوش على عقيدة مناقضة للإسلام؛ تمحو فيهم عقيدة الولاء لله ورسوله والمؤمنين والبراء من الكافرين، وضرورة الانقياد لأحكام الشرع. عقليَّة تزرع فيهم طاعة الحكام طاعةً عمياء لأنهم "ولاة أمور"، وربَّاهم على عقلية عسكرية قمعية، ونصبَّهم معاول قمع مسلَّطة على رقاب المسلمين، وحماة لعروش الطواغيت لضمان بقائها وبالتالي حماية مصالح الغرب. فصارت الأمة لا ترى في الجيوش إلا أعداءً، وصار أبناء الجيوش من ضباط وجنود المسلمين أشداء على المؤمنين رحماء على الكافرين - إلا من رحم الله -.

وقد كان لهذا الأمر أثره على الثورات التي قامت بها الأمة ترجو الخلاص مما هي فيه من ذل وتبعية لأعدائها، وبعد عن كتاب ربها. فالحكام لم يتورَّعوا عن البطش بها مستخدمين عصا الجيوش التي نسيت أنها من الأمة ولها، وراحت بكل قوتها تضرب بيد من حديد أبناء الأمة وتنفذ أجندات الغرب في قمع الثورات أحيانًا، والالتفاف عليها. هذا في بلاد الربيع العربي كتونس ومصر وليبيا واليمن وسوريا.

أما جيوش البلاد الأخرى فقد ظلَّت على صمتها ترقب الأحداث من بعيد، تسيطر عليها عقلية سايكس بيكو التي حكمت على الأمة بالتمزق والفرقة، وتنتظر أوامر الحكام لتنفذها دون اعتبار لحكمها شرعًا، وواجبها في نصرة المسلمين والمستضعفين. فها هو جيش تركيا ينظر لمصاب أهل الشام بصمت، وجيوش الأردن والسعودية والسودان وغيرها تشارك في حربها على اليمن، كما شاركت في حربها على سوريا بتحالفات دولية، تنفيذًا لأجندات أمريكا وبريطانيا ورؤية الأمم المتحدة، بحجة محاربة الحوثيين مرةً وتنظيم الدولة مرة أخرى. متناسين الجرائم الوحشية التي قام ويقوم بها النظام الحاكم في هذه البلاد، من قبل الحوثيين وغيرهم، ولم تتحرك هذه الجيوش لإيقافه. غافلين أو متغافلين عن الضحايا العُزَّل الذين يتساقطون من النساء والأطفال والشيوخ الذين لا ذنب لهم إلا كونهم مسلمين. غير عابئين أن هذه الحروب التي يخوضونها لا تحقق لأمة الإسلام أي تقدم، بل ولا تخدم إلا أعداءها، ولا تمكِّن إلا لعميل بدل عميل.

أجل بهذه الطريقة استطاع أعداؤنا استغلال أبنائنا، ليجعلوهم سلاحًا موجهًا لصدورنا، ورصاصًا يُسيل دماءنا. ثم إذا ما قُتلوا أو ماتوا حملوا معهم وزر التخاذل عن نصرة الأمة ورفع السلاح بوجه المسلمين. عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا التقى المسلمان بسيفيهما، فالقاتل والمقتول في النار». فقيل: يا رسول الله هذا القاتل، فما بال المقتول؟! قال: «إنه كان حريصًا على قتل صاحبه». رواه البخاري ومسلم... تذهب دماؤهم هدرًا ولا يكترث بها لا حكام المسلمين ولا أمريكا ولا أوروبا. بل ولا تلتفت لهم أمتهم التي خذلوها. فمن عاش لنفسه لا تبكيه إلا أمُّه ومن عاش لأمته تبكيه حين يموت الأمة.

فيا أهالي جنود وضباط جيوش المسلمين:

إن أبناءكم منكم، وإنَّ عليكم مسؤولية تربيتهم على نصرة الأمة، وحضَّهم على التحرك لإزالة هؤلاء الطواغيت المتحكمين برقابكم، الذين مكَّنوا الكافرين من بلادكم ومقدراتكم.

أجل إن فلذات أكبادكم يذهبون بخوضهم هذه الحروب وكالةً عن المستعمرين ضحايا لأجندة لا تخدمكم ولا تخدم أمتكم، وإن دماء أبنائكم تذهب هدرًا. فهل هذا ما لأجله تربُّون أبناءكم؟؟

ويا جيوش المسلمين:

إنكم على ثغر عظيم من ثغور الإسلام، وإن أمتكم تنتظر منكم موقفًا يرضي الله ورسوله، فأنتم بيضة القبان، وإنَّ نصرتكم لها واجبٌ عظيم ومسؤولية عنها ستُسألون. فإن الله سائلكم عمَّا استرعاكم من نصرة المظلومين. ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾ [الأنفال: 72]. ويقول رسول الله صلى الله عليه وسلَّم: «ما من امرئ يخذل امرأ مسلمًا في موطن ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا خذله الله تعالى في موطن يحب فيه نصرته وما من أحد ينصر مسلمًا في موطن ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته إلا نصره الله في موطن يحب فيه نصرته»صحيح الجامع.

فهلُّموا إلى خيري الدُّنيا والآخرة؛ حطِّموا عروش الطواغيت، انصروا أمتكم بإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة، وسلِّموا الحكم للمخلصين. لتعودوا قادة الأمم، ورعاة البشرية بالإسلام. لتعودوا خير خلف لخير سلف؛ خالد والقعقاع والمعتصم. وتكونوا في الآخرة مع الأنبياء الصديقين والشهداء والصالحين، كما أراد لكم الله سبحانه؛ شهداء على النَّاس.

﴿إِنَّ فِي هَذَا لَبَلَاغاً لِّقَوْمٍ عَابِدِينَ﴾ [الأنبياء: 106]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست