جشع أمريكا في هيمنتها على العالم
جشع أمريكا في هيمنتها على العالم

الخبر: ذكرت إنترفاكس الأوكرانية أن حلف شمال الأطلسي "ناتو" يبدأ اليوم السبت مناورات عسكرية في إستونيا تستمر حتى التاسع من الشهر المقبل، وفي وقت تحدثت فيه وزارة الدفاع الروسية عن نشر ١٢ منظومة صاروخية في بيلاروسيا، قالت السفارة الأمريكية في أوكرانيا إن الكرملين يعمل بسرعة على إخفاء استعداداته للحرب. وصرح بايدن في تصريحات صحفية أنه سيرسل قوات ليست بالكبيرة إلى أوروبا الشرقية ودول حلف الناتو في المدى القريب. (الجزيرة)

0:00 0:00
Speed:
February 03, 2022

جشع أمريكا في هيمنتها على العالم

جشع أمريكا في هيمنتها على العالم

الخبر:

ذكرت إنترفاكس الأوكرانية أن حلف شمال الأطلسي "ناتو" يبدأ اليوم السبت مناورات عسكرية في إستونيا تستمر حتى التاسع من الشهر المقبل، وفي وقت تحدثت فيه وزارة الدفاع الروسية عن نشر 12 منظومة صاروخية في بيلاروسيا، قالت السفارة الأمريكية في أوكرانيا إن الكرملين يعمل بسرعة على إخفاء استعداداته للحرب.

وصرح بايدن في تصريحات صحفية أنه سيرسل قوات ليست بالكبيرة إلى أوروبا الشرقية ودول حلف الناتو في المدى القريب. (الجزيرة)

التعليق:

هذا ديدن أمريكا في سياستها لتهيمن على العالم؛ فهي تحاول جاهدة أن تظهر بمظهر الأب الروحي لجميع الدول، وأنها طرف يحاول دائما صنع السلام، لكنها في الحقيقة هي مثل ذلك الرجل الذي يمسك بزمام جميع الخيوط في لعبة العرائس على المسرح، فنجد أنها تظهر للجميع أنها لا تريد حربا في المنطقة، لكنها في الحقيقة تشعل فتيل الحرب في المكان الذي سيقف أمام مصالحها.

فبعد فشل قوة روسيا أمام إعادة أوكرانيا إلى أحضانها، سواء في موضوع تقاسم أسطول البحر الأسود في التسعينات، أو في مسألة أنابيب الغاز التي بناها الاتحاد السوفيتي داخل أوكرانيا ليتم نقل الغاز من أوكرانيا إلى أوروبا. فمنذ ثلاثة قرون مضت ورغم تفوق روسيا عسكريا والتي كانت تطمع وما زالت في منتجات الأراضي الأوكرانية الخصبة، إلا أنها لم تتمكن من إعادة هيمنتها على أوكرانيا.

وبعد عودة أوكرانيا إلى أحضان الغرب وطلبها الانضمام إلى حلف الناتو بعد أن حاصرتها روسيا ببتر شبه جزيرة القرم وضمها لها والتي تملك قواعد عسكرية ضخمة، وإشعال الانفصاليين الروس في أوكرانيا المناطق الشرقية وإعلان استقلال المحافظتين وتقديم الدعم العسكري لها، أخذ الغرب يلعب لعبته مع أوكرانيا ويظهر لها بمظهر المدافع عنها وبدأت هي تجتمع بحلف الناتو خاصة عندما اشتدت الأزمات مع روسيا دون أن تكون عضوا في الاتحاد الأوروبي، هنا لعبت أمريكا دورها بتدريب جيشها ودعمها بالمليارات والمساعدات العسكرية.

فما زالت روسيا تنظر لأوكرانيا على أنها جزء لا يتجزأ منها من حيث تاريخها واقتصادها، فلن تتركها لقمة سائغة لأمريكا والناتو.

فأوكرانيا تشكل أهمية قصوى وخطاً استراتيجياً في الأمن القومي الروسي حيث صرح الرئيس بوتين في كتاب له من 5000 كلمة أصدره في تموز/يوليو 2021م حيث قال: "إن قيام حكومة معادية لموسكو في أوكرانيا هي بمثابة استخدام سلاح دمار شامل ضد روسيا"، لذلك فإن وجود الرئيس الأوكراني فلاديمير زيلينسكي غير مرغوب به من طرف روسيا حيث وصف رئيس أوكرانيا الأخوة ردا على تصريح بوتين بقوله "نحن إخوة ولكن مثل أخوة قابيل وهابيل" في إشارة منه إلى أن روسيا مثل قابيل قاتلها.

إن مسألة أوكرانيا ليست جديدة بل هي على الساحة الدولية منذ 14 عاما فلماذا تم تحريكها الآن ومن المستفيد من ذلك، وهل هي بمثابة مكافأة من أمريكا على كل ما قدمت في سوريا مثلا؟

من جهة روسيا لا خلاف مطلقا أنها تتحين الوقت المناسب الذي تكون فيه أوروبا في أضعف حالاتها حتى تنقض على المناطق التي تريد ضمها ولكن نعلم أيضا أنه لا يتم ذلك دون ضوء أخضر ولو من تحت الطاولة من أمريكا.

ولكن أيضا أمريكا تعمل على مصالحها وتريد تعزيز الخلافات لضمان التوتر في هذه المنطقة ولا أظن أنها تمانع إذا نشبت حرب ضمن الأطر التي تخدم مصالحها في تعزيز وجودها في أكثر المناطق حساسية بالنسبة لأوروبا ولا تريد انضمام أوكرانيا للناتو فنلاحظ أن أمريكا تسعى لتوريط أوروبا في هذه الحرب لتزيد من ضعفها وتتحكم بها اقتصاديا وسياسيا وقد تعمل لأكثر من ذلك بأن تهيئ الظروف لخلق طرفي نزاع عالمي وتورط الصين مع روسيا، وهي بذلك تعيد فكرة توريط دولة الخلافة العثمانية بالحرب العالمية الأولى لدعم حليفتها ألمانيا.

إن هذا المكر العظيم الذي تخطط له الولايات المتحدة سوف يجر العالم إلى الدمار العام وهي لا يهمها دم البشر الذي سوف يسكب بقدر ما يهمها تحقيق مصالحها ومحاولة البقاء على كرسي السيادة العالمية.

إن العالم اليوم أحوج ما يكون لتغيير هذا النظام العالمي الذي سقطت أدواته وبقي هيكله، فنجد اليوم أنه لا وجود للأمم المتحدة ولا لأي هيئة دولية تتدخل لمنع الحروب مع أن قيامها أي الهيئات الدولية كان على أساس حفظ الحقوق وعدم التعدي وما شاكل ذلك، ونجدها اليوم تتحرك إذا طلبت منها أمريكا ذلك ولا تنبس ببنت شفة إذا كانت المصالح أمريكية صرفة.

يا أهل الفكر والرأي في العالم: هبوا لقلع هذا الأخطبوط الذي يمص دماء البشر ولا يأبه إلا لمصالحه ولو على جبال من الجثث ودمار البشرية.

إن العالم بحاجة إلى نظام عالمي يصون النفس البشرية مهما كان عرقها أو لونها ويحقق العدل للجميع، ولا وجود لهذا النظام سوى في المبدأ الإسلامي الذي يصون البشرية لأنه منهج رباني يقنع العقل ويوافق الفطرة البشرية ويملأ القلب طمأنينة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

دارين الشنطي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست