جذور مشكلة الدولة العلمانية والمنظمة الملطخة أيديها بالدماء (مترجم)
جذور مشكلة الدولة العلمانية والمنظمة الملطخة أيديها بالدماء (مترجم)

 الخبر:   في 2016/01/14 هاجمت مجموعة إرهابيين من حزب العمال الكردستاني في وقت واحد قيادة الشرطة المركزية ومساكن الشرطة وقيادة الشرطة بين المدن لمنطقة شنار في مدينة ديار بكر حيث استخدمت شاحنة محملة بقنابل ذات قدرة تفجير عالية وصواريخ وأسلحة أوتوماتيكية. فراح ضحية الهجمات 6 قتلى و39 جريحاً. (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
January 25, 2016

جذور مشكلة الدولة العلمانية والمنظمة الملطخة أيديها بالدماء (مترجم)

جذور مشكلة الدولة العلمانية والمنظمة الملطخة أيديها بالدماء

(مترجم)

الخبر:

في 2016/01/14 هاجمت مجموعة إرهابيين من حزب العمال الكردستاني في وقت واحد قيادة الشرطة المركزية ومساكن الشرطة وقيادة الشرطة بين المدن لمنطقة شنار في مدينة ديار بكر حيث استخدمت شاحنة محملة بقنابل ذات قدرة تفجير عالية وصواريخ وأسلحة أوتوماتيكية. فراح ضحية الهجمات 6 قتلى و39 جريحاً. (وكالات الأنباء)

التعليق:

إن عملية الحل بين الدولة وحزب العمال الكردستاني التي كانت قد وضعت على الرف بعد انتخابات 7 حزيران 2015، عادت إلى الساحة بعد تفرد حزب العدالة والتنمية في السلطة مجددا في انتخابات 1 تشرين الثاني 2015. فالحكومة ظنت أن حزب العمال الكردستاني قد خدعها طوال عملية الحل، وأنه قد قوي في المدن وأنها ستتمكن من تصحيح ذلك بسياستها الأمنية فقط وعليه أطلقت عملية واسعة. هذه العمليات التي استمرت لأيام عادت فيها إلى فترة ما فوق القانون التي تتضمن منع النزول إلى الشوارع من وقت إلى آخر. حيث يتم تدعيم هذه العمليات أحيانا بعشرات الآلاف من عناصر الشرطة والجيش. كما أن مسؤولين في الحكومة شددوا على ضرورة دخول البيوت بيتا بيتا وتنظيف المنطقة كاملة من عناصر حزب العمال الكردستاني.

بعد هذا كله قام 1128 أكاديمياً بتاريخ 2016/01/11 بالإعلان عن "بيان السلام" ضد الحكومة بشكل عام والذي انتقدوا فيه عمليات الدولة ضد حزب العمال الكردستاني. ردت الحكومة على هذا الإعلان بشكل قاس، حيث قام رئيس الجمهورية أردوغان ورئيس الوزراء داود أوغلو بانتقاد هؤلاء الأكاديميين عند كل فرصة، كما أكدا على القضاة والمحاكم بضرورة القيام بما ينبغي بهذا الشأن، كذلك تم إطلاق اتهامات بدعم الإرهاب بحق أكاديميين قاموا بالتوقيع على هذا البيان في مدن مختلفة. وبعد يوم واحد من هذا البيان أي بتاريخ 2016/01/12 وقع هجوم انتحاري في ميدان السلطان أحمد في اسطنبول الذي استهدف المواكب السياحية خاصة. راح ضحية هذا الهجوم أحد عشر شخصاً معظمهم من الألمان وإصابة العديد من الأشخاص. بعد هذا الهجوم تم منع نشر ما يتعلق بهذا الشأن، وبعد عدة ساعات تم الكشف عن هوية منفذ هذا الهجوم وأنه مرتبط بتنظيم الدولة. أما بعد يومين أي بتاريخ 2016/01/14 فقد وقعت هجمات من قبل حزب العمال الكردستاني في 6 مناطق مختلفة مركزية في ديار بكر في وقت واحد، أدت هذه الهجمات إلى موت 6 أشخاص وإصابة 39 شخصاً من بينهم أطفال.

قبل يوم واحد من هجمات ديار بكر صرح مراد كراييلان أحد زعماء حزب العمال الكردستاني لتلفزيون ستيرك "Sterk TV" حول تصريحاته بشأن الشرق والشرق الأوسط فقال: "تم استهداف مدنيي الدولة" وعبر عن أنه كان "انتقاماً" فقال: "ليعلم الجميع أن دمهم لن يذهب سدى، ليعلم الجميع هذا، سيتم الانتقام، ولن يترك الشعب الكردي هذا الدم مراقاً".

بعد هجمات حزب العمال الكردستاني على محطة باصات أنقرة خاصة نشأت ردة فعل عليه بين الشعب لذلك لم يستهدف في عملياته الشعب بل استهدف الجيش والشرطة والسياح. فالهجوم الذي استهدف السياح في ميدان السلطان أحمد قد أساء لصورة الدولة وأقحمها في وضع اقتصادي حرج عبر السياح القادمين إلى البلاد. وفي سياق ذلك سعى الأكاديميون بتصريحاتهم داخل البلد لإنشاء رأي عام خارج البلد على الهجمات على السياح وحث الحكومة على القيام بردة فعل على عمليات حزب العمال الكردستاني. لكن الحكومة قامت بفتح تحقيق بشأن ردة فعل الأكاديميين المفرطة، وصرحت أن منفذ هجوم ميدان السلطان أحمد على علاقة بتنظيم الدولة، ووقفت في وجه ردات الفعل، وحاولت إظهار أنها مستهدفة من قبل تنظيم الدولة وأنها تواجهه، وأنه ينبغي على العالم الوقوف إلى جانبها في هذا الوضع. أما هجمات ديار بكر فكانت تستهدف رفع المعنويات داخل حزب العمال الكردستاني الذي عانى مؤخرا من وضع حرج. لكن هذا الهجوم وتلك الهجمات لن تؤثر على نهج الحكومة بهذا الشأن على الأقل في المدى المنظور. إن عدم إعطاء الحكومة أو حزب العمال الكردستاني أي تاريخ يتعلق بعملية الحل يدل على أن هذا الوضع سيستمر. بالإضافة إلى أن الأحداث في المنطقة على الحدود السورية تؤثر مباشرة على تركيا ونهجها بشأن حزب العمال الكردستاني. حتى ينتهي هذا الوضع تحت هذا النظام حاليا ينبغي إما أن يتغلب أحد الطرفين على الآخر بشكل مؤثر أو يتوصلا إلى اتفاق بموجب مصالحهما. إن حل هذه المشكلة وحل باقي المشاكل حلا جذريا لن يكون إلا بإقامة دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

موسى باي أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست