كأنها جُمعت ثمانون راية (مترجم)
كأنها جُمعت ثمانون راية (مترجم)

الخبر:   بدأت الجهات الدولية الفاعلة في وضع نفسها لاستغلال الحقائق الجديدة في سوريا وترسيخ مشاركتها في إعادة بناء البلاد، فقد ظهر منافس جديد للاعبين الدوليين المعتادين وهو: الشيشان. وبينما قد يبدو غريبا مناقشة موضوع فيدرالي روسي بذات النَّفَس كدولة مستقلة، فإن مستوى مشاركة سوريا مؤخرا مع السلطات الشيشانية لم يسبق له مثيل. حيث إن دور الشيشان في سوريا - وزعيمها رمضان قاديروف - شهد نموا كبيرا في العام الماضي، إذ تلعب القوات العسكرية الشيشانية دورا حاسما في مناطق خفض التصعيد، بعد أن تعززت العلاقات الدبلوماسية بشكل كبير، وبينما تدعي موسكو أنها أقرت معظم هذه المشاركة، فإن اهتمام الشيشان بالبلاد يتجاوز كثيرا الخطاب الرسمي للكرملين. (سوريا ديبلي).

0:00 0:00
Speed:
December 03, 2017

كأنها جُمعت ثمانون راية (مترجم)

كأنها جُمعت ثمانون راية

(مترجم)

الخبر:

بدأت الجهات الدولية الفاعلة في وضع نفسها لاستغلال الحقائق الجديدة في سوريا وترسيخ مشاركتها في إعادة بناء البلاد، فقد ظهر منافس جديد للاعبين الدوليين المعتادين وهو: الشيشان.

وبينما قد يبدو غريبا مناقشة موضوع فيدرالي روسي بذات النَّفَس كدولة مستقلة، فإن مستوى مشاركة سوريا مؤخرا مع السلطات الشيشانية لم يسبق له مثيل. حيث إن دور الشيشان في سوريا - وزعيمها رمضان قاديروف - شهد نموا كبيرا في العام الماضي، إذ تلعب القوات العسكرية الشيشانية دورا حاسما في مناطق خفض التصعيد، بعد أن تعززت العلاقات الدبلوماسية بشكل كبير، وبينما تدعي موسكو أنها أقرت معظم هذه المشاركة، فإن اهتمام الشيشان بالبلاد يتجاوز كثيرا الخطاب الرسمي للكرملين. (سوريا ديبلي).

وتعزم الصين على إرسال قوات إلى سوريا لمساعدة قوات الرئيس بشار الأسد، وفقا لما ذكرته صحيفة الخليج الجديد.

وذكرت مصادر مطلعة أن هذا التحرك يأتي مع تزايد قلق الصين بشأن وجود مسلحين إسلاميين في منطقة تركستان الشرقية الذين شوهدوا وهم يساعدون جماعات المعارضة في سوريا.

وفي الأسبوع الماضي، أشاد وزير الخارجية الصيني وانغ يي خلال اجتماعه مع مستشارة الرئيس السوري بثينة شعبان بجهود النظام في التصدي للمقاتلين من حركة تركستان الشرقية الإسلامية.

كما ادعى النظام السوري أن نحو 5 آلاف مقاتل من أصل إيغوري، وهي أقلية عرقية مسلمة كانت السلطات الصينية تتهمها بانتظام (بالإرهاب)، قد وصلت إلى سوريا، وهي تمر بصورة غير قانونية عبر جنوب شرق آسيا وتركيا.

وقالت المصادر إن وزارة الدفاع الصينية تعتزم إرسال وحدتين تعرفان باسم "نمور سيبيريا" و"نمور الليل" من قوات العمليات الخاصة لمساعدة قوات الحكومة السورية. (ميمو).

التعليق:

في العام الماضي، قامت الشيشان بتوسيع دورها داخل سوريا، وتنافست مثل اللاعبين الرئيسيين للتأثير على علمانية مقبولة ومكانتهم الخاصة في إعادة إعمار سوريا.

ومنذ التطهير العرقي الوحشي للمسلمين في أوائل ومنتصف التسعينات، واستمرار ما يسمى بحركة التمرد التي كانت شوكة في خاصرة الكرملين؛ انضم المقاتلون الإسلاميون في الشيشان إلى مجموعات مختلفة في سوريا بهدف هزيمة نظام الأسد.

وبعد مشاركة تنظيم الدولة في إعدام العديد من المقاتلين الإسلاميين في الشيشان؛ قام قاديروف بإرسال قواته للإشراف على ما يسمى بالممر الآمن في حلب الذي أقامته تركيا تحت ذريعة المرور الآمن للمدنيين، وتركت جماعات المجاهدين محاصرة من قبل قوات الأسد وإيران.

وارتفع عدد أفراد الشرطة العسكرية الشيشانية بمقدار 400 فرد في الفترة ما بين أيار/مايو وتموز/يوليو. وكانوا يتمركزون في درعا وعلى نقاط تفتيش في الغوطة الشرقية وخارج حمص. لكن الأحداث الأخيرة أرغمتهم على المشاركة بشكل أكثر عمقا في إدلب، وذلك مباشرة ضد الجماعات الإسلامية الشيشانية المهيمنة.

إن الطاغية والجزار رمضان قاديروف، والجرو الصغير لبوتين، يتوق إلى لعب دور قيادي أكثر أهمية بين البلاد الإسلامية والعربية في السنوات الأخيرة، تحت ستار المؤسسات الخيرية والمؤسسات التربوية وحتى في المساعي الروحية كان قد لعب على مشاعر الأمة، في حين إنه سحق بشدة وقسوة أي علامة تدل على إحياء النهضة الإسلامية. وهو الآن يؤمّن أهدافه الغادرة في سوريا من خلال الوعد بمبلغ 14 مليون دولار لتمويل إعادة ترميم المسجدين البارزين؛ خالد بن الوليد في حمص والمسجد الأموي في حلب.

وبالنظر إلى أن مصالح قاديروف وبوتين واحدة، فإنه من المرجح أن تستمر المشاركة العسكرية الشيشانية بل وأن تنمو، فإن سوريا منقسمة خالية من القيادة الشرعية، وبأي ثمن، هي خطة هؤلاء أصحاب الجحيم، نسأل الله سبحانه وتعالى أن يدمر أمنهم وسلامهم.

وكما ورد في أحاديث آخر الزمان، التي تصف بالتفصيل الفتن العظيمة التي ستمر بها أمة محمد r«اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَة - فذكر منها - ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ - وبنو الأصفر هم الروم النصارى - فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَة - أي راية - تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا».

... وها نحن نرى لاعبا دوليا آخر وهو الصين، حيث تأخذ مكانها في مأساة الشام.

ففي عام 2015، تم إرسال 5000 جندي صيني إلى سوريا، وبالنظر إلى أن الصين هي واحدة من القوى الخمس التي تتمتع بحق النقض في مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة، فليس من الغريب أن تستخدم في أكثر من مناسبة موقفها لحماية مصالح نظام الأسد، وتمكين الأعمال القتالية على حساب ملايين الأرواح البريئة.

وتبرر وزارة الدفاع نشر قواتها الخاصة "نمور سيبيريا" و"نمور الليل"، من خلال الادعاء بأن الآلاف من المسلمين الإيغور، الذين تضطهدهم الحكومة الصينية بشكل فاضح، منخرطون في أعمال إرهابية وبأن البعض منهم غادر للقتال في سوريا.

قد يحاول أعداء الله اليوم وغدا أكثر من أي وقت مضى تبرير خداعهم وأكاذيبهم، لأن كل الحقيقة قد استعصت على عيونهم العمياء وقلوبهم المغلقة. وعند مرور أمة محمد rبهذه المرحلة المؤلمة، فإنه سيظهر اليقين الراسخ أن دين الله سبحانه وتعالى وحده يستحق العبادة ونيل الشرف للعيش في ظله، وأن الحماية والراحة لا توجد إلا فيه... وأن ظل الله سبحانه وتعالى على الأرض - الخليفة الصالح سيوجه الأمة في اتجاه الأمن والسلطة كما تستحق وكما وعدت.

 وكما قال حبيبنا الرسول محمد r: «تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلافَةٌ عَلَىْ مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ فَتُكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَىْ مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ سَكَتَ» رواه أحمد.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مليحة فهيم الدين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست