الخبر: ذكرت روسيا اليوم RT بتاريخ 2015/6/11 أن تقريرا للأمم المتحدة من المتوقع صدوره الأسبوع المقبل بأن 78% من سكان اليمن يحتاجون إلى معونات إغاثة عاجلة وهو العدد الذي تزايد بنحو 4 ملايين خلال الأشهر الثلاثة المنصرمة.. ونشرت صحيفة "الغارديان" البريطانية، تقريرا بعنوان "الحصار البحري الذي تقوده السعودية يترك 20 مليون يمني في انتظار كارثة إنسانية". قالت فيه إن "الحظر المفروض على اليمن من قبل الولايات المتحدة والتحالف الذي تقوده السعودية أثر بشكل خطير على الأوضاع المعيشية في اليمن". كما وكشفت الغارديان أنه "يتم منع أغلب السفن التي تحمل مساعدات غذائية وطبية من الوصول للموانئ اليمنية"، وأن "مبلغ 274 مليون دولار التي وعدت الرياض بتقديمها لدعم جهود الأمم المتحدة في مجال الإغاثة في اليمن لم تقدم منها شيئا حتى الآن"... التعليق: يشهد اليمن عدوانا ظالما وحصارا جويا وبحريا خانقا تشنه دول التحالف على بلاده بقيادة السعودية بحجة إعادة الشرعية للبلاد ممن اغتصبها وسلبها من أهلها، وما هي إلا حجج واهية وتبريرات فارغة للعدوان لصياغة وهيكلة منظومته السياسية بما يتماشى ومصالح أمريكا وأعوانها في البلاد.. فقد أصبح الوضع الإنساني في اليمن كارثيا بسبب هذا العدوان الغاشم والحصار الظالم وذلك بشهادة كافة المنظمات الدولية الإنسانية التي أكدت تقاريرها كتقرير الأمم المتحدة الآنف الذكر تردي الأوضاع الإنسانية وتفشي الأمراض والأوبئة الفتاكة وشح المواد الغذائية والأدوية بل وانعدام الكثير منها وانقطاع الكهرباء والمياه، ناهيك عن تعمد العدوان استهداف المنشآت المدنية ومحطات الكهرباء ومقدرات الناس، ومنع كل مواد الإغاثة من الدخول مما يؤدي بالوضع في اليمن نحو الانهيار.. مع تعمد تدمير محطات الكهرباء مثل محطة عدن، ومنع مشتقات النفط التي تعتمد عليها الكهرباء والمياه في تشغيل محطاتها مما يزيد من تفاقم الأوضاع الإنسانية كون الكهرباء عصب الحياة حيث تعتمد عليها كافة القطاعات في تقديم خدماتها للناس. فضحايا الحصار الخانق المفروض على اليمن سوف يتجاوز عددهم أضعاف أضعاف ضحايا الحرب الداخلية والغارات، وذلك بسبب الأمراض الفتاكة وسوء الرعاية الصحية وسوء التغذية وقلة الإمدادات الإغاثية، والتي ستأتي على 47000 طفل تحت سن الخامسة سيتأثرون بشكل مباشر بسبب إغلاق 153 مرفقاً صحياً جراء استمرار المواجهات المسلحة في اليمن بحسب منظمة اليونيسيف.. بالإضافة إلى ذلك انهيار القطاع الصحي بسبب انعدام البترول والديزل والكهرباء والمواصلات، وانتشار الأمراض مثل حمى الضنك والأمراض الوبائية، وانعدام الدواء والإسعافات، والنزوح وأخطاره، وقلة المواد الغذائية، والطرقات غير الآمنة والغارات وعشوائيتها، وانهيار منظومة الإنتاج البسيط وانهيار قطاعات الزراعة وانهيار قطاعات التعليم وخطوط إمداد الماء والكهرباء. والسؤال الذي يرد على أذهاننا الآن: من يتحمل عواقب هذه الكارثة؟ ولمصلحة من؟ فقد أصبح من المجحف بمكان أن تتجول قضايا الأمة ومصائبها ومعاناتها وضنك عيشها والقهر الذي تحياه في أروقة المنظمات والمؤسسات الدولية التي ما فتئت تنشر تقاريرها وتعد إحصائياتها معلنة للعالم بأن البلاد الإسلامية بحاجة لإعادة صياغة وهيكلة منظومتها السياسية، في ظل غياب هذه القضايا والمآسي عن أجندة حكامنا واهتماماتهم وتجاهلهم وغضهم الطرف عن هذه المأساة التي يحياها أهل اليمن.. فقد كانت الحزم عاصفة أودت بالإنسانية وأعدمتها وأحالتها أثرا بعد عين، يتمت الأطفال، ورملت النساء، وأثقلت كاهل الرجال، وشردت الأهالي فأصبحت المخيمات المعدمة والتي تفتقر لأسباب العيش الكريم، من مرافق صحية ومياه نظيفة وخدمات إنسانية، أصبحت مأواهم ومكان سكناهم ومقر بؤسهم وعذابهم في آن.. إن قيام بلد إسلامي مجاور بحصار جوي وبحري خانق على اليمن ومنع وصول المساعدات الإنسانية والإغاثية لهو عار وشنار ينسب لأنظمة هذه البلاد وتخاذلها وتآمرها على المسلمين لقاء مصالح غربية في المنطقة ولتحقيق دور أنيط بها، تأبى إلا أن تستوفيه على أكمل وجه ولو أتى على المسلمين المستضعفين الذي يفتقرون لأسباب العيش الذي يبقي على حياتهم، فتركهم فريسة الجوع والعطش والأمراض تنهش في أجسادهم وتفت في عضدهم.. أيها المسلمون في اليمن.. إن استغاثاتكم ومناشداتكم للمؤسسات والمنظمات الإنسانية الدولية لفك حصاركم والخروج من أزمتكم ما هي إلا كمن يستجير من الرمضاء بالنار، فهي مؤسسات وليدة بلاد مستعمرة وطامعة في بلاد المسلمين، فهي ليست الوجهة الصحيحة لرعايتكم وتدبير شؤونكم وإشباع حاجاتكم، فطالبوا بحقكم ممن خذلكم وأسلمكم لقمة هنيئة لعدوكم يعيث في بلادكم فسادا، ينهب ثرواتها ومقدراتها مقابل عرش باطل يتربعون عليه بعد أن داسوا على جماجم الأطفال والنساء.. إن الأمة اليوم بحاجة لرعاية من نوع آخر وفريد، رعى الأمة لألف سنة ونيف، فارتقى بها لمصاف الأمم، رعى شؤونها ونهض بها، فأعزها بالإسلام وحماها بدرعه الواقي وذاد عنها ودفع كل طامع في بلادها، وحافظ على إنسانيتها وصانها ونأى بها عن العوز والفاقة والحاجة، وليس ذلك إلا نظام الخلافة، يعز فيها الإسلام وأهله ويذل بها الكفر وأهله ولذلك فليعمل العاملون.. ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ * وَعْدَ اللَّهِ لا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ﴾ كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريررائدة محمد
خبر وتعليق 78 بالمائة من سكان اليمن يحتاجون لمعونات إغاثة عاجلة
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست