الخبر: مرت في الثامن من تموز/يوليو سنة كاملة منذ بدأت دولة يهود هجومها الإرهابي الذي لا يرحم "الجرف الصامد" ضد العزل من المسلمين الأبرياء في غزة، وقد خلفت الحرب أكثر من 2200 شهيد، بينهم نحو 550 طفل و300 امرأة، والآلاف من المصابين، وقد دمرت الحرب أيضا أكثر من 18.000 منزل، مخلفة أكثر من 108.000 شخصا من سكان غزة بلا مأوى، وها قد مر عام كامل على حمام الدم ذاك وما زال الآلاف من سكان غزة المسلمين يعيشون على أنقاض منازلهم، وفي ملاجئ مؤقتة، أو في مخيمات للأمم المتحدة متحملين المشاق والصدمة في أعقاب القصف، وفقا لوكالات المساعدات، لم يتم حتى الآن إعادة بناء ولا حتى منزل واحد مما دمر في الحرب، ويعود السبب في ذلك إلى الحصار المستمر منذ ثماني سنوات والذي يفرضه يهود بلا هوادة، فقد منع دخول مواد البناء الأساسية اللازمة لإعادة بناء منازل جديدة أو إعادة بناء عشرات المستشفيات المدمرة والمراكز الطبية والبنية التحتية الحيوية الأخرى، إلى قطاع غزة، ولذلك تبقى المشاهد المروعة في غزة، مع عشرات الآلاف من أهلها يكافحون من أجل الوصول إلى المرافق الأساسية مثل المياه النظيفة والرعاية الصحية، حيث يتم حرمان 120.000 من أهل فلسطين من الوصول إلى شبكة المياه بسبب الضرر الحاصل وهناك محدودية في فرص الحصول على الكهرباء، وقد صرح بيير كراهنبول، مدير وكالة الغوث "إن اليأس والحرمان، والحرمان من الكرامة الناجمة عن حرب العام الماضي والحصار هي حقيقة من حقائق الحياة بالنسبة للناس العاديين في غزة." التعليق: أدت حرب العام الماضي ببساطة إلى تفاقم الكارثة الإنسانية الموجودة بالفعل في قطاع غزة والناجمة عن عقود من القهر في ظل الاحتلال من الدولة الصهيونية عديمة الرحمة، والذي تعرض المسلمون في غزة لما لا يطاق، وقد قالت شادية الصباغ، والتي تعيش حاليا في معسكر للأمم المتحدة في مخيم الشاطئ بالقرب من ساحل غزة "لدي رغبة واحدة فقط: في البكاء"، ويعيش المسلمون في قطاع غزة كأسرى في أكبر سجن مفتوح في العالم، محاصرين ومعزولين عن العالم، وذلك بسبب الحصار اللاإنساني من قبل كيان يهود ومصر والذي دمر اقتصاد غزة وشلّ قطاع الرعاية الصحية والبنية التحتية، وفقا لتقرير منظمة أوكسفام والذي نشر يوم 3 تموز/يوليو، فإن أكثر من 40٪ من سكان غزة عاطلون عن العمل، بما في ذلك 67٪ من شبابها وهو أعلى معدل في العالم، و80٪ هم في حاجة إلى المساعدة. وجاء في التقرير، "إن العديد من الصناعات الرئيسية تم إقصاؤها بسبب عدم السماح بإدخال المواد الأساسية"، في حين "معظم إمدادات المياه غير آمنة للشرب، وهناك انقطاع للتيار الكهربائي لمدة 12 ساعة في اليوم." وعلاوة على ذلك فإن 30٪ من الأدوية الأساسية في غزة غير متوفرة،. ويحرم المرضى من السفر لتلقي العلاج لإنقاذ حياتهم، في حين يعمل الجراحون في كثير من الأحيان على ضوء هواتفهم المحمولة بسبب انقطاع التيار الكهربائي، وذلك وفقا لتوني لورنس، الرئيس السابق لمنظمة الصحة العالمية في فلسطين. وقد ركز بعض المعلقين على ضرورة قيام المجتمع الدولي بالضغط على كيان يهود لإنهاء هذا الحصار كوسيلة لوضع حد لهذه الكارثة الإنسانية، ومع ذلك، هذا هو التضليل بعينه، وذلك كله أولا، بسبب انعدام الإرادة السياسية عند الحكومات الغربية، والأمم المتحدة، وحتى الأنظمة في العالم الإسلامي، لاتخاذ أي إجراء ضد الدولة اليهودية بغض النظر عن الحجم الرهيب لانتهاكاتها ضد البشرية؛ وثانيا، لأن الحاجة ليست فقط بمجرد إنهاء الحصار عن غزة بل وإنهاء الاحتلال عن كل فلسطين التي شعبها محتجز كرهائن من قبل الدولة الصهيونية الإرهابية، فكيف يمكن للمسلمين في فلسطين التمتع بيوم واحد من السلام والأمن في حين مصيرهم مرهون في أيدي دولة عديمة الرحمة والتي تملك نظاماً لا يعرف سوى لغة القتل والإجرام؟ في حين لا يزال الاحتلال يسيطر على كامل فلسطين، وشعبها دائما معرض للهجوم، وحمام الدم القادم يلوح فوق رؤوسهم، أما حربٌ أخرى فهي ببساطة مسألة وقت ليس إلا، لقد عاش أطفال غزة ثلاثة حروب في السنوات الست الماضية، وما زالوا معرضين للمزيد، وذكر تقرير صادر عن منظمة إنقاذ الطفولة والذي نشر في 6 تموز/ يوليو أن ثلاثة أرباع الأطفال الفلسطينيين يعانون من التبول اللاإرادي والكوابيس بسبب الضائقة العاطفية الشديدة، نتيجة العنف الذي تعرضوا له، فكم عليهم أن يتحملوا نفسيا وجسديا؟ وكم من الوقت سيبقى الخوف محفورا في نسيج حياتهم؟ نستذكر في شهر رمضان معركة حطين والتي وقعت في ظل الخلافة في العشر الأواخر من هذا الشهر المبارك في عام 1187م، والتي هزم فيها القائد المغوار صلاح الدين الأيوبي الصليبيين الذين احتلوا فلسطين، وأعاد القدس لحاضنة الإسلام، وكان بعض مستشاريه نصحوه قبل المعركة بتأخير القتال لما بعد شهر رمضان إلا أن صلاح الدين أجابهم "إن العمر قصير وإن الأجل غير مأمون، وإن ترك المغتصب يحتل شبراً واحداً من بلاد المسلمين، وفي استطاعتنا طرده أمر لا أستطيع أن أتحمل مسئوليته أمام الله"، في الواقع، يمكننا استعادة فلسطين من السرطان الصهيوني برجال من أمثال صلاح الدين الأيوبي من خلال إعادة تأسيس الخلافة على طريقة النبي عليه الصلاة والسلام، وإحلال السلام والأمن في المنطقة للمسلمين والنصارى واليهود على حد سواء. كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرد. نسرين نوازمديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
خبر وتعليق عام على الحرب وما زالت غزة تحت الركام (مترجم)
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست