الخبر: تناقلت عدد من وسائط الإعلام ومواقع التواصل (الاجتماعي) بياناً صادراً من مجلس قيادات قبيلة الرزيقات الميدانيين في السودان، الذي اجتمع يوم الجمعة الموافق 2015/6/12م - كما جاء في البيان - بمحلية بحر العرب (أبو مطارق) وذلك بغرض بحث وتحديد ما أسماه البيان بمصير ومستقبل تواجد قبيلة المعاليا داخل حاكورة قبيلة الرزيقات (دار رزيقات) ومما جاء في البيان: - اجتمع مجلس مقاتلي الرزيقات حيث قرر الاجتماع أن دار الرزيقات معروفة بحدودها المرسومة في خرائط وأطلس السودان والعالم والوثائق العالمية والدولية. - هذه الحدود معروفة ومدونة في كل الخرائط والوثائق الموجودة في خرائط قبائل السودان في لندن. في هذا الاجتماع تقرر الآتي: على المعاليا أن يقرروا مصير حياتهم بأنفسهم إذا أرادوا العيش بأمن وسلام مع الرزيقات وذلك باتخاذ أحد الأمور الآتية: 1/ على المعاليا مغادرة أرض الرزيقات فورا وإخلائها تماما وذلك في الفترة المحددة ما بين 24 من شهر شعبان الجاري وحتى 5 من شهر شوال من العام 1436الهجري أي بعد عيد الفطر المبارك مباشرة. 2/ أما في حالة عدم استجابة المعاليا لهذه الأمور أو اتخاذ إحداها في الفترة المقررة أعلاه فإن عليهم تحمل نتائج ما يحدث لهم في المستقبل أي بعد الفترة المذكورة آنفا.. 3/ على الخرطوم التزام الحياد وعدم التعرض لمقاتلي الرزيقات الذين يسعون لتحرير ترابهم من المعاليا (المتسلبطين) أما في حالة التعرض أو الاعتداء فإن الرزيقات يعتبرون الحكومة طرفاً أساسياُ في الصراع ومحاولة تمليك المعاليا أرض الرزيقات بطريقة غير مشروعة وعندها سوف لن تسلم الحكومة من رد فعل الرزيقات وقد يكون عاقبته وخيمة. التعليق: لخطورة ما جاء في هذا البيان وما اشتمل عليه من دعوة للحرب، كان لا بد لنا من التعليق وتحذير الأمة مما يحاك ضدها من إشعال الحرائق لتمزيق ما تبقى من السودان في نسخته الثانية تحت دعاوى الجهويات والقبليات وغيرها من عوامل الهدم التي يتخذها المستعمر أداة في بلادنا لتمرير مخططه. إن البيان الصادر عمّن يسمى (بمجلس قيادات الرزيقات الميدانيين في السودان) هو دعوة صريحة للاقتتال، وهو ردة فكرية وانتكاسة جاهلية يختشي منها التاريخ الجاهلي للعرب والعجم، والأصل أن يعلم الإخوة في قبيلة الرزيقات أن هذا البيان لا يعبر عنهم، وأن مفرداته العنصرية الجهوية تخالف وتصادم الإسلام العظيم، ولذلك وجب عليهم إنكاره باعتباره منكراً عظيماً ودعوة لحرب بين أبناء المسلمين. ألا يستحي من كتب البيان من قوله (هذه الحدود معروفة ومدونة وموجودة في خرائط قبائل السودان في لندن)؟!! أليست لندن هي التي استعمرت أهل هذا البلد فقتلت في أقل من ساعة أكثر من 11 ألف شهيد من أجداد الرزيقات والمعاليا؟!! كيف أصبحت لندن هي التي تحدد الحقوق والحدود وهي التي أبرزت أفكار الخلاف السرطانية في جسد هذه الأمة ومنها أهلنا في دارفور بإصدارها للقانون الملغوم المسمى بالحواكير؟! ففي عام 1922 رسم المستعمر الإنجليزي خريطة، ثبّت فيها حدود الديار القبلية، وعلى ضوء هذه الخريطة تم تقسيم دارفور إداريا إلى 6 مراكز قسم، كل مركز إلى وحدات إدارية أصغر (إدارات أهلية) تقوم على الحدود المتعارف عليها الآن المسماة بالحواكير... إنها فعلا فضيحة أن يُجعل الجلاد هو القاضي والثعلب هو الحارس الأمين، وأن يتم الاستدلال بما فعله أعداء الأمة للمطالبة بالحقوق!! إننا أهل السودان ومنهم الرزيقات نرفض هذه التوجهات الشيطانية ونعتبرها دعوة مخابراتية لتفتيت البلاد وتمكين المستعمر من ثرواته وإشاعة الفوضى الخلاقة فيه، ونحن نعلم أن من يقف خلف هذا البيان هم عيون المستعمر في بلادنا وأياديه، وتجار الحرب في بلاد المسلمين، فقد تواصلنا مع قادة في قبيلة الرزيقات وبينوا لنا أن لا علاقة لهم بذلك الاجتماع الذي تم في الجبال.. نعم إن المجتمعين من أبناء جلدتنا لكن لا مرحبا بمسعاهم الشيطاني، وفي هذا الصدد نطلب من كل الشرفاء في هذا البلد الوقوف جنبا إلى جنب لأجل دفع المستعمر وقطع الطريق عليه وتجفيف منابع الارتهان له ومحاربة كل الأفكار العنصرية النتنة التي لم نرث منها إلا الشقاء والتعاسة. بل يجب على الجميع الرجوع إلى الله واستمداد العون منه، وطلب المعالجات لكل مشاكل البلاد من عقيدة وفِقْهِ الإسلام الذي أنزل رحمة للعالمين. وندعو الجميع للتواثق والتعاهد على ميثاق عظيم بموجبه تحقن الدماء وتعالج المشكلات بحيث تكون أبرز مقرراته: أولاً: إن رابطة العقيدة الإسلامية وحدها هي التي تصلح لأن تربط الإنسان بأخيه الإنسان وما سواه من روابط قبلية هي للتعارف لا غير. ثانياً: لا بد من ملاحقة مرتكبي جرائم الدم والعرض وإقامة حدود الله عليهم كما جاء في نظام العقوبات في الإسلام. ثالثاً: إن قانون الحواكير هو إرث استعماري وتركة كفرية وهي أس الداء وبيت البلاء فيجب الكفر به بل ويجب محاربته أينما وجد. رابعًا: إن حالة غياب الدولة عن المشهد الأمني في البلاد حتى جعل بعض القبائل تقدم خطاب التهديد والوعيد للسلطات يكشف للقاصي والداني أن الدولة القائمة هي دولة غير جديرة بحكم هذه البلاد ليس فقط لضعفها وفشلها في توفير الأمن ولكن لأنها ساهمت في تأجيج المشاكل بين القبائل، بل هي التي أنشأت هذه المليشيات، والتي سرعان ما تحولت إلى قوات الدعم السريع تحت رعاية جهاز الأمن والمخابرات، وهي التي ارتكبت أكبر الجرائم في حق الأمة عندما أقصت الإسلام من سدة الحكم وخدمت وما زالت تخدم أعداء الأمة من الأمريكان والفرنجة حتى مكنتهم من فصل الجنوب، وها هو المخطط الأمريكي لتفتيت ما تبقى من السودان يمشي على قدم وساق وهذا ما كنا نحذر منه ونخشاه، ولذلك وجب الانتباه والعمل الجاد لخلع هذا النظام من جذوره واستئصاله من سدة الحكم حتى تتمكن هذه الأمة العظيمة من تنصيب رجل يحكمها بكتاب الله وسنة رسوله. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعصام الدين أتيمعضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان
خبر وتعليق أدوات الغرب في السودان يسعرون الحرب بردة فكرية وانتكاسة جاهلية
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست