خبر وتعليق    اكتشاف نسخة أصلية من القرآن لا يزيد في إعجاز القرآن
خبر وتعليق    اكتشاف نسخة أصلية من القرآن لا يزيد في إعجاز القرآن

الخبر: تناقلت وسائل الإعلام خبر اكتشاف علماء في جامعة برمنغهام في بريطانيا لمخطوطة من القرآن كتبت بالحبر وبالخط الحجازي على رقعة من جلد الماعز تعود بتاريخها إلى زمن رسول الله عليه الصلاة والسلام أو بعد وفاته بقليل. وقد أثار الخبر اهتمام الجالية الإسلامية المحلية وعلماء مسلمين حول العالم.   التعليق: بغض النظر عن الكيفية التي وصلت بها المخطوطة إلى جامعة برمنغهام التي تحتوي على أكثر من 200،000 مخطوطة تعود إلى ما قبل سنة 1850 فإن هذا الاكتشاف له أهمية كبرى ضمن الأوساط العلمية التي تعتمد على الطريقة العلمية في البحث والوصول إلى الحقائق، والتي باتت تقدس الطريقة العلمية، وتفضلها على غيرها من طرق الوصول إلى الحقائق وإثباتها. ولكن هناك أكثر من مليار ونصف المليار مسلم في العالم اليوم إضافة إلى أضعاف هذا العدد من المسلمين الذين عاشوا خلال الأربعة عشر قرنا الماضية، قد آمنوا بالقرآن الكريم وصدقوا تصديقا جازما بأنه كلام الله الذي أوحى به إلى محمد عليه الصلاة والسلام دون رؤية النسخة التي جمعها أبو بكر أو الرقعة التي كتبت بأيدي كتبة الوحي في زمن رسول الله عليه الصلاة والسلام. وهذا الإيمان ليس مجرد عاطفة أو شعور أو إحساس، بل هو قناعة عقلية مبنية على إعجاز القرآن المستمر على مدى هذه القرون كلها. وإعجاز القرآن مبني على حقيقة واحدة بينة وهي أن هذا الكتاب تفرد في أسلوبه وصياغته منذ أن أوحى به الله إلى نبيه، ولم يوجد خلال هذه الفترة كلها كتاب آخر على نسق القرآن أو شبهه. وهذه الحقيقة هي التي جعلها الله تعالى موضع التحدي للبشر جميعا بل وللجن أيضا. حتى إذا عجز أهل الأرض قديما وحديثا عن إنتاج ما يشبه القرآن يكون قد ثبت تفرده وبالتالي ثبت أنه من الله تعالى كما أخبر بقوله ﴿وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ وقوله تعالى ﴿قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُواْ بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لاَ يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا﴾. والحاصل أن القرآن هو كلام عربي أي باللغة العربية مصوغ من أحرف عربية وكلمات عربية وعلى أسس وقواعد عربية وبأساليب اللغة العربية البلاغية من تحسين وجناس وطباق وتشبيه وغيرها. إلا أنه قد تمت صياغته بأسلوب كلامي جديد يختلف عن الشعر والزجل والسجع والخطابة والمقالة والخاطرة والقصة والرواية، وإن كان فيه شيء من كل هذه الأساليب. وبعد نزول القرآن على هذا الأسلوب الفريد، أصبح هذا الأسلوب في الكلام معروفا وقد درسه وبحثه وعلق عليه ملايين الناس من علماء لغة وغيرهم وألفوا حوله آلاف الكتب، إلا أنهم لم يؤلفوا أو ينتجوا كتابا واحدا ولا حتى فصلا واحدا يمكن وضعه بمقام القرآن ومنزلته من حيث الأسلوب والصياغة، مع وجود الدافع والحاجة الماسة إلى إيجاد ولو شبه واحد من أجل إبطال حجة القرآن وإعجازه عند أعدائه خاصة عند كفار قريش الذين وقفوا موقف العداء من رسالة محمد ومن القرآن الكريم. فعجز أولئك ثم عجز أعداء الإسلام على مدى التاريخ عن صياغة كتاب أو حتى فصل على نسق القرآن مع حاجتهم لذلك يثبت تفرد القرآن وبالتالي صحة ادعاء من جاء به على أنه من الله تعالى وقد جاء على وجه معجز. وهذه الظاهرة ماثلة للعيان في كل وقت وزمان، أدركها المسلمون المؤمنون بالقرآن وأدركها غير المسلمين كذلك. كما ورد عن الوليد قوله في القرآن "والله لقد سمعت من محمد آنفاً كلاماً ما هو من كلام الإنس ولا من كلام الجن؛ إن له لحلاوة وإن عليه لطلاوة وإن أعلاه لمثمر وإن أسفله لمغدق وأنه يعلو وما يُعلى عليه". لذلك فإن اكتشاف المخطوطة اليوم أو اكتشاف مخطوطات أكثر لا يزيد في يقين المسلمين وإيمانهم في أن القرآن الذي كانوا يتلون منذ أكثر من 14 قرنا هو كلام الله المعجز. أما حفظ القرآن من الضياع والتحريف فقد أنبأنا الله تعالى في القرآن ذاته أن الله لا شك حافظ للقرآن بقوله ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾. فقد حفظ الله القرآن في صدور العباد قبل أن يحفظ في الكتب والرقاع، فقد وجد في كل زمان وفي كل مكان يعيش فيه المسلمون حفظة للقرآن الذين حفظوا القرآن بالرواية والتلقين من جيل إلى جيل، حتى إنه وجد ملايين من الحفظة الذين لا يعرفون اللغة العربية مطلقا ولكنهم يحفظون القرآن عن ظهر الغيب، وما يحفظه حفاظ الهند وباكستان وماليزيا وإندونيسيا وتركيا والبنغال لا يختلف مطلقا ولا بأي شكل أو لفظ أو لحن عما يحفظه حفاظ مصر وليبيا والشام والعراق والمغرب. فالله تعالى أخبر بأن القرآن لا بد محفوظ وقد حصل هذا الحفظ بالتمام والكمال، فيكون حفظه على هذا الشكل إخبار عن صحة ما ورد في القرآن غيبا فيكون زيادة في حجة إعجاز القرآن الكريم. من هنا فإن اكتشاف علماء برمنغهام لتاريخ وصحة المخطوطة لا يزيد ولا ينقص عند المسلمين شيئا، وإن كان قد يفيد المأخوذين بالطريقة العلمية بالبحث، ويبهر الكفار زيادة على ما هم عليه من تربص بالإسلام، ويغري صدورهم أكثر. وكلمة أخيرة نقولها للمسلمين المؤمنين بالقرآن: اعلموا أن كتاب الله هذا الذي عنه يتحدثون إنما تكمن عظمته في أمرين: الأول أنه كلام الله الخالد رب السماوات والأرض وما بينهما، والثاني أن هذا الكتاب فيه هداكم، وطريق سعادتكم، وسبيل عزتكم ومجدكم، ورفعة شأنكم وقوتكم، وصلاح أمركم، ومنارة دربكم إلى ذرى المجد. فلا تتركوه وراء ظهوركم، وتتبعوا غيره من الكتب التي ما أنزل الله بها من سلطان، واجعلوه مصدر شرائعكم ودستوركم وقوانينكم، وطريقة عيشكم، وسلوككم، لعل الله يهديكم سبله ويدخلكم جناته إنه هو العلي العظيم.       كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرد. محمد ملكاوي

0:00 0:00
Speed:
July 24, 2015

خبر وتعليق اكتشاف نسخة أصلية من القرآن لا يزيد في إعجاز القرآن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست