خبر وتعليق    ألا يكفيكم فسادا وإفسادا
خبر وتعليق    ألا يكفيكم فسادا وإفسادا

الخبر: الرباط: وكالة أخبار المرأة "طالبت الجمعية البرلمانية للمجلس الأوروبي، المعروفة اختصارا بـ "APCE"، المملكة المغربية بعدم تجريم المثلية والعلاقات الجنسية خارج إطار الزواج، باعتبار أن ذلك يدخل في إطار الحريات الفردية، ولا يمكن تصنيفه ضمن خانة "السلوكيات الإجرامية"، وذلك خلال دورتها المنعقدة بمدينة ستراسبورغ الفرنسية".   التعليق: تستمر الهجمة على الإسلام في كل مكان، ومحاولة حرف الناس عن أحكامه مستمرة وبقوة في العالم الإسلامي متخذة أشكالا عديدة وأساليب كثيرة، وإن بنود الدستور الوضعي تتغير كل حين خاصة بعد ثورات الربيع العربي خدمة لهذه الأجندة ولتغيير شرع الله خاصة في النظام الاجتماعي لأنه الوحيد الذي لا زالت بعض أحكام الشرع مطبقة فيه. ومن بين تلك البلاد المغرب حيث أسهم الدستور المغربي الجديد عام 2011 "في إلغاء جميع أشكال التمييز ضد المرأة" على أساس الجنس وتكريس المساواة بين الرجل والمرأة في الحقوق والحريات المدنية والسياسية والاقتصادية والاجتماعية والثقافية والبيئية والتي تم الاتفاق عليها في مؤتمر بكين قبل عشرين عاما. وكان للحقوق الجنسية والإنجابية مكانةً بارزة خلال الاجتماع الذي نظمته الأمم المتحدة في نيويورك، في شهر آذار/مارس الماضي (9-20 آذار 2015)، والذي تمت فيه مراجعة ما تحقق من تقدم منذ "مؤتمر بكين"!! وها هي الجمعية البرلمانية للمجلس الأوروبي تطالب بعدم تجريم المثلية والعلاقات الجنسية خارج إطار الزواج وكأنه جاء عن قصد لتقييم عمل البرلمان المغربي على امتداد أربع سنوات، أي منذ تاريخ المصادقة على الدستور الجديد عام 2011، باعتبار المملكة تتمتع بصفة "شريك في الديمقراطية" داخل المنظمة الحقوقية ذاتها، وذلك بعدما تمت المصادقة على قرار انضمامها بأغلبية ساحقة بلغت 131 صوتا مقابل ستة امتنعوا عن التصويت. وأكدت الجمعية بأن السلطات المغربية ملزمة بإعطاء أولوية أكبر للتدابير الرامية إلى مكافحة جميع أشكال التمييز ضد النساء، معتبرة بأن وجود المغرب ضمن هذه الهيئة يلزمه بمسايرة القوانين الوضعية المتوافق حولها، ومن ضمنها الاعتراف بحقوق المثليين، وإعادة النظر في قوانين الإرث. وأضافت بأن سياسة الحكومة المغربية، بخصوص مبدأ المساواة بين الرجل والمرأة، لا تزال "غير واضحة"، إذ إن الفصل الخامس من القرار رقم 2061 للجمعية البرلمانية للاتحاد الأوروبي يهدف إلى فتح نقاش جاد حول إلغاء التعددية الزوجية وإصلاح التشريعات المتعلقة بالإرث لإنهاء التمييز بين الجنسين. وكانت منظمة العفو الدولية قد رأت في وقت سابق أنه آن الأوان أن تتخذ الحكومة المغربية إجراءات إيجابية - ليس فقط من خلال التخلص من القوانين القمعية، ولكن أيضا بتعزيز وحماية الحقوق الجنسية والإنجابية - وأنه لا يزال هناك الكثير مما ينبغي القيام به، فالحكومة مطالبة - وهي تعد الإصلاح الشامل الذي يهدف إلى وضع حد للعنف ضد المرأة - بضمان أن يتم تعديل جميع المواد التمييزية المتبقية في القانون الجنائي المغربي وضمان توافقها مع المعايير الدولية لحقوق الإنسان واتخاذ جميع التدابير اللازمة لضمان وقف التمييز والعنف ضد المرأة في الممارسة العملية وفقا للمادة 5 من اتفاقية الأمم المتحدة للقضاء على جميع أشكال التمييز ضد المرأة (CEDAW) وتوفير الحماية لضحايا الاغتصاب. وتوافق مطالبة الجمعية بعد تجريم المثليين في المغرب مع إضفاء الشرعية على زواج المثليين في أمريكا حيث قضت المحكمة العليا الأمريكية الجمعة بالسماح بزواجهم في الـ50 ولاية، حيث اعتبرت أعلى سلطة قضائية أمريكية أن الدستور يطلب من الولايات أن تعترف بزواج شخصين من نفس الجنس وأن تبرم لهما العقود، وبعد سنتين على قرارها بأن الزواج ليس حكرا على "جنسين مختلفين" ألزمت المحكمة الولايات الـ14 التي ترفض هذا الزواج بقبوله وأن تبرم عقوداً هذا النوع من الزواج وتعترف به في حال تم بأماكن أخرى.. أي أنهم يصرون على تصدير حضارتهم الفاسدة لنا، في حلقة أخرى من حلقات الصراع الحضاري الدائر بين المسلمين والغرب. فالإسلام حرم هذه العلاقات الشاذة، فهي خروج عن الدين والفطرة السليمة، وهدم للأخلاق، وانسلاخ من معاني الإنسانية. وقد حذر من مثل هذه العلاقات الشاذة، كما جاء في حديث رسول الله عليه الصلاة والسلام: «إِذَا اسْتَحَلَّتْ أُمَّتِي خَمْسًا فَعَلَيْهِمُ الدَّمَارُ: إِذَا ظَهَرَ التَّلاعُنُ، وَشَرِبُوا الْخُمُورَ، وَلَبِسُوا الْحَرِيرَ، وَاتَّخِذُوا الْقِيَان، وَاكْتَفَى الرِّجَالُ بِالرِّجَالِ، وَالنِّسَاءُ بِالنِّسَاءِ». وعقاب قوم لوط بسبب خروجهم عن الفطرة مذكور في القرآن الكريم، ﴿وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ﴾.. وقال عليه الصلاة والسلام: «لم تظهر الفاحشة في قوم قط حتى يعلنوا بها، إلا فشا فيهم الطاعون والأوجاع التي لم تكن في أسلافهم الذين مضوا». رواه ابن ماجه. فهنا يحذر عليه الصلاة والسلام أمته من خطر ارتكاب الفاحشة وإظهارها والتمادي فيها، لأن ذلك ينتج عنه انتشار الطاعون والأمراض الفتاكة التي لم يسبق ظهورها في أسلافنا من الأمم، وقد ظهر تصديق ذلك بظهور طاعون العصر (الإيدز) والأمراض الجنسية الفتاكة، نتيجة ممارسة العلاقات المحرمة من زنا ولواط وغير ذلك. بينما جاء شرع الإسلام بما ينظم العلاقة ويطهرها ويرقى ويرتفع بها بما يليق بكونه إنسانا، يقول سبحانه وتعالى: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾. ولم تكن مثل هذه الجمعية أو غيرها يجرؤون على مثل هذه المطالبات أو المحاولات لو كانت هناك دولة قوية تضرب من حديد وتجتث الفساد والمفسدين في الداخل وتمنع دخولهم وأفكارهم من الخارج.. ولكن بوجود الحكام الرويبضات فكل شيء ممكن حدوثه.. فحسبنا الله ونعم الوكيل.       كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرمسلمة الشامي

0:00 0:00
Speed:
June 29, 2015

خبر وتعليق ألا يكفيكم فسادا وإفسادا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست