الخبر: ذكرت شبكة الإعلام العربية محيط على موقعها الإلكتروني يوم الاثنين 2015/1/12، نقلا عن وزير الأوقاف المصري، محمد مختار جمعة، إن مصر في مقدمة الدول التي تحارب الإرهاب، مؤكداً استعداد مصر لنشر ثقافة التسامح في العالم كله، كما أشار في مداخلة هاتفية مع فضائية «أون تي في»، اليوم الاثنين، إلى أن الإرهاب لا دين له ولا وطن ويهدد دول العالم ككل، معرباً عن خشيته في أن يخلط اليمين المتطرف بين موقف الإسلام والإرهاب، وأضاف أن الوطن العربي يُحرق بنار الإرهاب، وأن العالم بحاجة لاتفاق إنساني دولي لمواجهة التنظيمات الإرهابية أياً كان انتماؤها. التعليق: الإرهاب كلمة مشتقة من فعل أرهبَ يُرهب، إرهابًا، فهو مُرهِب، والمفعول مُرهَب بمعنى خائف أو مروع، ومنه قوله تعالى ﴿تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكمْ﴾ أي تقذفون الرعب والرهبة في نفوسهم، هذا هو المعنى اللغوي والذي يختلف عن مفهوم الغرب للإرهاب واستعماله له كمصطلح، فالغرب اعتبر الإرهاب هو كل ما يهدد مصالحه وبقاءه ونهبه لثروات الأمة، وهيمنته على خيراتها ومقدراتها. ولهذا أصبح الإرهاب من منظوره هو الإسلام الذى يهدد هذه المصالح بل يهدد وجوده وعملاءه من الحكام والعلمانيين المضبوعين بثقافته. ومن هنا أعلن الغرب حربه على الإرهاب والتي وجهت بكل قوتها إلى المسلمين قتلا وحرقا وتدميرا وتشريدا، فصرنا لا نكاد نرى بقعة إلا وفيها نهر من دماء المسلمين، فمن بورما إلى مالي إلى غزة إلى أفغانستان والعراق وسوريا وغيرهم. وهنا نتساءل: من الذي يصنع الإرهاب؟! القاتل أم المقتول؟! المحتل الغاصب أم صاحب الأرض؟! إننا لا نستهجن دعاوى الغرب وعملائه وأذنابه وادعاءهم على الأمة فهذا شأنهم وتلك حربهم الأخيرة، إنما المستهجن أن يدور في الإطار نفسه من يسمون أنفسهم علماء، ويتقولون بأنهم وحدهم المنوط بهم اعتلاء المنابر وأنهم وحدهم من يؤخذ منهم فهم الإسلام، فصرنا نراهم يرددون ما يريده الغرب كالأبواق، منتفضين معه وفي ركابه من أجل اعتداءات لم يتم التحقق من فاعليها ورغم كونها قد تمت في حق من نالوا من الإسلام في شخص رسول الله صلى الله عليه وسلم، بينما لم نسمع منهم كلمة واحدة ينتصرون بها لرسول الله صلى الله عليه وسلم، بل نراهم يطالبون بتعاون عالمي ضد الإرهاب بمفهومه الغربي. يا مشايخ الأزهر والأوقاف أليس في نشر تلك الرسوم المسيئة لنبيكم إرهاب؟! فأين أنتم ممن سخروا من نبيكم ومن دينكم على ملأ من الناس أجمعين؟! الغرب يقتل أبناء الأمة فى كل مكان ولا يراق دم في الأرض إلا دم المسلمين، فأين أنتم من هذه الدماء؟! أليس قتل المسلمين في مالي بطائرات فرنسا إرهابا؟! أليس قتل أطفال غزة بقصف طائرات يهود وحصارهم وغلق المعابر عنهم إرهابا؟! فمن هم صانعو الإرهاب؟! أيها المسلمون، راجعوا تاريخ أمريكا وهو ليس بالبعيد، وانظروا كيف أبادوا شعبا كاملا ليبنوا دولتهم. وتاريخ فرنسا في الجزائر وقتلهم وقطعهم رؤوس المسلمين هناك، وتاريخ بريطانيا في فلسطين وتسليمها لليهود وتآمرها مع الهالك مصطفى كمال لهدم الخلافة حصن الأمة الحصين والتي لم يكن الغرب ليجرؤ على التطاول على الاسم ولا على نبينا في وجودها، راجعوا تاريخ الغرب في الأندلس ومحاكم التفتيش لتعلموا ما هو الإرهاب ومن يصنعه. إن الغرب هو الذي صنع الإرهاب ورعاه ووجهه نحو أمتنا ليمنعها من قيام دولتها التي تحررها من هيمنته عليها ونهبه لخيراتها وثرواتها ومقدراتها، فلا تكونوا من أدواته ولا تسيروا في ركابه فباطله حتما إلى زوال، والأمة على موعد قريب مع خلافة على منهاج النبوة، لن ترضى عنها بديلا، والغرب يدرك ذلك يقينا، ويعد لذلك العدة، بل إن تصعيده فى حربه ضد الأمة ليست إلا لاستشعاره قربها وخوفه منها حين تحاسبه على ما نهب من ثروات الأمة وما سفك من دم أبنائها الطاهر النقي، فيسعى لتأخيرها قدر استطاعته ومثله كمثل الذي يريد أن يطفئ الشمس بفيه. وإن العالم الآن وبعد ما ذاق من ويلات الغرب وإرهابه وقتله وتدميره يحتاج إلى خلافة ثانية على منهاج النبوة تملأ الأرض عدلا بعد أن ملئت جورا وظلما، تطبق الإسلام فيراه الناس واقعا عمليا مطبقا، فيرون الفرق بونا شاسعا بين قيادة الإسلام للعالم بعدل أحكامه الصادرة عن وحي الله لنبيه، وبين وحشية الغرب ورأسماليته التى طالما نهبت وخربت وقتلت وأرهبت، فيدخلون في دين الله أفواجا وأمما ولا يبقى بيت حضر ولا وبر إلا ويظله الإسلام بعدله ورعايته. يا علماء الأزهر وشيوخ الأوقاف؛ كونوا في صف الأمة لا في صف عدوها، وارجعوا إلى ما تعلمتم من كتاب وسنة، وانظروا إلى وعد الله بالنصر والتمكين وخلافة ثانية على منهاج النبوة؛ وعد حق وصدق آت لا محالة وإن كره الغرب الكافر وحارب وفعل ما فعل فسنتهم سنة أبي جهل وملأ قريش، وسينالون ما نالوا من حسرة وخسران، فلا تكونوا معهم فينالكم نصيب مما يكسبون، وكونوا مع من سنتهم سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم وصحبه الكرام فتفوزوا فوزهم وتنالوا عزهم، اللهم اجعله قريبا واجعله بأيدينا. ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرسعيد فضلعضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر
خبر وتعليق العالم الآن في حاجة إلى دولة خلافة
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست