September 03, 2014

خبر وتعليق الاعتداء الجنسي في روثرهام فرصة أخرى لاضطهاد الجالية المسلمة


الخبر:


كشف تقرير بتكليف من مجلس بورو روثرهام أن 1400 طفل على الأقل تعرضوا للاستغلال الجنسي المروّع في روثرهام بين عاميّ 1997 و2013. وفي كشف عن تفاصيل نتائج التحقيق، قال البروفيسور جاي: "من الصعب وصف الطبيعة المروعة من سوء المعاملة التي تعرض إليها الأطفال الضحايا". ووجد فريق التحقيق أمثلة عن أطفال "تم صب البنزين عليهم وتهديدهم بإضرام النار فيهم، وتهديدهم بالمسدس، كما تم إجبارهم على مشاهدة حالات اغتصاب عنيفة ووحشية من ثم تهديدهم بملاقاة نفس المصير إذا أخبروا أحدا". ويعتقد أيضا أن العديد من الأطفال الذين يولدون لضحايا الاستمالة والاستغلال الجنسي في روثرهام يتم نقلهم بعيدا عن أمهاتهم، مما يسبب لهن مزيدا من الصدمات النفسية.


وقال عامل رعاية، يعمل في دار الأطفال من 2003 إلى 2007، لل بي بي سي، أن رجالا يأتون كل ليلة تقريبا لجمع الفتيات، ويفرون باستخدام أساليب متعددة وبمساعدة سيارات أجرة. ووفقا للتقرير فقد وصف العديد من الموظفين قلقهم إزاء تحديد الأصول العرقية لمرتكبي هذه الأعمال خوفا من أن يتهموا بالعنصرية فيما ذكر آخرون بوجود أمر مباشر من مديريهم بعدم ذكر ذلك. ويعتقد بأن العديد من أفراد تلك العصابات يكونون من أصول باكستانية، كما هو الحال مع قضية روتشديل، أما الآن فقد سلط الضوء على القابلية المفترضة من الرجال الآسيويين لاستهداف الفتيات البيض البريطانيات. ووفقا لصحيفة الغارديان، فإن هذا دليل آخر على "المدى الذي حاولت فيه حكومة حزب العمال السابقة التقليل من الإجرام والتطرف بين المسلمين البريطانيين خوفا من تقويض تماسك المجتمع".

التعليق:


من الواضح أن وسائل الإعلام الغربية والسياسيين جنبا إلى جنب يتتبعون هذه المسألة مما يجعلها محطّ مزايدة بدلا من أن تكون اعتداء جنسياً بغيضاً وعملاً إجرامياً يحدث في جميع الثقافات والأعراق. هذا لا يقدم أي عدالة للضحية، وبدلا من دراسة الأسباب الجذرية للمشكلة الخطيرة والمتنامية من الاستغلال الجنسي للنساء في بريطانيا، بدأت وسائل إعلام بريطانية في تعميم القضية على 'المسلمين'، 'سمر البشرة'، 'الباكستانيين' و'الآسيويين'. هذا النوع من التقارير والتصريحات من الحكومة ووسائل الإعلام يسبب التوترات الإثنية. تجاهل القضية الجوهرية وهي أن الأطفال، وكثير منهم في أوضاع هشة، قد تم ترويعهم وإلحاق الأذى بهم جسديا من قبل رجال انتهازيين تمكنوا من الإفلات من الحساب على جرائمهم على مدى سنوات.


وكما هو الحال مع عصابات روتشديل، فإن الإسلام يحصل على تنويه خاص، على الرغم من تصرفات هؤلاء الأشخاص المنافية للدين بشكل قاطع. فالإسلام يرفض مثل هذا السلوك وينهى عنه، ولكن عندما يشارك في هذا الفعل رجال باكستانيون مولودون في بريطانيا سرعان ما يسلط الضوء على قيمهم الدينية في حين لا تذكر ولا تثار أبدا قيم ومعتقدات نظرائهم البيض في نفس الجريمة. وبعد فضيحة جيمي سافيل، وحالات الاعتداء الجنسي الشهيرة من ولف هاريس، ويليام روش وديف لي ترافيس، وثقافة الاغتصاب في الجامعات والأرقام المتزايدة للاعتداء الجنسي على الأطفال، من الواضح أن هذه الأعمال ليست حكرا على الجالية البريطانية الآسيوية.


وفيما يتعلق بادعاء أن السلطات تجاهلت عمدا معلومات حول هذه الجرائم خوفا من أن تكون غير صحيحة سياسيا، فهذا صعب الاحتمال نظرا لمستوى الدعاية الإعلامية، ونظرا لفرح وسائل الإعلام ببث أخبار حول الجالية المسلمة عندما يتعلق الأمر بتعارضها مع "القيم البريطانية". وعلاوة على ذلك، فمن المقبول على نطاق واسع إخفاق الشرطة والخدمات الاجتماعية باستمرار عندما يتعلق الأمر بالأطفال الذين يزعمون سوء المعاملة، ويكافحون للتعامل مع الجرائم الجنسية في جميع المجالات. ومن المعروف أن بعض المعتدى عليهن يتميزن بوجود علاقة بينهم وبين المعتدي عليهن، وبالتالي فإن النظام يكافح للتعامل مع الجرائم المنزلية.


وقد اختار هؤلاء الرجال الفتيات التي يسهل الوصول إليهن، ربما كانت الفتيات من البيض أيسر لهم من الفتيات الآسيويات. ولكن هذا لا يجعل هذه الحالة جريمة ذات دوافع عنصرية. بل هي قصة لأفراد غير مستقيمين يحاولون الحصول على الاستغلال الجنسي. هذه الأنواع من الجرائم للأسف شائعة في المملكة المتحدة، والتي يرتكبها رجال من جميع الخلفيات، بسبب القيم الهابطة التي تؤدي بهم إلى الاشتغال في مجال الخمور والمخدرات وحتى الاعتداء على النساء. وهؤلاء الرجال هم أفراد من المجتمع، وينبغي أن يكون هذا الموضوع حول سبب انتشار الانتهاكات ضد النساء والفتيات في المجتمع ككل. إن هذه القيم اللبرالية العلمانية وهذا النظام قد أفشل هذه الفتيات الشابات البريئات. هذه الجرائم هي امتداد لقيم الحرية التي يحملها الناس والحرية في إشباع غرائزهم ورغباتهم الخاصة بأي طريقة يرغبون بها. أيضا هذه الأنواع من النشاط الإجرامي، وتحديدا عصابات بيع المخدرات وغيرها هي حقا بانورما من المشاكل والقضايا المختلفة في المجتمع التي تعزز بعضها البعض.


إن الإسلام والجالية المسلمة بأكملها ليس لديهم ما يعتذرون من أجله عندما ترتكب هذه الجرائم، وليس علينا النظر إليها إلا كفرصة لتوضيح الهدف الحقيقي لوسائل الإعلام من خلال الطريقة التي تعرض بها هذه القصص وتسليط الضوء على السبب الكامن وراء هذه الاعتداءات.

كتبته لإذاعة المكتب الاعلامي المركزي لحزب التحرير
عائشة حسن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست