الخبر: بعد التصويت بـ"لا" لبرنامج أوروبا لإنقاذ الاقتصاد اليوناني، غرق الاتحاد الأوروبي في أكبر أزمة سياسية، فدُعي القادة الأوروبيون لاجتماع قمة طارئ لمناقشة الوضع، وتعالت الأصوات الأوروبية ضد الموقف الذي اتخذته اليونان وأصرّت عليه. وقد حذّر نائب المستشار الألماني (سيجمار جابرييل) من أن اليونان كانت متجهة نحو "التخلص من المُر واليأس" بعد التصويت. وقال رئيس الوزراء البولندي (إيوا كوباسز): "مع رفض اليونان لقواعد منطقة اليورو، فإن المفاوضات حول برنامج الإنقاذ بالمليارات أصبحت بالكاد يمكن تصوّرها... فتصويت اليونان بـ(لا) يعني أنه لم يبقَ أمامها سوى خيار واحد فقط، وهو الانسحاب من منطقة اليورو". التعليق: بعد انهيار وول ستريت في عام 2008م، أصبحت اليونان بؤرة أزمة الديون في أوروبا. ومع استمرار ترنح الأسواق المالية العالمية، أعلنت اليونان في تشرين الأول/أكتوبر 2009م أن أرقام العجز قد تتكشف لها بعد سنوات، وهو ما دق نواقيس الخطر بشأن سلامة اليونان المالية، وبحلول ربيع عام 2010م اتجهت اليونان نحو الإفلاس، وهو ما هدد باندلاع أزمة مالية جديدة. ولتفادي الكارثة، أصدرت ما تسمى "بالترويكا" المتمثلة بصندوق النقد الدولي، والبنك المركزي الأوروبي، والمفوضية الأوروبية، أصدرت أول خطة لإنقاذ اليونان وإصلاح اقتصادها، تكلف أكثر من 240 مليار يورو، وجاءت عملية الإنقاذ هذه مع شروط تقشف قاسية، تتطلب تخفيضات في الميزانية وزيادة حادة في الضرائب، وكانت تتطلب أيضًا من اليونان تبسيط الحكومة، والقضاء على التهرب الضريبي، وفتح أسواق لليونان تقوم بأعمال تجارية. وفي وقت لاحق، وصلت ديون اليونان إلى 175٪ من الناتج المحلي الإجمالي، ووصل معدل البطالة إلى حوالي 26٪، وهي أعلى نسبة في أوروبا. وببساطة صوّت الشعب مؤخرًا لصالح حكومة سيريزا. بناء على ما تقدم، فإنه من الصعب أن تبقى اليونان في منطقة اليورو، وهذا يرجع في المقام الأول إلى سببين: الأول: لقد رفض سكان اليونان بأغلبية ساحقة مقترحات التقشف القاسية التي تنادي بها أوروبا. واليونان لا تريد أن تكون ثرواتها مرتبطة بوجود عملة تطيل حالة التقشف وتبقي الاقتصاد في حالة من الاكتئاب بينما تمتلئ خزائن الدائنين، وفي الوقت نفسه لا تريد أيضًا أن تترك الاتحاد الأوروبي. الثاني: وضع الديون الحالي للاقتصاد اليوناني لا يمكن تحمله ببساطة، والشعب اليوناني لن يقبل بالاقتراح الذي يزيد من عبء الديون في مقابل أموال الإنقاذ، وقد أتى بالفعل بحكومات تكون غير متعاطفة مع أوروبا. ولكن مع مزيد من مدفوعات الديون للبنك المركزي الأوروبي وغيره من الدائنين في شهر تموز/يوليو، لا بد من أن الصراع بين أوروبا واليونان سيزداد. ومسألة كيفية إنقاذ اليونان، كانت مدار نقاش لأكثر من خمس سنوات، وهي كابوس يطارد الاتحاد الأوروبي. وكل هذا يعني أن اليونان قريبة جدًا من الخروج من منظومة اليورو، وهذا له آثار عديدة، منها: 1- الوضع اليوناني يؤكد مرة أخرى أن الوحدة الاقتصادية لأوروبا يستحيل تحققُها دون وحدة سياسية، فالأزمة المالية العالمية في عام 2008م، وأزمة اللاجئين الحاليين، والصراع في أوكرانيا، كشف بوضوح قدرة الاتحاد الأوروبي الحقيقية. وما لم تتنازل الدول الأوروبية عن السيادة السياسية، وتتجه نحو نموذج الولايات المتحدة في الحكم، فإن مصير الاتحاد الأوروبي هو الانهيار. 2- بعد أن أصبح العالم مترابطًا كقرية صغيرة، فإن تداعيات خروج اليونان من الاتحاد سيؤثر فيمن هم أبعد من اليونان، وذلك لأن بعض أكبر الدول الأوروبية، مثل ألمانيا وإيطاليا وفرنسا وغيرها قد قدمت لليونان الكثير، ولا تدرك أيٌّ منها حجم تورط بنوكها في الأزمة اليونانية. وما يزيد الصورة تعقيدًا هو العلاقة المتبادلة بين البنوك الأمريكية والبريطانية مع نظائرها في أوروبا، وانهيار اليونان قد يكون بداية فشل منهجي في النظام المصرفي بأكمله، وبداية أزمة ائتمان عالمية جديدة. 3- ثم إن هناك مسألة فقدان اليورو لقيمته، وتأثر التجارة بين الدول الأوروبية بشدة. فعلى سبيل المثال في بريطانيا قال المتحدث الرسمي باسم رئيس الوزراء البريطاني: "كان المستشار يتحدث في مجلس العموم يوم أمس عن خروج محتمل لليونان، وكيف سيلحقه مخاطر اقتصادية خطيرة. وبالطبع فإن علينا اتخاذ جميع الخطوات اللازمة لحماية أنفسنا من مثل هذا الاحتمال"، وأضاف: "نحن سوف ننتظر لنرى كيف سيتحرك اليورو، ونحن نراقب عن كثب الوضع في اليونان". وحتى الهند، وهي دول بعيدة عن هذه الأزمة، تشعر بالقلق الشديد إزاء الوضع الراهن في اليونان، وتخشى هروب رؤوس الأموال من الهند، حيث قال وزير المالية الهندي (راجيف مهريشي): "يمكن أن تكون هناك بعض ردود الفعل على رفع أسعار الفائدة في البنك الاحتياطي الفيدرالي، وأزمة اليونان قد تؤثر على الهند بشكل غير مباشر". 4- السكان في بلدان جنوب أوروبا مثل إيطاليا وإسبانيا والبرتغال، هم أيضا تعبوا من برامج التقشف التي تمليها ألمانيا ودول شمال أوروبا الغنية عليهم، كما أن ارتفاع معدلات البطالة والركود الاقتصادي أصبح مزعجًا. وخروج اليونان من منطقة اليورو يعطي زخما للأحزاب اليسارية في هذه الدول للضغط من أجل خروج مماثل، الأمر الذي سيؤدي إلى انهيار الاتحاد الأوروبي. 5- إن لم تخفف أوروبا من عبء الديون، فقد تتدخل روسيا لتقديم شكل من أشكال الإغاثة. ففي نيسان/أبريل 2015م، نقلت صحيفة كوميرسانت الروسية عن مصدر حكومي مجهول: "نحن مستعدون في روسيا للنظر في مسألة تقديم تخفيضات في أسعار الغاز المُصدّر إلى اليونان، وذلك مرتبط بأسعار النفط الذي تراجعت تكلفته بشكل ملحوظ في الأشهر الأخيرة. ونحن مستعدون لمناقشة إمكانية منح اليونان قروضًا جديدة أيضًا، وفي المقابل نتوقع أن نحصل على أصول معينة في اليونان كخطوة متبادلة"، وكان رد فعل أوروبا نحو هذا غاضبًا، حيث قال مارتن شولتز (رئيس البرلمان الأوروبي) إنه سيكون غير مقبول من السيد تسيبراس التوجه نحو سياسة روسيا مقابل الحصول على مساعدات من الكرملين، وهو سيكون انقلابًا استراتيجيًا لبوتين وتذكيرًا لبقية أوروبا بأن روسيا ما زالت قوية على الرغم من العقوبات والحرب بالوكالة التي طال أمدها في أوكرانيا. 6- هناك درس مهم لأهل النخبة في تركيا، حيث يتطلعون إلى عضوية الاتحاد الأوروبي. إن تركيا إذا تحولت إلى نظام الذهب والمبادئ الإسلامية المصاحبة لها، فإنه لن يكون لديها اقتصاد قوي فحسب، بل وستكون لديها فرصة لاستعادة قبرص تحت سيطرتها، وستكون مثالًا يُحتذى به عند البلدان الأوروبية لتلحق بها. وعلاوة على ذلك، فإن تركيا وروسيا ستكونان قبلة الأوروبيين، وبالتالي سيكون لأنقرة دور أقوى في التأثير على الشئون الأوروبية. ومع ذلك، فإنه من وجهة نظر العالم الإسلامي، والذي أصبح تحت الاستعمار الجديد بقيادة أمريكا وحلفائها الأوروبيين، فإن المأساة اليونانية قد توفر فرصة جيدة للشعوب الإسلامية التي تعارض عدوان القوى الغربية السافر، وأيضًا يمكن أن توفر فرصة لالتقاط الأنفاس وتشجيع العناصر المخلصة في القوات المسلحة في العالم الإسلامي لإعطاء النصرة لحزب التحرير من أجل إقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة. ﴿...وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾. كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحريرعبد المجيد بهاتي
خبر وتعليق الآثار المترتبة عن خروج اليونان من اليورو
More from خبریں اور تبصرہ
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا
(مترجم)
خبر:
نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔
تبصرہ:
کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔
اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔
اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔
جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔
آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔
محمد امین یلدرم
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔
خبر:
لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔
تبصرہ:
امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔
امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔
جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!
اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!
خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!
امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔
کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد جابر
صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست