خبر وتعليق   الاحتفال بأعياد النصارى
December 14, 2014

خبر وتعليق الاحتفال بأعياد النصارى


الخبر:


جاء في خبر على وكالة وفا الفلسطينية تحت عنوان: "بيت لحم تستعد لاستقبال أعياد الميلاد":


"على قدم وساق تجري الاستعدادات لاستقبال الزائر السنوي، أعياد الميلاد المجيدة ورأس السنة الميلادية؛ فالمدينة لبست حلة العيد وتزينت شوارعها وطرقاتها مُرحبة بقدومه.


بلدية بيت لحم صاحبة الدور الأكبر في تحضير المدينة شرعت بالاستعداد منذ بداية شهر تشرين الثاني (نوفمبر)".

التعليق:


إن الأمة الإسلامية تحتفل بالأعياد التي شرعها الإسلام، أما غيرها من الأعياد التي ما أنزل الله بها من سلطان فلا يجوز للمسلمين الاحتفال بها. قال تعالى: ﴿وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ﴾ [الأعراف: 142]. فما شرعه الإسلام من أعياد نلتزم به كشعائر لنا وما عداها نلفظه ولا نشارك به. فقد ذكر البيهقي بإسناد صحيح في باب كراهية الدخول على أهل الذمة في كنائسهم والتشبه بهم يوم نيروزهم ومهرجانهم. عن سفيان الثوري، عن ثور بن يزيد، عن عطاء بن دينار قال: قال عمر رضي الله عنه: "لا تعلموا رطانة الأعاجم، ولا تدخلوا على المشركين في كنائسهم يوم عيدهم، فإن السخطة تنزل عليهم". ومن أقوال العلماء في ذلك:


قال ابن القيم: "وفي كتب أصحاب أبي حنيفة: من أهدى لهم يوم عيدهم بطيخة بقصد تعظيم العيد فقد كفر". وقال شيخ الإسلام ابن تيمية: (ولا ريب أن الموافقة في هذه الأعياد قد تنتهي إلى الكفر في الجملة بشروط، وأما مبدؤها فأقل أحواله أن يكون معصية، وهذا أقبح من مشاركتهم في لبس "الزنار" من علاماتهم، لأن تلك العلامات وضعية ليست من الدين، وإنما الغرض منها مجرد التمييز بين المسلم والكافر. وأما العيد وتوابعه فإنه من الدين الملعون هو وأهله، فالموافقة فيه موافقة فيما يتميزون به من أسباب سخط الله وعقابه). وقال ابن القيم: (وأما التهنئة بشعائر الكفر المختصة به فحرام بالاتفاق، مثل أن يهنئهم بأعيادهم، وصومهم، فيقول: عيد مبارك عليك، أو تهنأ بهذا العيد، أو نحوه، فهذا إن سلم قائله من الكفر فهو من المحرمات، وهو بمنزلة أن يهنئه بسجوده للصليب، بل ذلك أعظم إثماً عند الله، وأشد مقتاً من التهنئة بشرب الخمر، وقتل النفس، وارتكاب الفرج الحرام، ونحوه. وكثير ممن لا قدر للدين عنده يقع في ذلك، ولا يدري قبح ما فعل، فمن هنأ عبداً بمعصية، أو بدعة، أو كفر، فقد تعرض لمقت الله وسخطه).


لقد كان للمسلمين دولة واحدة وعقيدة واحدة وراية واحدة وهوية واحدة وجيش واحد، يحكمها خليفة واحد يتكلمون لغة واحدة، لا تفصل بينهم حدود ولا سدود ولا عوائق ولا حواجز. فتآمر الغرب الكافر الحاقد على الإسلام وأهله وعملوا على هدم كل ذلك، فهدموا الدولة ومزقوها إلى عدة كيانات هزيلة وتفرقت الأمة وتشتتت، فقدت هويتها وضاعت شخصيتها، بعد أن كانت أمة رائدة تتربع على عرش القيادة في العالم. وبعد هدم دولة الإسلام شن الغرب الكافر مع الغزو العسكري غزوا فكريا شرسا على أمة الإسلام، وضرب أفكارها ومفاهيمها وقيمها وأخلاقها، واستطاع غزو عقول الأمة ببث ونشر أفكاره ومفاهيمه وقيمه بنشر مبدئه الرأسمالي القائم على فصل الدين عن الحياة. هذا المبدأ الذي أنشأه المفكرون الذين تمردوا على الكنيسة بسبب استغلالها وتحكمها وتجبرها بالناس في أوروبا باسم الدين، فثاروا عليها، وأنشأوا نظامًا جديدًا لا دخل للدين فيه، إنه النظام الرأسمالي القائم على فصل الدين عن الحياة، ثم فرضوه على المسلمين من خلال حكام عملاء لهم ودفعوهم إلى أن يتخلوا عن حضارتهم وعن أفكارهم واستبدلوا بها أفكار ومفاهيم الغرب، وأصبح تقليد الغرب هو السائد المسيطر، فلم يكن الغزو العسكري وحده الذي مزق الأمة وشتتها، فالغزو الفكري كان أشد فتكاً بالأمة، فقد أوجدوا لهم أعواناً من أبناء جلدتنا من مفكرين ومشايخ وشخصيات لها شهرة بين الناس. واستخدموا أشد الوسائل تأثيراً على الأمة ألا وهو الإعلام. ومعروف أن الإعلام تابع للأنظمة الحاكمة الطاغوتية، وتلك الأنظمة عميلة وخائنة للدين وللأمة سلطها الغرب على رقابنا وتحكمت بالشعوب الإسلامية وتحكمت بمقدراتها وخيراتها، ناهيكم عن تواطئها مع الغرب لبقاء سيطرته على البلاد والعباد والمقدرات.


لقد نجح الغرب في غزوه الفكري للمسلمين الذين انبهروا بالتقدم العلمي والصناعي عنده، فهم ربطوا نجاحهم هذا وتقدمهم بانعتاقهم من الكنيسة وتحررهم من قيودها وتجبرها وتسلطها عليهم، فأخذ المسلمون ذلك وقاسوه على واقعهم السيئ وعلى التخلف الذي يعيشونه فأخذوا عن الغرب كل شيء، وظنوا أن السبب في تخلفهم هو الإسلام وإذا استمروا بالتمسك به فهو يعني أنهم سيبقون يعانون التخلف، واقتنعوا أن الإسلام دين رجعي متخلف، سيعيدهم إلى الوراء قروناً عديدة.

أنتج هذا عند الأمة انهزاما في الشخصية، وعدم ثقتهم بدينهم بالرغم من تمسكهم به كعقيدة وعبادات وبعض المعاملات، لكنهم لا يريدونه نظامًا ينظم حياتهم من خلال تشريعاته وأحكامه. واختلط عند الأمة الإسلامية الحابل بالنابل ولم يميزوا ولم يفرقوا بين ما يجوز أخذه وما لا يجوز. فالمفاهيم والأفكارعندما تؤخذ يجب أن تؤخذ من الأصل الذي انبثقت عنه أو الأساس الذي بنيت عليه. والحضارة الإسلامية تقوم على العقيدة والمقياس الحلال والحرام، أما الحضارة الغربية قائمة على فصل الدين عن الحياة. فمن أجل ذلك يجب أن نكون على بينة بما نأخذ من غيرنا وما نذر.


فالنظام الرأسمالي يفصل الدين عن الحياة ويصور الحياة على أنها منافع، ويجعل المنفعة مقياساً لأعمال الإنسان، ويسقط من اعتباره كل قيمة في الحياة سوى القيمة المادية، ويُعرف السعادة بأنها الأخذ بأكبر نصيب من المتع الجسدية. فأنتجت الحضارة الغربية الشقاء والقلق للفرد والمجتمع، وكثر القتل والزنا والانتحار والإدمان على المخدرات وشذوذ العلاقات. هذا الواقع المنحط والمزري الذي وصلت إليه المجتمعات في الغرب، والعقلية التي يفكر فيها الغرب عقلية مادية لا تؤمن إلا بالمحسوس والملموس ولتحييد الجانب الروحي وحصره في الكنائس، أرادت أن ترقع هذا الواقع وتعطي الفرد ما تعتقد أنه سيجلب له السعادة أو الراحة، فاخترعوا له أياماً سموها أعياداً لتشعره بأنه حصل على السعادة أو بعض منها. ولأن عطلهم وأعيادهم نابعة من وجهة نظرهم عن الحياة فلا يجوز لنا بصفتنا مسلمين مشاركتهم احتفالاتهم ولو بتكثير سواد، فلماذا ننخدع بالرأي أو الرأي الآخر، ولماذا نشعر بالضغط أنه علينا "الاحتفال" بهذه الأعياد الوثنية في حقيقتها؟ هل ترى من الكفار من يحتفل بعيد الفطر أو الأضحى المباركين بحجة التعايش بين الأديان؟ كلا بل إن الغرب الكافر فرض علينا الكفر في أدق تفاصيل حياتنا حتى صرنا نروج لأفكاره المنحطة بتركنا إسلامنا العظيم جانبًا وأقررنا بالهزيمة، وإن كانت في تفاصيل لا نراها مهمة، فهذا يعني إننا رضينا وتابعنا فيما تقوم به هذه الأنظمة الفاسقة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم عاصم الطويل

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست