December 10, 2014

خبر وتعليق العلمانية وفشلها في إيجاد العدالة في العالم


الخبر:


"نحن نعيش في نظام الكفاءة والمساواة وتكافؤ الفرص، ولكن بين ذوي الثروة والسلطة والمشاهير فقط" [ديريك بيل].


لقد حصلت في الأسبوع الماضي ثلاثة حوادث تؤكد إساءة تطبيق العدالة، وتلخص الأزمة التي تواجه العلمانية العالمية، وعدم قدرتها على تحقيق العدل في أي ركن من الأرض، وهي: قرار هيئة المحلفين المروع في تبرئة ضباط الشرطة بتهمة قتل "إريك غارنر" في الولايات المتحدة، وتبرئة حسني مبارك، وفشل المحكمة الجنائية الدولية في محاكمة الرئيس "أوهورو كينياتا" بتهمة ارتكاب جرائم حرب.

التعليق:


شيء فريد من نوعه وغير مسبوق في العالم يكشف عن مرحلة فيها حالات متزايدة من إساءة تطبيق العدالة، ليس في دول العالم الثالث مثل مصر فقط، بل وأيضاً في القوة العظمى العالمية (أمريكا)، فضلا عن المؤسسات الدولية مثل المحكمة الجنائية الدولية. وأصبح الناس العاديون في كل مكان في العالم يشعرون بأنهم ضحايا حقيقيون، في حين أن الأغنياء والأقوياء قادرون على التعامل مع العمليات القضائية بالتهرب من الاتهامات أو العقوبات الجنائية.


جحافل كبيرة من الناس احتجت غاضبة في أمريكا على الممارسات القضائية التي برّأت ضابط الشرطة الأبيض لقتله رجلا أسود أعزل. فقد فشل النظام القضائي الأمريكي في محاكمة الضابطين الأبيضين اللذين قتلا "تشارلي براون" و"إريك غارنر"، على الرغم من وجود أدلة قاطعة تثبت إدانتهما. وقد أجّجت الأحكام القضائية المعيبة هذه التوترات العرقية في وسط السود الذين اتهموا النظام القانوني الأمريكي بظلمه لهم. ولا يوجد جديد في هذا الحال، ففي شباط/ فبراير 1968م، نشرت اللجنة الوطنية الاستشارية للاضطرابات المدنية، والمعروفة باسم لجنة كيرنر، نتائجها عن أعمال الشغب العرقية في الولايات المتحدة عام 1967م، وذكرت: "إن أمتنا تتجه نحو مجتمعين، أسود وأبيض بشكل غير متكافئ"، والآن وبعد 47 عاما يتكرر المشهد مرة ثانية. وخلال الفترة 2005 - 2012م كان يُقتل في كل أسبوع ما يقرب اثنين من السود في الولايات المتحدة الأمريكية على يد رجال شرطة بيض. وقد خلص تقرير صادر عن لجنة محايدة إلى تعرض أكثر من 1,217 لعيار ناري قاتل من قبل الشرطة ما بين عامي 2010 - 2012م، وقد كان الشباب الذكور السود أكثر عرضة بـ21 مرة لرصاص الشرطة من نظرائهم البيض، وبالتالي، فإن التمييز العنصري في القضاء هو سيد الموقف في الحياة الأمريكية. ووسائل الإعلام الأمريكية تبذل قصارى جهدها في منع وصول مثل هذه الروايات السلبية إلى الشواطئ الأجنبية، وبهذه الطريقة، لا يزال العالم القديم غير مطّلع على ظلم العلمانية الأمريكية الداخلي، لكنه يشهد عليه في استعمارها المباشر لكثير من بلدان العالم الثالث.


أما في الشرق الأوسط، فإن الاستبداد العلماني للسيسي وصل إلى العفو عن الديكتاتور المستبد حسني مبارك بلا خجل، وقد ردت المحكمة التهم ضد مبارك في قتله العشرات من المتظاهرين لمطالبتهم بإنهاء حكمه الذي استمر لأكثر من ثلاثين عاما من القهر، وبرّأت أيضا رئيس جهاز الأمن، وعددا من كبار مسئولي الشرطة، ولم يفسّر القاضي رشيدي رفضه لاتهامات القتل تلك. ولزيادة الطين بلة، برّأت المحكمة رجال أعمال وأثرياء من تهم الفساد، منهم نجلا مبارك، اللذان جمعا ثروة هائلة تفوق السبعين مليار دولار خلال العقود الثلاثة من حكم مبارك. وقد قال سيد عبد اللطيف (وهو أحد المتظاهرين من ذوي أحد الذين قتلوا على يد الشرطة في الاحتجاجات ضد نظام مبارك): "كنا نظن أن السيسي سيعيد لنا حقوقنا، لكن تبيّن أنه واحد منهم". وبالتالي فإن السيسي قد استخدم النظام القضائي لقلب مفهوم العدالة رأسا على عقب؛ فقد برأ مبارك والمقربين منه، في حين حكم على المئات من المصريين العاديين بالإعدام، دون أية إجراءات قضائية سليمة أو أدلة ملموسة تثبت تورطهم.


وفي كينيا، علق الكثيرون آمالهم على المحكمة الجنائية الدولية العلمانية لمعاقبة "أوهورو كينياتا"، على الدور الذي لعبه في مذبحة خلّفت أكثر من ألف، في أعقاب الانتخابات الرئاسية في عام 2007م، ولكن المحكمة أسقطت خمس تهم موجهة ضده عن ارتكابه لجرائم ضد الإنسانية قبل سبع سنوات، وقال المدعي العام للمحكمة (فاتو بنسودا) أنه لم يكن لديه أي خيار سوى سحب التهم، مبرراً قراره بأنه: "لم ترق الأدلة إلى درجة إثبات المسئولية الجنائية المزعومة ضد السيد كينياتا، فالأدلة لم تكن حاسمة بشأن العنف الذي حصل عام 2007 - 2008م بعد الانتخابات، حيث لا يمكن الوصول إليها إلا بمساعدة الحكومة في كينيا، لكنها لم تقدم تلك المساعدة في نهاية المطاف". وهذا الإعلان يدل بوضوح على تقصير المحكمة الجنائية الدولية، في اعتمادها على حكومة (كينياتا) في تزويدها بالأدلة لمحاكمته.


هذه الأخطاء القضائية ليست سوى غيض من فيض من سلسلة الفشل القضائي للعلمانية العالمية، التي لم توفر العدالة لعامة الناس، وأعفت الأغنياء والأقوياء من المسئولية والعقوبات الجنائية.


إن السبب الجذري وراء فشل العلمانية في إيجاد العدالة يكمن في حقيقة أن التشريع بيد البشر، من أصحاب المصالح المتنفّذين الذين يسنّون القوانين لحماية مصالحهم ومصالح الأغنياء والأقوياء على حساب بقية المجتمع والإنسانية.


بينما العدالة في الإسلام تقوم على تشريع خالق البشرية الله سبحانه وتعالى، ولا يمكن لغني أو قوي، أسود أو أبيض، مسلم أو غير مسلم تغيير القوانين التي وضعها الخالق لحماية مصالحه. قال الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ [المائدة: 8]


لقد كان تاريخ الحكم بالإسلام في ظل دولة الخلافة نموذجا يُحتذى به عند البشرية جمعاء، ولم يسبق لإنجازات دولة الخلافة أن كان لها مثيل في تاريخ البشرية.


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أبو هاشم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست