خبر وتعليق    العنف الطلابي نتاج الديمقراطية   (مترجم)
October 20, 2014

خبر وتعليق العنف الطلابي نتاج الديمقراطية (مترجم)


الخبر:


إن قضية البلطجة تجاه أحد الطلاب في إحدى مدارس بوكيتنغي الابتدائية في غرب سومطرة في إندونيسيا لأمر فظيع جداً، وقد صرحت العديد من الأوساط الإعلامية في 10 أكتوبر 2014 بأن سبعة من طلاب المدرسة الابتدائية اعتدوا على فتاة زميلة لهم باللكم والركل، والأمر المحزن بأن واحداً من منفذي العمل البشع صوّر فعله بكل فخر، ونحن جميعا نشعر بالقلق إزاء حالات العنف المستمر من قبل أطفال يعتدون على من هم في جيلهم، وإنه شيء مثير للشفقة أكثر يوما بعد يوم كشف المزيد من الحالات التي أظهرت وحشية أعمال العنف للقاصرين، هناك في الوقت الحاضر ما لا يقل عن 10 حالات من العنف إلى جانب الفيديو المصور لحادثة العنف من الطلاب في المدرسة الابتدائية في بوكيتنغي، ويجري التعامل معها من قبل لجنة حماية الطفل الإندونيسية، ويفترض في هذا الظرف أن يكون المحفز للجميع التفكير في مشروع تسوية جديد، لأنه قد ثبت أن المعالجة الحالية والتنظيم قد فشلت في حل المشاكل. (صحيفة الجمهورية، 14 أكتوبر 2014).

التعليق:


من المهم التأكيد على أن المشكلة الجذرية للعنف التي تواجه هذا الجيل من الأمة هي مشكلة تتعلق بالنظام، لذلك فإن خطوة الوساطة بين أسرة الضحية ومنفذي الاعتداءات، ومعاقبة الإداريين للمدرسين ذوي العلاقة، وزيادة الإشراف على المدارس، وتحسين طريقة تعليم المعلم وزيادة حصص بناء الشخصية لن تجدي نفعا إذا كانت لا تستند إلى الوعي تجاه هذه المسألة الأساسية الشمولية.


وبعبارة أخرى، ينبغي أن ندرك أن الديمقراطية والحرية هما العامل الرئيسي للمشاكل، لذلك فإن مفهوم البلطجة في تلك القضية، والعنف في حالات أخرى مماثلة هما سلوك مشوه نتاج الحرية، فالحرية هي القيمة الرئيسية في نظام الديمقراطية التي تتبنى أيضا مبدأ البقاء للأصلح، حيث الأقوياء هم من يبقون على قيد الحياة، أما انتشار حالات العنف لدى الطلاب في المدارس - بما في ذلك المدارس الابتدائية - هو أفضل وصف لتطبيق هذا المبدأ، حيث يتم مراقبة أقوى وأشجع طالب أو طفل من قبل أصدقائه في مرحلة البلوغ، وهذا يؤدي إلى الفوضى.


والعامل الآخر هو الضعف في دور الأسرة، حيث الضغط المادي على الأسرة في المجتمع الرأسمالي كما في أيامنا هذه من الضائقة الاقتصادية والفقر، فالآباء هم أكثر انشغالاً بكسب بعض الأجور من إعطاء ما يكفي من الوقت والاهتمام والحب لأطفالهم، أما في أسرة لديها حالة اقتصادية أفضل، فإنه في هذه الحالة الأمهات غير عاملات ويقضين وقتهن في الأنشطة العامة، كما هي الحال في عالم الأعمال أو في حياة شخصية بارزة في المجتمع.


وهناك أيضا الإشراف غير الكافي من قبل المدارس والاهتمام من قبل الناس، حيث إن الكشف المبكر عن هذه الأمور هو وظيفة يتعين القيام بها من قبل المدرسة وفي الحي، ولذلك فإنه عندما تظهر مثل تلك التصرفات السيئة كالكلمات النابية والبلطجة والعنف في المدارس أو الحي ينبغي إيلاء اهتمام أكبر لمعالجة هذا السلوك ووقفه، كي لا يستمر ويضر بالآخرين.


أما تجاهل الحكومة فيساهم أكثر في نشر هذه التصرفات، فثقافة العنف تدخل لعالم الأطفال من خلال البرامج التلفزيونية، والأفلام، والكاريكاتير وألعاب الفيديو، أما الحكومة فليست صارمة جداً في إلغاء تلك الأنواع من البرامج المدمرة نظراً لأنها تقصر في الإشراف، وتعطي قدرا أقل من الاهتمام، وقد تهتم أكثر في الربح، وقد أهملت الحكومة الالتزام بحماية الأطفال من خطورة وسائل الإعلام، ولا تدعم دور الآباء والأمهات والمدارس في تنشئة هذا الجيل على الشخصية النبيلة.


إن كان هدفنا أن لا يفقد هذا البلد الموارد البشرية القادرة على صنع المستقبل، فنحن بحاجة إلى استبدال النظام للتقليل من هذه المشاكل، والنظام البديل هو الإسلام كمبدأ والخلافة الإسلامية كنموذج، ففي الدولة الإسلامية (الخلافة الإسلامية على منهاج النبوة) سوف يؤدي الآباء دورهم وتعطى مناهج التعليم للأطفال وفقا للإسلام التي من خلالها يتعلمون السلوك السوي، وسوف يتعلمون أيضا الكلمات المناسبة، وكيفية رعاية إخوانهم أو أخواتهم وغيرهم، وسوف يتعلمون أيضا الوفاء باحتياجاتهم واختيار العمل الصحيح للقيام بذلك، وهكذا في المستقبل سوف يصبحون أناساً مطيعين ويحيون وفق الأحكام الإسلامية، وسيكون للآباء والأمهات ما يكفي من الوقت والاهتمام لأسرهم وفق النظام الاقتصادي الإسلامي مما ينتج عن ذلك مجتمع مزدهر عادل، وسيُبنى المجتمع على مبدأ الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.


وسوف تقوم دولة الخلافة بالقضاء على جميع مصادر العنف كبرامج التلفاز والألعاب وغيرها، بالإضافة لفرضها عقوبات صارمة على المخالفين، ولا ننسى أن في الإسلام نظام عقوبات عادلاً.


حان الوقت لتغيير النظام الديمقراطي الرأسمالي المدمر بالنظام الإسلامي الذي ينسجم مع الحياة، وعلينا أن نعي ذلك وننفذه فورا!


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾




كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عفّة أينور رحمة
الناطقة الرسمية لحزب التحرير - قسم النساء / إندونيسيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست