خبر وتعليق   الأردن سيدفع لكيان يهود ثمانية مليارات دولار بصفقة غاز
November 15, 2014

خبر وتعليق الأردن سيدفع لكيان يهود ثمانية مليارات دولار بصفقة غاز



الخبر:


ذكرت الجزيرة نت بتاريخ 2014/11/11م أن دراسة تفصيلية أعدها خبير دولي في مجال الطاقة (ميكا مينيو بالويلو) من مركز أبحاث "بلاتفورم" في لندن كشفت "عن عزم الأردن دفع نحو 8.4 مليارات دولار للحكومة الإسرائيلية مباشرة ضمن صفقة غاز ستوقعها الحكومة الأردنية مع شركة "نوبل إنيرجي الأميركية" التي تشكل واجهة استثمار إسرائيل في حقول غاز شرق المتوسط "ليفياثان".


من جهته نفى وزير الطاقة الأردني محمد حامد للجزيرة نت وجود أي اتفاقية بين الحكومة الأردنية وإسرائيل لاستيراد الغاز، معتبرا أن الاتفاقية هي بين شركة "نوبل إنيرجي الأميركية" وشركة الكهرباء الوطنية، وتم توقيع خطاب النوايا بشأنها برعاية أميركية.


وبحسب الدراسة فإن الشركات المالكة لحقوق استخراج الغاز ستحصل على 4.9 مليارات دولار، حيث ستحصل الشركات الإسرائيلية ديليك وآفنير وراشيو التي تمتلك 61% من حقوق الاستخراج على مبلغ 2.93 مليار دولار، فيما ستحصل نوبل إنيرجي الأميركية التي تملك 39% من حقوق الاستخراج على مبلغ 1.93 مليار دولار. أما بقية المبلغ والمقدرة بنحو 1.7 مليار دولار، فقالت الدراسة إنها تغطي تكاليف الحفر والاستخراج والإدارة.


وتتساءل رئيسة تحرير صحيفة "الغد" الأردنية جمانة غنيمات عن سبب ما تراه استعجالا حكوميا في التوقيع مع شركة تسوق الغاز الإسرائيلي الذي يحتاج ثلاث سنوات لوصوله للأردن، وخلالها هناك العديد من البدائل التي تستغرب إغفالها من قبل الحكومة.


وقالت غنيمات للجزيرة نت "الآن مصير مياهنا مرهون بشكل كبير لإسرائيل، واليوم يراد ربط مصير 75% من حاجتنا للغاز بإسرائيل، أي إن أهم قطاعين حيويين بإسرائيل سيجعل الأردن مرتهنا لإسرائيل".


وتابعت "لم نحصل على سعر تفضيلي لنستعجل، فالسعر يتراوح بين سبعة دولارات وتسعة دولارات لكل مليون قدم مكعب،


جدير بالذكر أن قيمة الصفقة تبلغ 15 مليار دولار، وقد بلغت تكلفة الحرب الأخيرة على غزة مبلغ 2.52 مليار دولار، أي أن الأردن سيمول بهذا ما يكافئ حربا على غزة كل سنتين."

التعليق:


لا يشك عاقل أن القرار السياسي الأردني مرتهن للغرب الكافر، فها هي آنيا فيلر خبيرة قضايا الشرق الأوسط الألمانية ورئيسة فرع مؤسسة فريدريش ايبرت الألمانية في عمان قالت ما نصه «استقرار الأردن جاء بفضل جهود الولايات المتحدة الأمريكية وحلفاء الأردن وليس بفضل الأردنيين وحدهم، إذ يحرص حلفاء الأردن على جعله جزيرة هادئة وسط هذا البحر المضطرب والمتقلب». وتتابع فيلر قائلة «النظام الأردني من أكبر حلفاء الولايات المتحدة والمملكة العربية السعودية. ومعروف أن الأردن يعتمد على هذين البلدين بشكل أساسي، للحصول على المساعدات سواء عسكرية أو مادية. ولهذا يمكن القول إن هامش التحرك ضعيف جدا بالنسبة للأردنيين.. استراتيجيا، تسعى عمّان إلى الحفاظ على علاقات جيدة مع الرياض وواشنطن. والدخول في هذا التحالف كان قرارا استراتيجيا» فالأردن إذن ما زال مستعمرة ترتع الدول الغربية فيها وتقرر ما تشاء وهامش التحرك فيها لساسة البلد كانت محدودة بخدمات المياه والمجاري والكهرباء والنظافة، إلا أن الغرب تفكر في وضع المنطقة بعد الربيع العربي، فرأى أن قطاعي المياه والكهرباء لا بد أن يكونا بيد الغرب ويده التي يبطش بها، كيان يهود، فما كان من الحكومة الأردنية إلا أن ترضخ، فبلا سعر تفضيلي، وبلا دراسة خيارات، تقوم مذعنة بوضع أمن طاقة البلاد والعباد بيد أعدائهم، وتمنحهم ما يكافئ كلفة سبعة حروب على غزة، بمعدل حرب كل سنتين يدفع المواطن الأردني تكلفة تلك الحروب من كده وعرقه، فلا بارك الله بهذه الحكومة ولا بهذه المملكة التي ما عدت أن تكون دولة ضرار على الأمة الإسلامية، تترك رعاياها أضيع من الأيتام على مأدبة اللئام.


إذن لم يبق في يد صانع القرار السياسي الأردني سوى خدمات النظافة والمجاري، وجباية الضرائب من الناس لتمويل حروب كيان يهود على غزة،


الأردن جزء من بلاد الشام، أرض الرباط، ولم يكن أبدا ليكون دمية بيد أعداء الأمة من أمريكان وغربيين ويهود لولا إجرام الطغمة الحاكمة، لولا عداء هذه الطغمة الحاكمة الفعلي لأبناء البلد، وإلا فهل يُسلم راع حقيقي يحرص على رعيته تلك الرعية لأشد الناس عداوة للذين آمنوا لولا أنه شريك لهم في تلك العداوة؟ هل يُسلم أمنهم وسياساتهم ورعاية مصالحهم لأعدائهم لولا أنه من جنس أولئك الأعداء؟


أما آن لخير أمة أخرجت للناس أن تخلع أنظمة الضرار هذه وتقيم مكانهم خلافة راشدة على منهاج النبوة تحرس دينهم ودنياهم وتكون لهم درعا منيعة تمنع عنهم كيد أعدائهم؟

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أبو مالك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست