November 10, 2014

خبر وتعليق الاتجار بالبشر والرق الحديث من نتائج النظام الرأسمالي الغربي (مترجم)


الخبر:


انقلب قارب يتسع لثمانية أشخاص في مدخل مضيق البوسفور يوم الاثنين، 3 تشرين الثاني/نوفمبر، بينما كان على متنه 42 شخصاً من المهاجرين غير الشرعيين، وقد أدى هذا الحادث إلى مقتل 10 أطفال، و4 نساء و10 رجال، في حين تم إنقاذ ستة فقط من الرجال، وما زال البحث جارياً عن المفقودين بما في ذلك طفلين وثلاث نساء، أما هؤلاء المهاجرين غير الشرعيين فقد دفع كل واحد منهم مبلغ 7000 يورو لهذه الرحلة المفعمة بالأمل، في محاولة للوصول إلى رومانيا أو أوروبا عبر البحر... هذه القصة توجه الأنظار مرة أخرى لواقع الاتجار بالبشر في جميع أنحاء العالم، ولا سيما في تركيا.


التعليق:


هناك أخبار كل يوم تقريبا حول لاجئين يحاولون الوصول إلى حياة أفضل في ما يسمى بأوروبا الأفضل، ففي أول 3 أيام من تشرين الثاني/نوفمبر تم القبض على 51 من المهاجرين غير الشرعيين على شواطئ بحر إيجة، بما في ذلك النساء والأطفال، وفي أيلول/سبتمبر، غرق 61 شخصا من بينهم 3 رضّع، و28 طفلا و18 امرأة بعد غرق زورق محمل بشكل زائد بأكثر من 100 مهاجر في عرض البحر في أزمير.


إن الحروب المستمرة ونظام القمع والفقر هي بعض الأسباب الرئيسية التي تجبر الناس على الهجرة، حيث يحاول أكثر من 800 ألف شخص في العالم كل سنة الوصول إلى حياة أفضل عن طريق الهجرة غير الشرعية. ولتركيا، كبلد الهدف والمصدر والعبور نظراً لموقعها الجغرافي، أهمية خاصة فيما يتعلق بمسألة الهجرة، ولكن هذا يجعل تركيا أيضا سوقاً ضخمة للمتاجرين بالبشر، وجعلها تكسب حوالي 300 مليون دولار أمريكي من خلال الهجرة إلى أوروبا و7 مليار دولار لأمريكا. لقد تم القبض على 829 ألف مهاجر غير شرعي حتى بداية عام 2013، وبين الأعوام 2004-2013، أصبح 1321 شخصا ضحايا للاتجار بالبشر في تركيا، ووفقا لبيانات الأمم المتحدة، فإن 800 ألف إلى 2.5 مليون من النساء والرجال والأطفال هم عرضة للاتجار بالبشر سواء في بلدانهم أو من خلال عبور الحدود.


على الرغم من معرفة مخاطر السفر عبر البحار، وخاصة للمسلمين الذين يخاطرون بحياتهم من أجل الوصول إلى البلدان الأوروبية، إلا أن اللوم في ضياع المال والحياة لا يقع عليهم، وإنما على البلدان الإسلامية ولا سيما تركيا، لأنه في النظام الرأسمالي، والذي يعطي الفرصة للحصول على أرباح من ظلم الشعوب، فإن من لا يقع في أيدي المتاجرين بالبشر يصبح من ضحايا نظام الرق الحديث، ووفقا للأرقام التي نشرها مركز تركيا للعلاقات الدولية، والبحوث الاستراتيجية في عام 2013، فإن حوالي 250 ألفاً من المهاجرين القانونيين، وما يقرب من 300 ألف من المهاجرين غير الشرعيين، يدخلون تركيا أو يسافرون عبرها كل عام، وقيل أن عدد العمال غير الشرعيين يصل في أشهر الصيف إلى 500 ألف، والذين يُستغلون في العمل في المناطق السياحية، وفي حقول الشاي من المقاطعات الشمالية الشرقية، وفي الزراعة في تراقيا، والخدمة المنزلية، والبناء والصناعات النسيجية، وأخيراً وللأسف في صناعة الترفيه.


يمكن بسهولة رؤية ما يعانيه المهاجرون من البؤس، وكمثال على ذلك اللاجئون السوريون في تركيا، وتناقش تركيا هذه الأيام، والتي تفتخر باحتضان أكثر من 1.5 مليون سوري، و200 ألف شخص من كوبان، و300 ألف من اليزيديين، وفي المجموع حوالي 1.8 مليون من المهاجرين، تناقش تكلفة استقبال هؤلاء المهاجرين، وقد ذكر وزير الصحة مويزينوجلو أن الحكومة أنفقت ما يصل إلى 4.5 مليار دولار حتى اليوم على المهاجرين، بينما مقدار المعونة الدولية هو فقط حوالي 150 مليون دولار، ومع ذلك يبدو أن هذا المال لم يوفر حياة سهلة للاجئين السوريين، فكل يوم هناك المزيد من اللاجئين يلتمسون السبل لمغادرة المخيمات في محاولة للوقوف على أقدامهم، فيقع في هذه المحاولة مئات اللاجئين كضحايا للاستغلال الرأسمالي عن طريق أيدي أرباب العمل الطامعين.


إن أجر مهاجر سوري، لا سيما في صناعة النسيج وصناعة الملابس، هو 42 سنتا في الساعة، وذلك أدنى مما يتلقاه الموظف في بنغلاديش وهو 62 سنتا، بالإضافة إلى زيادة البطالة بين العمال الأتراك أيضا، وبينما يتلقى العمال السوريون في اسطنبول 600-800 ليرة شهريا، فإنهم يتلقون في شرق وجنوب - شرق البلاد 240-500 ليرة فقط، وهذا يعني أن الأجور في الساعة 42 سنتا فقط، بينما يعملون 10 ساعات في اليوم و6 أيام في الأسبوع، بينما الطعام اليومي للموظف السوري حسب سياسة رب العمل، ومع ذلك تبلغ تكاليف المعيشة اليومية للعمال المسجلين 5.48 دولار.


في مواجهة هذا الاستغلال واليأس، من السهل أن نفهم لماذا الناس مستعدون للمخاطرة بحياتهم وحياة النساء والأطفال حتى بعد الوصول إلى بلد مسلم، ففي حال كانت الرعاية في البلدان المسلمة، وفي مقدمتها تركيا، للناس الذين يلتمسون اللجوء على أراضيها وفقا لما قام به رسول الله صلى الله عليه والسلام والخلفاء من بعده، بتأمين السلامة لهم، وتوفير الفرص والرفاهية في أي جانب من جوانب الحياة؛ فإن آلاف الناس لن ينتهي المطاف بهم كعبيد للرأسمالية، وكسلع في أيدي المتاجرين بالرق أو فقدان حياتهم بطريقة وحشية، مرة أخرى فإن المشكلة الرئيسية هي أن المسلمين لا يدركون بالفعل أنهم في بلد غربي عند وصولهم إلى تركيا، فتركيا تطبق النظام الرأسمالي العلماني الغربي بجميع ما فيه من العلل؛ قوانينه ونظامه، والاقتصاد والعقوبات الزائفة أيضا ضد أولئك الذين يتجرؤون على إيذاء الأبرياء، وهؤلاء المهاجرون الذين يتمكنون من الوصول إلى البلدان الغربية، في نهاية المطاف وتحت ظروف غير إنسانية، يعاملون باستمرار - ليس فقط جسديا أو اقتصاديا - كأدوات في جدول أعمال السياسيين الذين يبحثون عن العلمانية، في خلق الخوف ضد الأجانب، والإسلام، وتحقيق أهدافهم بمساعدة هؤلاء المهاجرين، أي أن إذلال واستغلال الأمة مستمر داخل وخارج أراضيهم وذلك فقط بسبب السياسات الاستعمارية لهذه الدول الغربية، فجميع الحروب في البلدان الإسلامية تخدم وجود البلدان الغربية. ولذلك، لن يقدم الغرب لأولئك الذين يصلون إلى أراضيه ما هو أفضل، لذا بدلاً من البحث عن الكرامة والرفاهية في الغرب، فإن الحل الوحيد ضد أي نوع من الإذلال يكمن فقط في الإسلام، وسنكون قادرين على جني ثمار الإسلام في حال تم تطبيقه تطبيقا شاملا وفوريا.


وقد نطق عمر بن الخطاب رضي الله عنه الحق، وهو صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم، حين قال: "نحن قوم أعزنا الله بالإسلام فإن ابتغينا العزة بغيره أذلنا الله."


كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أم خالد
عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست