December 21, 2014

خبر وتعليق العودة إلى النظام الإسلامي خير من الهروب إلى الواقع الافتراضي

الخبر:


ورد على موقع العربية نت بتاريخ 18 كانون الأول/ ديسمبر 2014 بأن عملة "بيتكوين" الرقمية Bitcoin صنفت بأنها أسوأ استثمار مالي في 2014، وذلك بعد الانخفاض الشديد الذي شهدته قيمة العملة خلال العام الجاري.


وكانت قيمة "بيتكوين" قد وصلت لأعلى مستوى لها هذا العام في السادس من يناير الماضي بعد أن بلغت قيمة العملة الواحدة نحو 917 دولارا، إلا أنها انخفضت في ديسمبر لأقل من حاجز 330 دولارا.


ورغم الانتكاسات الكبيرة لعملة "بيتكوين" الرقمية في 2014، إلا أن العام الجاري كان واحدا من أبرز الأعوام للعملة فيما يتعلق بالاعتراف بها كقيمة يمكن استخدامها بعمليات البيع والشراء الإلكتروني خارج السوق السوداء.

التعليق:


عندما فكرت الجماعات الإنسانية باستخدام النقود كوحدة قياس للسلع والجهود بدلا من المقايضة كان الذهب والفضة هما المعدنين اللذين استُعملا كأساس للنظام المعدني الواحد قبل الإسلام، واستمر العمل بهما في الدولة الإسلامية ولكن بنظام المعدنين ولم يتوقف التعامل بهما إلا قبيل الحرب العالمية الأولى إلى ما بعدها حين حصلت أزمة مالية عام 1929م فعاد استعمالهما ولكن بشكل جزئي ثم تناقص إلى أن ألغي رسميا عام 1971م وحل مكانهما النقود الورقية الخالية من الغطاء الذهبي أو الفضي إلى الآن.


وبسبب أن قيمة الأوراق النقدية ليست في ذاتها وإنما تستمدها من القانون الذي تفرضه كل دولة لعملتها، فقد استطاعت الدول الاستعمارية التحكم والتلاعب بنقد العالم وفق مصالحها، فنتجت مشاكل اقتصادية وانهيارات مالية أبرزها عامي 1987م و 2008م، وبدلا من حل المشكلة بالرجوع إلى قاعدة الذهب والفضة أقدمت البنوك المركزية على إصدار النقود الإلزامية وبكميات أدت إلى حدوث التضخم فقلّت القيمة الشرائية وازدادت الأسعار وبشكل متزايد.


ولأن ما تفرضه البنوك من سياسة نقدية متحكمة وما تستفيده من المبادلات بين السلع بدخولها كطرف ثالث أو مقرض، وتخوف الشركات من التقلبات النقدية، أخذ البعض يفكرون في البحث عن بدائل يُظَن أنها يمكن أن تحميهم وتريحهم من تدخل الحكومات والبنوك المركزية التابعة لها، فقام مبرمج إلكتروني مجهول عام 2009م بابتكار عملة إلكترونية (افتراضية) للتعامل بها كأسلوب جديد للمبادلات يعتمد على استخدام التقنية في إصدار العملات واستخدامها كوسيط بدلا من الأوراق النقدية المعروفة، أطلق عليها اسم "البتكوين"، وأينما تصفحت عنها في المواقع تجدهم يذكرون العبارة التالية أو ما في معناها: "وهذه العملة لا مركزية إذ إنها لا تتبع إلى جهة مركزية أو حكومية أو هيئة تنظيمية وهي تقوم على تعامل الند للند دون تدخل جهات أخرى مثل البنوك وغير ذلك".


إن النظام الاقتصادي الرأسمالي القائم على المنفعة والمصلحة مهما حاول خبراؤه البحث عن حلول للمشاكل الاقتصادية فإنهم لن يتوصلوا إلى أي حل صحيح لأنهم ينظرون إلى قيمة الشيء باعتبار ما فيه من فائدة وقدرة على الاستبدال به ووجود من يرغب فيه دون الالتفات إلى ما ينتج عنه من أضرار، يقول (غافين أندرسن) الذي يدير عملة البتكوين رداً على تساؤل الناس: من أين تحصل العملة على قيمتها إذا كانت مجرد عدد من الأرقام التي لا دعم حكومي لها ولا أصل مادي كالذهب أو السندات الحكومية التي تعطيها وزنها؟ فيجيب: "بأن للعملة قيمة لأنها مفيدة، وبالتالي يمكن استخدامها للشراء، ومن يحصل عليها يمكنه إعادة استخدامها في المشتريات وغير ذلك".


ويقول آخر: "كل ما هو مطلوب لشكل ما من أشكال الأموال لكي يصبح ذا قيمة هو الثقة به وتبنيه، وفي حالة البتكوين، يمكن قياس هذا بقاعدتها المتنامية من المستخدمين والتجار والشركات الناشئة، وكما في جميع العملات الأخرى، يستمد البتكوين قيمته فقط وحصرياً من الناس الراغبين في قبوله كطريقة دفع".


إن هذه العملة الإلكترونية الرقمية والتي يمكن استخدامها كأي عملة أخرى للشراء عبر الإنترنت أو حتى تحويلها إلى العملات التقليدية كالدولار وغيره فإنها لم ولن تفلت من القرصنة واستغلال المستثمرين الجشعين لها وتحويل ما يتداول منها إلى أرصدتهم بالعملات التقليدية بعد أن يكون التعامل بها قد قفز إلى مستوى عالٍ، فعندما وصلت قيمة العملة إلى مستوى 1300 دولارا في الشهر الأخير من العام الماضي فإنه تراجع سريعا إلى 917 دولارا في بداية العام الحالي أي بعد شهر واحد فقط، ثم بعد شهرين هبط إلى 667 دولارا بسبب قيام الصين وروسيا بحظر التعامل بها، واستمر الهبوط إلى أدنى مستوى لها حسب ما ورد في الخبر أعلاه وهو 330 دولارا فاعتبرت بأنها أسوأ استثمار مالي في العام الحالي.


لقد بتنا نشهد بسبب غياب التفكير المنتج والمسئول عن الغير، هروبا من الواقع الحقيقي إلى الواقع الافتراضي الخيالي، فكما أن هناك عالما حقيقيا فهناك عالم افتراضي، وهناك بيئة افتراضية وشخصيات افتراضية، وكذلك الأسواق الافتراضية والاقتصاد الافتراضي، وأخيرا العملة الافتراضية.


إن العودة إلى الواقع الحقيقي، ومن ثم النهوض النهضة الصحيحة لهذه المجتمعات الرأسمالية لن يكون إلا بإزالة النظام الرأسمالي من جذوره وإحلال النظام الإسلامي مكانه فتطبقه الدولة الإسلامية، الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، وما عدا ذلك فهو حلول ترقيعية وهروب من واقع سيئ إلى آخر أكثر سوءا وضنك في العيش مستمر ومتفاقم.


﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكاً﴾

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
أختكم: راضية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست