February 01, 2015

خبر وتعليق الأزمة الأوكرانية، مثال على فشل القانون الدولي! (مترجم)


الخبر:


ذكر موقع زد إن الأوكراني أنه في الخامس والعشرين من كانون الثاني عام 2015 عقدت دورة استثنائية لمجلس الأمن التابع للأمم المتحدة بشأن الهجوم على ماريوبول. لم يسمح لممثلي الاتحاد الروسي الذين لهم حق النقض بالموافقة على بيان مجلس الأمن حول الأحداث في ماريوبول. وذكرت خدمة الإعلام الروسية في الأمم المتحدة تعليقا على الاتهامات أنهم لم يوافقوا على بيان مجلس الأمن بسبب لندن، "منذ أصر الوفد البريطاني على إدانة مجلس الأمن الدولي لبعض التصريحات لبعض المتمردين".


التعليق:


خلال عام كامل، قال المحللون السياسيون والمسؤولون أن ضم شبه جزيرة القرم من قبل روسيا محفوف بالانتهاكات لمعايير ثابتة للقانون الدولي. كان هناك العديد من المحاولات الفاشلة للموافقة على قرارات وبيانات مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة بشأن الأزمة في أوكرانيا، حيث تم الاعتراض على آخرها بخصوص أحداث ماريوبول 25 يناير. واشتدت المناقشات حول انتهاك القانون الدولي بمناسبة الذكرى العشرين لمذكرة بودابست (5 ديسمبر 2014)، عندما جادل محللون حول أن انتهاك القانون الدولي بهذا المستوى سيكون له عواقب وخيمة على القانون الدولي والعلاقات الدولية، وأيضا سيحث على انتشار السلاح النووي في العالم.


اليوم كثير من الناس يميلون إلى انتقاد روسيا لانتهاكها القانون الدولي، مع ذلك، في الواقع يجب ألا ننتقد بعض الانتهاكات، ولكن النموذج الحالي للقانون الدولي نفسه.


نعم بلا شك، كشفت الأزمة الأوكرانية الشلل وعدم الكفاءة في نظام العلاقات الدولية بشكل عام. إذا كان لنا أن ندرس بعناية التطبيق العملي وانتهاكات القانون الدولي، بصرف النظر عن الأمم المتحدة أو في اتفاقات ومعاهدات معينة، فسوف ترى أن الدول التي كانت تدافع دائما على سلام الأمم وازدهارها وتروج لأهداف مثل "الحفاظ على السلام والأمن الدوليين" و"مبدأ المساواة في الحقوق وتقرير المصير للشعوب" التي يتم تأمينها في ميثاق الأمم المتحدة، ليست سوى حبر على ورق، وليس لها تأثير حقيقي على حياة المجتمع الدولي.


اسمحوا لي أن أذكر مثالين:


عندما تم انتهاك القانون الدولي بشكل واضح في عام 2003 حيث تم غزو العراق وهو دولة مستقلة دون أي قرار من مجلس الأمن الدولي. بعد ذلك أصبح واضحا للجميع أن "القلق بشأن الاستقرار الدولي" و"بحث وتدمير سلاح الدمار الشامل" لم تكن سوى ذرّ للرماد في العيون لإعادة تشكيل المنطقة نيابة على الولايات المتحدة الأمريكية.


أحيانا يستخدم حق النقض (الفيتو) من قبل بعض أعضاء مجلس الأمن لتبرير التقاعس عن العمل. وكان مثل هذا الوضع مكان لمدة ثلاث سنوات منذ عام 2011 في الأزمة السورية عندما اعتبرت الولايات المتحدة الإطاحة بعميلها بشار الأسد غير مواتية. الولايات المتحدة غضت الطرف عن كل جرائمه ضد شعبه، بما في ذلك استخدام الأسلحة الكيميائية، في نفس الوقت الذي حملت فيه المسؤولية لروسيا في التقاعس عن التصرف تجاه الأزمة، ومنذ ذلك الحين أصبحت روسيا تستخدم حق النقض في كل مرة يتم فيها عرض أي قرار حيال نظام بشار الأسد على مجلس الأمن.


لقد بان التظاهر الأمريكي بالخضوع لقرارات الأمم المتحدة عندما وصل الأمر لنشاط تنظيم "الدولة الإسلامية" بتهديد (غزو محتمل من التنظيم في كردستان العراق) الخطة الأمريكية ل"تقسيم العراق على أساس العرق والهوية الطائفية"، وقد ضربت الولايات المتحدة مواقع لتنظيم الدولة في سوريا في الثاني والعشرين من سبتمبر من دون أي قرارات لمجلس الأمن. هذا يبين لنا أن الفيتو الروسي في الأمم المتحدة ليس هو السبب في عدم التحرك الأمريكي.


هذان مثالان فقط، ولكن إذا درسنا تطبيق القانون الدولي في التاريخ فسوف نجد الكثير من هذه الحالات. كان القانون الدولي دائما أداة في يد القوى العظمى للتدخل في السياسة الداخلية للدول المستقلة من أجل مصالحها الخاصة.


النقطة الرئيسية هي أن فكرة "القانون الدولي" لا يمكن أن توجد، لأن شروط "الدولي" و"القانون" غير متوافقة. وهناك ثلاثة أسباب لذلك:


1- القانون: هو مرسوم، وهذا هو المعتمد من الهيئة التشريعية (الحاكم)، حاكم دولي لا يمكن أن يوجد بداهةً.


2- يجب أن يطبق القانون، لذلك يحتاج لآلية تطبيق. في الدولة، يتم تطبيق القانون عبر مؤسساتها، مثل الشرطة. وتطبيق هذا مستحيل دوليًا، من قبل قوات حفظ السلام للأمم المتحدة، فهي ليست سوى تحالف لقوة مسلحة من بلدان مختلفة. فإن هذه القوات لن تحمي القانون الدولي مثلاً عندما يتم تهديد دولها أو مصالحها، بل تحمي سيادتها ومصالحها الكبرى. وهذا ما حدث بالضبط في الأزمة الأوكرانية وانتهاك مذكرة بودابست، إما عن طريق المعتدي روسيا أو غيرها من الموقعين على هذه الاتفاقية.


3- ينظم القانون العلاقات بين بلدين. هذا النظام هو مناسب فقط في العلاقات بين أفراد مجتمع معين واحد، ولا يمكن أن يطبق كما يشير على دول، لأن كل دولة لها الحق السيادي في إنشاء أو تجنب العلاقات مع الدول وفقًا لمصالحها الخاصة.


4- منذ ظهور مفهوم القانون الدولي، انتشر الخلاف بين فقهاء القانون في الغرب حول طبيعة قواعده وكثير منهم شكك في القوة اللازمة له. كَنت، وهيغل وهوبز كانوا قد نفوا وجود قانون دولي مشترك.


5- ومع ذلك، في وقت لاحق تحت ضغط لوبيات القوى العظمى، أصبحت هذه الفكرة راسخة في العلاقات الدولية. وبناءً على ذلك أصبح القانون الدولي مع جميع مؤسساته، أداة للصراع بين الدول مثل الولايات المتحدة الأمريكية وروسيا وإنجلترا وفرنسا والصين، أصبحت الدول الأخرى المترتبة عليها الدول والموارد والأراضي، ضحايا الاستخدام الإجرامي لهذه الأداة من قبل القوى العظمى.


هذا هو السبب الرئيسي لعدم الاستقرار الذي انتشر في أماكن كثيرة من العالم، حيث المعاناة لأوكرانيا وشعبها ليست سوى حلقة صغيرة في سلسلة لا متناهية من جرائم القوى العظمى.



كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
فضل أمزايف
رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في أوكرانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست