خبر وتعليق       الباكستانيون تواقون للتغيير
September 26, 2010

خبر وتعليق   الباكستانيون تواقون للتغيير

في الثاني عشر من آب أفصح ألطاف حسين زعيم "حركة قيوم المتحدة" في اتصال هاتفي من لندن مع مؤتمر "حركة قيوم المتحدة" في كراتشي، أفصح عن سياسة "حركة قيوم المتحدة" وهي الحركة المشاركة في الائتلاف الحكومي فقال: "إنّ حركة قيوم المتحدة تساند أي تحرك من أجل تغيير السياسيين والجنرالات السابقين الفاسدين من قبل الجنرالات الوطنيين الباكستانيين"، وأضاف "أنّ البلاد بحاجة ماسة للتغيير أكثر من حاجة فرنسا للثورة الفرنسية، وبمثل هذه الثورة تنذر حركة قيوم المتحدة النافذين وملاك الأراضي والرأسماليين."

من الجدير ذكره أنّه قبل يوم واحد فقط كان المبعوث الأميركي للشؤون السياسية (القنصل الأمريكي في كراتشي) بريان هنت، قد التقى بألطاف حسين في لندن، وبغض النظر عن مغزى ألطاف حسين من تصريحه فقد أصاب كبد الحقيقة في أنّ عامة الناس في باكستان مشتاقة للتغيير وقد طفح الكأس معهم بسبب غياب الأمن والوضع الاقتصادي والسياسي في باكستان، وأنّ الناس في باكستان على قناعة تامة بما كرره حزب التحرير خلال العقود الماضية من أنّ الديمقراطية والدكتاتورية وجهان لعملة واحدة.


إنّ الحديث عن التغيير أصبح حديث الشارع، وهو ما أجبر رئيس الوزراء على التحدث عن هذا الموضوع ليبدد مشاعر التغيير السياسي حيث قال "إنّ الجيش لا ينوي السيطرة على الحكم ولن يأتي للحكم، إنّ نظام القضاء مستقل وديمقراطي، ولا يوجد ما يهدد الديمقراطية في البلاد حيث جاءت الحكومة المدنية للحكم بعد العديد من التضحيات ونجاحها في انتخابات عام 2008".


لقد وصلت الناس إلى قناعة، يشاطرهم الإعلام فيها، بأنّه ليس المهم كم مرة تجرى انتخابات، لأن نفس الطبقة الحاكمة الفاسدة ستظل تتناوب على البرلمان، فهؤلاء الفاسدون الأغنياء لا يستطيع المواطن العادي مجرد التفكير في منافستهم في خوض الانتخابات ضدهم. فالذي يهيمن على السياسة الانتخابية في باكستان هم زعماء القبائل وملاك الأراضي والعقارات، بينما يسيطر أصحاب المصانع والتجار الكبار في المدن على السياسة الانتخابية، لذلك فإنّ تكرار الانتخابات لن يكسر هذه المعادلة الظالمة ولا حتى بعد مائة عام، كما أنّ الناس أصبحت على قناعة بعد أن تعاقب ثلاثة دكتاتوريين خلال السنين الستين الماضية على حكم

البلاد، بأن الدكتاتورية ليست حلا، أي أنّ الانتخابات والحكم العسكري ليسا خيارا.

إنّ الخيار الذي يتداوله الإعلاميون هذه الأيام هو خيار "الشكل البنغالي" حيث يساند الجيش التكنوقراط والسياسيين النزيهين لإصلاح ما أفسده الحكام الفاسدون، وهذا الشكل من التغيير وصفته الحكومة والمنتفعون من النظام الحالي بأنّه تغيير غير دستوري ودعوا إلى تغيير دستوري، ففي السادس عشر من أيلول حاول رئيس الوزراء ضرب هذا الخيار حيث قال "لقد جئنا من خلال الانتخابات، فنحن شرعيون، وهناك حكومة ائتلافية، وأي تغيير يجب أن يكون من خلال البرلمان، والتكنوقراطية غير مقبولة"، وقد ذكرت المعارضة على لسان نواز شريف نفس وجهة النظر كذلك، فهو ينتظر دوره، إذ يأمل أن يسرق عرش باكستان من خلال اللعبة الانتخابية.

لقد وصل الناس إلى طريقة التغيير الصحيحة من خلال التجربة، وهي أنّ على الجيش إعطاء النصرة لأولئك الذين سيخلّصون هذا المجتمع من السياسيين الفاسدين والجنرالات المتقاعدين. فالناس أصبحوا على قناعة بأنّ التغيير لن يأتي من خلال استلام الجيش مقاليد السلطة ولا من خلال السياسيين الفاسدين الذين يأتون عبر العملية الانتخابية الحالية. إنّ التغيير يجب أن يكون من خارج هذه المعادلة. فعلى الأمة أن تعلم بأنّ على الجيش ليس مساندة الناس النزيهين فقط، بل على الجيش مساندة الناس النزيهين ممن يتبنون نظاما للحكم نزيه. وإذا ما حكم التكنوقراط النزيهون والسياسيون النزيهون بالنظام السياسي الفاسد الذي وضع ليتناسب مع مصالح الرأسماليين، فحينها لن يحصل تغيير ايجابي لصالح الناس، وهذا ما شهدناه في الطراز البنغالي حيث حكم من ادعوا بأنّهم " نزيهون" بنفس النظام الرأسمالي الفاسد، فلم يحصل أي تغيير، وكشّرت الشيخة حسينة عن أنيابها واضطهدت إخواننا البنغاليين.

فعلى الجيش إعطاء النصرة فقط لمن اثبتوا قدرتهم وإخلاصهم على مدار العقود الخمسة الماضية، وعندهم رؤية واضحة للنظام النزيه وهو نظام الإسلام الذي يُعرف بنظام الخلافة.

إنّ طريقة التغيير من خلال أخذ النصرة من أهل القوة قد أثبتت صحتها من سيرة المصطفى محمد صلى الله عليه وسلم، وهي واجبة الإتباع. والحمد لله أنّ الأمة قد وصلت إلى أنّ هذه الطريقة هي الطريقة الصحيحة بعد محاولات عديدة. والخلافة هي التي ستحقق التغيير الحقيقي، فهي لن تطعم الجوعى وتعلم الأمي فحسب، بل وستوحد الأمة الإسلامية ومقدراتها تحت لواء واحد كي تصبح الأمة أقوى أمة على الأرض.


22/9/2010


نفيد بوت
الناطق الرسمي لحزب التحرير في باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست